پاک ایران نہیں صرف ایران گیس پائپ لائن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا آئڈیا ایک پاکستانی انجینئر ملک آفتاب احمد خان کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔ اس معاہدے پر دونوں ملکوں کی طرف سے ابتدائی گفت شنید اور دستخط 1995 میں کیے گئے تھے۔ جس کے مطابق ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے کراچی تک گیس پائپ لائن بچھائی جانا تھی۔ بعد میں ایران کی تجویز پر اس میں بھارت کو بھی شامل کر لیا گیا اور 1999 میں ایران اور بھارت کے درمیان بھی ابتدائی معاہدہ طے پایا۔

2008 میں ایران کی طرف سے اس معاہدے میں چین اور 2010 میں بنگلہ دیش کی شمولیت پر دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ 2013 میں پاکستان اور ایران کے صدور نے پاکستان ایران گیس پائپ لائن کا افتتاح کیا تھا، جسے آئی پی اور ”امن گیس پائپ لائن“ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ ایران کی نیشنل ایرانین آئل کمپنی پاکستان کی سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس پائپ لائن اور روس کی کمپنی گیزپروم اس منصوبے کے تجارتی فریق تھے۔ اس پائپ لائن کی لمبائی دو ہزار سات سو پچھتر کلومیٹر تھی۔

اس منصوبے پر کام کرنے کی بڑی وجہ پاکستان میں توانائی کا بڑھتا ہوا بحران اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی اقتصادی سست روی اور بیروزگاری بھی تھی۔ ایران کا جوہری پروگرام جو ایران کے مطابق پر امن اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نظر میں مبینہ طور پر مذموم مقاصد کے لئے ہے، جس کی وجہ سے ایران کو سخت اقتصادی اور معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے اثرات پورے خطے کو لپیٹ میں لے رہے ہیں اور پاکستان سمیت بھارت بھی اس سے کسی حد تک متاثر ہوا ہے۔

شروع میں بھارت بھی اس معاہدے کا فریق بنا تھا مگر 2009 میں شاید امریکہ کی تنبیہہ پر یا اس کے ساتھ ہونے والی سول نیوکلیئر ڈیل کی وجہ سے اس معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی وجہ بظاہر گیس کی ٹرانزٹ فیس اور اس کا ریٹ بتائے گئے تھے۔ اس کے بعد نواز شریف کے دورِ حکومت میں بھی اس منصوبے پر کام جاری رکھنے اور دسمبر 2014 تک اسے قابلِ عمل بنانے کا اعادہ کیا گیا تھا۔ اس سارے عمل میں پاکستان کو دی گئی کچھ آفرز کی بات بھی واضح کرتے چلیں۔

سب سے پہلے امریکہ جس کی طرف سے 2010 میں پاکستان کو پیشکش کی گئی تھی کہ اگر وہ اس منصوبے سے پیچھے ہٹ جائے تو اسے تاجکستان سے افغانستان کے واخان کوریڈور کے رستے قدرتی مائع گیس اور بجلی حاصل کرنے میں تعاون کیا جائے گا۔ اسی دوران جولائی 2011 میں ایران نے اعلامیہ جاری کر دیا کہ اس نے اپنے حصے کا کام مکمل کر لیا ہے اور اگر پاکستان 2014 کے آخر تک اپنے حصے کا کام مکمل نہیں کرتا تو اسے یومیہ دس لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

2012 میں اسلام آباد سے نام نہ بتانے کی شرط پر کسی سفارتی ذرائع نے خبر دی کہ سعودی عرب نے پاکستان کو ایران کے گیس پائپ لائن منصو بے سے پیچھے ہٹنے پر ادھار رقم اور تیل کی صورت میں ”متبادل پیکج“ دینے کی پیشکش کی تھی۔ یاد رہے کے یہ خبر سعودی نائب وزیرِ خارجہ کے دورۂ اسلام آباد پر سامنے آئی تھی۔ گزشتہ سال کے عمران خان کے سعودی عرب کے دورے اور پھر سعودی ولی عہد کا پاکستان کا دورہ پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور پاکستان کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ادھار تیل دینے اور گودار آئل ریفائنری کا قیام اسی سلسلے کی کڑیاں محسوس ہو رہی ہیں۔

کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیرِ اعظم نے ایران کا دورہ کیا تھا، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف امور پر بات چیت ہوئی تھی اور عین ممکن ہے کہ ایران کی طرف سے اٹھارہ سو کلو میٹر لمبی گیس پائپ لائن پر بات کی گئی ہو گی۔ اپنی طرف کا حصہ ایران مکمل کر چکا ہے اور اب اس کی نظریں پاکستان کی طرف تھیں۔ مگر پاکستان ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کے حوالے سے ہمارے دفترِ خارجہ نے کوئی بریفنگ جاری نہیں کی۔

اب انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز کے مینجنگ ڈائریکٹر مبین صولت کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ پاکستان اس منصوبے پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ جبکہ ایران پاکستان کو فروری میں نوٹس جاری کر چکا ہے کہ اگر منصوبے پر کام نہ کیا گیا تو معاملہ عالمی عدالتِ انصاف میں جائے گا۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اگست تک کا وقت ہے اور امید ہے کے ایران کے ساتھ مذاکرات سے یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کے اگر ہم واقعی منصوبے پر کام ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، تو مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہو گا؟

اس مشکل نے پاکستان کو ایک اہم دوراہے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ وہ اس طرح کے اگر ہم منصوبے پر کام شروع کریں تو ہمیں صاحب بہادر (امریکہ) کی ناراضی اور اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چونکہ امریکہ نے ایران کے خلاف فی الحال اپنا دوسرا بڑا یعنی اقتصادی ناکا بندی کا ہتھیار میدان میں اتارا ہوا ہے۔ اور اس کی طرف سے پوری دنیا اور اس کی کمپنیوں کو واضح پیغام ہے کہ جو بھی ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھے گا اسے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان دنوں جب امریکہ اپنے اصل ہتھیاروں کے ساتھ خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں بیٹھا ایران کو شکاری نظروں سے گھور رہا ہے، کیا ہماری معیشت ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ہم اپنے لیے کسی قسم کی اقتصادی پابندی کی راہ ہموار کریں؟ دوسری صورت میں ایران عالمی عدالتِ انصاف کے دروازے پر دستک دے گا اور اگر فیصلہ غیر جانبدار ہوا تو پاکستان کو شاید اربوں ڈالر ایران کو تاوان ادا کرنا پڑیں۔ کیونکہ وہ اپنے حصے کی نو سو کلو میٹر پائپ لائن مکمل کر چکے ہیں اور پاکستان کے حصے کا کام ابھی باقی ہے۔

اب ساری ذمہ داری دفترِ خارجہ کے کندھوں پر ہے کہ وہ موجودہ حالات میں سفارت کاری کے جوہر کیسے دکھاتے ہیں اور ایران کو فی الحال کیسے اور کب تک انگیج رکھتے ہیں۔ تاوقتیکہ اس مسئلے کا کوئی حل نکلے۔ کیونکہ یہ سارا معاملہ تب تک حل نہیں ہو گا جب تک ایران کی نیو کلئیر ڈیل کا کوئی مستقل حل نکلے اور قرینِ قیاس ہے کہ مستقبل قریب میں یہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ پاکستان ایران تعلقات ایک دفعہ پھر خراب ہونے جا رہے ہیں، کیونکہ ایران سعودی عرب کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور پاکستان کی کی گرم جوشی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے بڑا بھائی (چین) بھی اپنی معاشی مصلحتوں کی وجہ سے شاید ہم سے آنکھ نہیں ملا رہا۔ یا شاید اس حوالے سے ہماری ان کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی اور مشاورت چل رہی ہے۔ اگلے کچھ ماہ تک اس منظر نامے میں بہت کچھ واضح ہونا شروع ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •