طلاق کی وجہ عورت کی عدم برداشت ہے یا شعور؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا واقعی طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ عورت کا پڑھا لکھا ہونا ہے؟
کیا واقعی پڑھی لکھی عورت اس بڑھتے ہوئے مسئلے کی جڑ ہے؟
کیا طلاق کی وجہ صرف عورت کا عدم برداشت ہے؟
کیا عورت کے ساتھ ساتھ مرد کو قصور وار ٹھرایا جا سکتا ہے؟ یہ سارے نزلے کی حق دار عورت ہی ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جو آج کل دماغ میں چل رہے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا پہ جاری بحث کے مطابق یہ تعلیم کا کرشمہ ہے کہ عورت اپنا گھر نہیں بسا پا رہی ہے۔ پہلے میں اس بات کی وضاحت کرتی چلوں کہ گھر سے مراد وہ گھر ہے جس میں بھیجتے ہوئے ماں باپ بیٹیوں سے کہتے ہیں کہ اس گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی واپس آنا چاہیے۔ بیٹی جب یہ الفاظ سنتی ہے تو پھر خود سے یہ عہد کر لیتی ہے کہ چونکہ معاملہ باپ کی عزت کا ہے تو اب واقعی اس کے سسرال سے اس کا جنازہ ہی آئے گا۔

شوہر محبت کرنے والا اور با شعور ہو تو عورت کی زندگی پرسکون ہو جاتی ہے لیکن اگر شوہر ہی گھٹیا نکلے تو پھر زندگی عذاب بن جاتی ہے۔ اب اس گھر میں اُس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جائیں یا کتنا ہی غیر انسانی سلوک روا رکھا جائے وہ ستم سہنے پر مجبور ہے کیونکہ واپسی کا اس کے پاس رستہ تو ہے ٹھکانہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی اتنی ہمت ہی ہے کہ ظلم کے خلاف شکایت ہی کر سکے۔ یہی درد دل میں لئے جب یہ عورت مر جاتی ہے تو اچھی بیٹی کہلاتی ہے اور کوئی خوش نصیب عورت اچھی بیوی کا رتبہ بھی پا لیتی ہے۔

ایسی عورت وفا شعاری کانمونہ سمجھی جاتی ہے اور اس کے ارد گرد کی عورتوں کو اس جیسا بننے کی تلقین کی جاتی ہے۔ عورت کی بے بسی، مجبوری اور مظلومیت کو وفا شعاری کا نام دے دیا گیا اور ایسا کرنے والی عورتوں نے نہ صرف اپنے اوپر ظلم کیا بلکہ ہر اس عورت پر ظلم کیا جن کے لئے وہ با وفا کا رول ماڈل بنی رہی۔ شوہر سے پٹنے والی عورت جب چپ چاپ اپنا فریضہ سمجھ کہ مار کھا رہی ہوتی ہے تو مظلوم نہیں ظالم کا ساتھ دے رہی ہوتی ہے۔

سب سے بڑی وجہ جو ناروا سلوک کو برداشت کرنے کی ہے وہ یہ خوف ہے کہ میں اس مرد کو چھوڑ کر اور جاؤں گی بھی کہاں؟ میرے ماں باپ مجھے کب تک رکھیں گے؟ میرے بھائی کیسے مجھے کھلائیں پلائیں گے؟ چلو جیسا بھی ہے میرا آسرا تو ہے؟ بیشک مجھے اس گھر میں جانور سے بھی کم عزت اور محبت مل رہی ہے تو کیا ہوا دو وقت کی روٹی تو مل رہی ہے۔ یہی بہت ہے۔ یہ وہ مجبوری ہے جو عورت کے ہونٹوں پے قفل ڈال دیتی ہے، یہی وہ مجبوری ہے جس کی وجہ سے وہ ایک ان چاہے رشتے میں بندھی رہتی ہے۔

لیکن ایسی عورت جو معاشی پریشانی سے آزاد ہے وہ اپنی عزت نفس پر اور اور اپنے بنیادی انسانی حقوق پہ جو عورت ہونے کے ناتے اسے اللہ‎ نے دیے ہیں اُن پر ایک حد تک تو سمجھوتہ کرتی ہے لیکن جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو سمجھوتہ کرنے کو اپنی ذات کے ساتھ ظلم سمجھتی ہے۔ اور ایسا سوچنے میں عورت آزاد ہوتی ہے۔ معاشی خود مختاری عورت کو طاقت دیتی ہے، اتنی طاقت کہ وہ دو وقت کی روٹی کے لئے جانوروں سے بدتر زندگی نہ گزارے۔

اور جب یہی عورت مرد کے جارحانہ رویہ کو چیلنج کرتی ہے تو یہی عورت مجرم قرار دے دی جاتی ہے۔ اُسے گھر ٹوٹنے کی وجہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اُس کی تعلیم کو اور اُس کے شعور کو وجہ ٹھرا کر اُس کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ مرد جب بے بس ہو جاتا ہے اور اپنی مردانگی سے کسی عورت کو زیر نہیں کر سکتا تو وہ بات اُس کے لئے نا قابلِ برداشت ہوتی ہے۔ پھر مرد یہ غصہ عورت کی کردار کشی کر کے نکالتا ہے۔ کسی بھی طلاق شدہ جوڑے کی طلاق کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کرو تو وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ عورت زبان دراز تھی، بدتمیز تھی، آوارہ تھی، بد کردار تھی اور نہ جانے کیا کیا۔

کبھی کسی نہ کہا عورت با شعور تھی اِس لئے جاہل آدمی کے ساتھ گزارہ نہیں کر سکی۔ کبھی کسی نے کہا کہ مار پیٹ کو وہ اپنا فریضہ نہیں سمجھتی تھی اس لئے بغاوت کر گئی۔ کبھی کسی نہ کہا کہ شوہر کی بد تمیزی اور جاہلانہ رویہ کی وجہ سے گھر سے چلی گئی۔ آخر طلاق کا ملبہ عورت پہ ہی کیوں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور وہ جاہل جو یہ کہتے ہیں کہ پڑھی لکھی عورت میں عدم برداشت ہوتا ہے جو کہ طلاق کی وجہ ہے تو یہ سراسر غلط ہے، پڑھی لکھی عورت میں عدم برداشت نہیں شعور ہوتا ہے، اپنے حقوق کا شعور، جو اُسے اپنی ذات کی تذلیل کی اجازت نہیں دیتا۔

اور اگر عدم برداشت ہی طلاق کی وجہ ہے تو یہ عدم برداشت کیا مردوں میں نہیں ہے جو کھانے میں نمک زیادہ ہونے سے عورتوں کو پیٹنے لگ جاتے ہیں۔ گالی گلوچ اور کتنے ہی نازیبا الفاظ جو روح پر تازیانوں کی صورت میں لگتے ہیں، ایسے جاہل مرد عورت کو سنانا اپنا فرض سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ پر میں نے کبھی کسی کو کہتے ہوئے نہیں سنا کہ سنبھل کے بولو حکم ہے کہ عورتوں کے معاملے میں اللہ‎ سے ڈرو۔ یا یہ کہ بیوی ہے تمہاری، عزت کرو اسکی۔ یہ تمہارے بچوں کی ماں ہے شفقت سے پیش آؤ۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ گھر صرف محبت اور شفقت سے بسائے جاتے ہیں۔ کسی ایک کو موردِ الزام ٹھرا کر یا ایک کو مظلوم بنا کر گھر نہیں بستے۔ اللہ‎ نے مرد کو طاقت دی ہے، حکمت دی ہے تاکہ وہ اپنی عورت کی کمزوریوں پہ پردہ ڈال سکے، نہ کہ اپنی طاقت کا عملی مظاہرہ عورت کو ذلیل کر کے کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •