حضرت اویس قرنیؓ، مقام و مرتبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو رسالت مآبۖ کے ساتھ حضرات صحابہ میں سے ہر ایک کی محبت اور عقیدت دیدنی ہوتی تھی۔ لیکن آپۖ کے ساتھ جس تابعی کی فرط محبت پر صحابہ کرام کوبھی رشک آتاتھا، وہ تاریخ میں اویس قرنی کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کاپورانام اویس بن عامراور کنیت ابوعمرو تھا اوریمن کے مشہورعلاقے قرن میں 583 ء کو پیداہوئے۔ رسالت مآب ۖ کامبارک زمانہ پانے کے باوجود اویس قرنی دیدارنبی ۖسے مشرف نہ ہوسکے۔ مورخین اویس قرنی کی اس محرومی کی دو وجوہات بتاتے ہیں۔

پہلی وجہ یہ کہ نبی ۖ کی زیارت کرنے میں اویس قرنی کو اپنی والدہ کی علالت اور بڑھاپا آڑے آرہاتھا۔ دوسری وجہ یہ کہ گھر کی معاشی ضروریات پورا کرنے میں اویس اکیلے تھے۔ شتربانی کے پیشے سے منسلک تھے جس کی وجہ سے وہ آخر وقت رک زیارت ِ نبی سے محروم رہے۔ اپنی وصال سے قبل سرکار دوعالمۖ نے حضرت عمر اور حضرت علی کو یہ وصیت فرمائی کہ ”میرا خرقہ اویس قرنی کے پاس لے جانا اور ان پرمیرا سلام کہہ کر میری امت کے لئے ان سے دعا طلب کرنا، کیونکہ اُن کی دعا میری امت کے حق میں مقبول ہوگی۔

آپۖ نے ان سے یہ بھی کہاکہ جب آپ یمن جاوگے تو اویس کو شتربانوں کے درمیان بیٹھا پاوگے ”۔ رسول اللہۖ کی وصال کے بعد حضرت عمر اور علی قبیلہ قرن گئے اور لوگوں سے حضرت اویس کے بارے میں دریافت کیا۔ ان کو کہاگیاکہ“ ہاں ایک دیوانہ آدمی ہم لوگوں سے پَرے زندگی بسر کرتا ہے اور وادی عُرنہ میں شتربانی کرتاہے۔ اپنے وقت کے یہ دونوں کبار صحابہ جب وادی عرنہ میں پہنچے تو اویس کو نماز میں مشغول پایا۔ سجدے سے سر اٹھا نے کے بعدان دوصحابہ نے ان پر آقاۖ کا سلام پیش کیا، جواب میں اویس نے ”وعلیکم السلام یا اصحاب رسول اللہ ۖ“ کہا۔

پھریہ دونوں اصحاب اویس کے سامنے بیٹھ گئے، سروردوعالم ۖ کا خرقہ مبارک پیش کیا اور امت کے لئے ان دعائے مغفرت طلب کی۔ آپ نے آقائے نامدار ۖ کا خرقہ اٹھایا، چوما اور سربسجود ہوکر روتے ہوئے یہ کہنے لگے ”اے اللہ تیرے محبوب ۖ کا خرقہ اس وقت تک نہیں پہنوں گا جب تک امت محمدیہ نہ بخشی جائے۔ غیب سے صدا آئی کہ آپ کی التجاء سے امت محمدیہ ۖ کے اتنے لوگ بخش دیے گئے جتنی تعداد میں بنی ربیع اور بنی مضر کی بکریوں کے بدنوں کے بال ہیں ( تذکرة الاولیا) ۔

یاد رہے کہ بنی ربیع اور بنی مضر عرب کے دو ایسے قبیلے تھے جو کوفہ میں لاتعداد بکریوں کے مالک تھے اوریہ بھیڑ بکریاں اپنے بالوں کی کثرت کی وجہ سے سارے عرب میں مشہورتھے۔ مشہور تابعی ہرم ابن حبان فرماتے ہیں کہ حضرت اویس قرنی کا احوال سن کر ان سے ملاقات کی غرض سے میں نے کوفہ جانے کاقصد کیا۔ وہاں کوفہ میں مَیں اویس قرنی دریائے فرات کے کنارے وضو کرتے ہوئے پایا اور سلام کیا۔ جواب میں آپ نے وعلیکم السلام کہا۔

دست بوسی کے ارادے سے میں ان کی طرف بڑھنے لگا تو انہوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ پھر پوچھا کہ ”اے ابن حبان! اللہ تعالیٰ تجھے لمبی عمر دے، یہاں کیسے آنا ہوا؟ ہرم کہتے ہیں کہ میں نے کہا“ اللہ نے مجھے تیرے بارے میں خبردی ہے، یوں میں آپ کے زیرسایہ چند دن گزارنا چاہتاہوں۔ ابن حبان لکھتے ہیں کہ یہ سن کر آپ نے مجھے منع کیا اور کہاکہ جاؤ اللہ تعالیٰ کے سائے میں رہو ”۔ واپسی پرمیں نے ان سے ایک نصیحت کرنے کی درخواست کی تو فرمایا کہ“ جب سونے لگوتو موت کو اپنے سرہانے خیال کرو، جب اٹھو تواسے اپنے سامنے کھڑی پاؤ اور کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے والد کوبھی موت آئی؟

حضرت آدم وحوا، ابراہیم، موسیٰ، آقائے نامدارۖ اورابوبکروعمربھی اسی موت کے ہاتھوں اللہ تعالی کے ہاں پہنچے ہیں۔ ابن حبان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق کی موت کے بارے میں سن کر میں نے پوچھا ”کیا امیر المومنین حضرت عمر فاروق بھی رحلت فرماگئے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ حضرت عمر شہید کردیئے گئے ہیں“۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ بعد میں جب ہم مدینہ پہنچے تو حضرت عمر فاروق کی شہادت کی تصدیق ہوگئی ”۔

بلند مقام ومرتبے کی بناء پر اگرچہ امام شعرانی جیسے لوگوں نے بھی حضرت اویس قرنی کو اصحاب رسول میں شامل کیا ہے لیکن علماء نے امام شعرانی کے اس قول کورد کیاہے کیونکہ حقیقت میں جمہور کے مذہب کے مطابق حضرت اویس قرنی تابعی ہیں اور افضل التابعین مانے جاتے ہیں۔ ان کی فضیلت کی دیگر وجوہ کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ کے بارے میں رسول اللہ ۖ سے بڑی صراحت کے ساتھ فضائل اور کمالات منصوص ہیں جو دوسرے تابعین حضرات کے بارے میں بہت کم ہیں۔

اکثر مورخین نے حضرت اویس قرنی کا بارگاہ رسالت میں حاضر ی نہ دینے کاسبب اپنی والدہ کی خدمت سے فرصت نہ ملنے کو قرار دیا ہے۔ امام مسلم نے صحیح مسلم میں ”فضائل اویس قرنی“ میں یہ حدیث نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے اپنے اصحاب سے فرمایا ”بے شک ایک شخص تمہارے پاس یمن سے آئے گا، ان کانام اویس ہوگا، یمن میں صرف اسے ان کی ماں کی خدمت روکے ہوئے ہے“۔ مولانائے روم نے بھی اپنی مثنوی میں اویس قرنی کی والدہ کو ولیہ کہاہے اور لکھاہے کہ وہ اپنے بیٹے کوفرمایا کرتی تھیں کہ تیرے حق میں یہی بہتر ہے کہ میری خدمت میں اپنی زندگی گزار دے”۔

مثنوی ہی کے مطابق ”پیارے آقاۖ نے ایک دن حضرت عائشہ سے فرمایا کہ خدا کے خاص بندوں میں سے ایک شخص ہمارے گھر آئے گا، اگر میں اتفاقاً گھر پرحاضر نہ ہو تو تم اس نیک مہمان کی خوب خاطر تواضع کرنا، ان کو میرے آنے تک عزت کے ساتھ بٹھانا۔ لیکن اگر وہ میرا انتظار نہ کرسکے تو اُن کا حلیہ ضرور یاد رکھنا کیونکہ اُن کی زیارت کرنے اور حلیہ یاد رکھنے میں سعادت اُخروی ہے۔ چنانچہ ایک روز اویس قرنی اتفاقاً خانہ رسول ۖ میں وارد ہوئے، آقاۖ کے بارے میں پوچھا، حضرت عائشہ نے بتایا کہ آپ ۖ گھر پر موجود نہیں۔

یہ سن کر اویس قرنی واپس ہوئے اور کہا کہ پیارے آقاۖ کو میرا سلام کہنا۔

آپۖ جب گھر تشریف لائے توحضرت عائشہ نے اویس قرنی کی تشریف آوری سے آپ ۖکو آگاہ کرکے ان کا سلام بھی پہنچایا اور ان کا حلیہ بھی آپ ۖ کے سامنے بیان کیا۔ اویس قرنی کے بارے میں کہا جاتاہے کہ آپ برص کے مرض میں بھی مبتلا تھے جس سے بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں شفادی، لیکن آپ کے بدن پر درہم کے برابر اس مرض کا نشان رہ گیاتھا جو آپ کی نشانی تھی۔

آپ کی انتقال کے بارے میں مورخین اور علماء کا اختلاف ہے لیکن راجح قول یہ ہے کہ اپنی والدہ کی انتقال کے بعد آپ حجازگئے اور جنگ صفین میں حضرت علی کی حمایت میں لڑتے ہوئے 37 ہجری کو شہید ہوئے تھے۔

اویس قرنی کا مزارِاطہر شام کے مشہور شہر ”الرقہ“ میں واقع ہے جو چودہ سو سال سے مرجع خلائق بناہواہے۔ آپ کے مزار پربہت پہلے ایک عالیشان مسجد بھی تعمیر ہوئی لیکن بدقسمتی سے 2013 کوداعش کے خونخوار جنگجووں کی بمباری سے آپ کا مزار اور مسجد دونوں تباہ ہوئے تھے تاہم آپ کی قبرآج بھی موجود ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •