زمانہ قدیم اور جدید ٹیکنولوجی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے۔ سائنس اس عملی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ موبائیل فون سے لے کر ٹیلی ویژن۔ بجلی۔ گیس۔ چولہا۔ ماچش کی ڈبی تک جو ہر گھر میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ سب سائنس کی ایجادات ہیں۔ ہم آج کل ہر طرح کی انفارمیشن کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ سائنس سے ہمارے ہزاروں اختلافات بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ اختلافات ہم مذہبی بنیادوں پر کرتے ہیں۔ کیونکہ مسلمان مذہب سے ہٹ کر سائنس کو ٹھکرا نہیں سکتا۔ ٹھکرانے کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کل ہمارے ملک میں جو مسئلہ اس وقت چل رہا ہے۔ وہ رمضان اور عید کے چاند دیکھنے کا ہے۔ فواد چوہدری صاحب کی ایک تجویز سامنے آئی۔ کہ ہمیں اس معاملے میں بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کا سہارا لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قمری کیلینڈر بنوایا جا سکتا ہے۔ جو اس مسئلے کا حل ہو سکتا ہے۔ ڈائریکٹر محمکہ موسمیات نے اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا۔ کہ قمری کیلینڈر واقعی اس مسئلے کا حل ہے۔ وہ پوری طرح سو فیصد درست ہو گا۔

فواد چوہدری کی تجویز پر مفتی منیب الرحمن نے فرمایا کہ۔ دینی معاملات میں بات چیت سے ہر حیز کرنا چاہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہاں رویِت کا مسئلہ ہے۔ جب تک انسانی آنکھ سے نا دیکھ لیا جائے۔ ہم روزہ اور عید کیسے منا سکتے ہیں؟ ۔ ان کی بات بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے۔ ہم دوسرے معاملات میں اس زمانے کی پیروی کر رہے ہیں۔ جب سورج اور سائے کو دیکھ کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ نہیں جناب آج تو مولوی صاحب ہاتھ پر بندھی گھڑی کے مطابق جماعت کرواتے ہیں۔ جب رابطوں کے لیے خط لکھا کرتے ہیں۔ آج تو مولوی صاحب آئی فون استعمال کرتے ہیں۔ سواری کے لیے گھوڑوں کا استعمال ہوتا تھا۔ آج علامہ صاحبان کاریں استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مطلب وقت اور دور کے حساب سے تو طریقوں میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔

جاوید غامدی معروف مذہبی اسکالر وہ بھی قمری کیلینڈر کی تجویز دے چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ۔ رمضان کا مہینہ کب شروع ہوتا ہے۔ کب ختم اسے سائنسدانوں پر چھوڑ دو۔ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ مذہبی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری بھی اس بات کی تائید کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا۔ کہ منہاج القران نے 1980 سے قمری کیلینڈر آغاز کیا۔ جو 2010 میں ختم ہوا۔ یہاں کسی نے اسے کوریج ہی نہیں دی۔ انہوں نے حدیث میں رویِت لفظ کا مطلب بھی واضح کیا۔ کہ اس لفظ کا مطلب آنکھ سے دیکھنا۔ خواب اور علم میں لانا بھی ہے۔ اگر سائنسی طریقہ سے علم میں بھی آ جائے۔ تو یہ حدیث پر عمل ہو گا۔ اس کی مخالفت نہیں ہو گی۔

جس کو مفتی منیب رویِت کہتے ہیں۔ اس رویِت کے اعتبار سے مفتی پوپلزئی کو مفتی منیب سے ایک دن پہلے چاند نظر آ جاتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے اختلاف کرنے والے مفتی صاحب چاند تو دوربین سے دیکھتے ہیں۔ جو مولوی ستر سال کا ہو جاتا ہے۔ اسے رویِت حلال کمیٹی میں ڈال دیتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ قیام پاکستان سے خریدی گئی زنگ آلود دوربین سے جان چھڑانی چاہے۔ زمانہ قدیم کو زمانہ جدید سے بدلا جائے۔ اس سے علماء کی توہین نہیں ہو گی۔ بلکہ عزت میں اضافہ ہوگا کہ اسلام کتنا آسان دین ہے۔ ورنہ ماضی میں بہت سارے مسئلوں پر فتوے دے کر یو ٹرن لیے گئے۔

حسن نثار صاحب کہتے ہیں۔ کہ تصویر جو حرام تھی۔ آج سارے مولوی ٹی وی پر نظر آتے ہیں۔ 1450 میں جرمنی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا۔ جو یورپ میں وائرس کی طرح پھیل گیا۔ ترکی میں مُلاؤں اور شیخ الاسلام کے ایک فتوے نے ترکی میں پرنٹنگ پریس پر کو حرام اور غیر اسلامی قرار دے کر پابندی لگا دی۔ اڑھائی سو سال ترکی میں پرنٹنگ پریس بین رہا۔ اور یورپ ہم سے اڑھائی سو سال اگے نکل گیا۔ یہاں تو مولوی کہتے ہیں۔ جسے جنت چاہے۔ وہ دینی تعلیم حاصل کرے۔ اور جسے دوزخ چاہے۔ وہ سائنس پڑھ لے۔ یہ بلیک میلنگ نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ ان پڑھ اور کچھ پڑھے لکھے لوگوں کا برین واش کرتے ہیں۔

فواد چوہدری نے ایک سوال کا بڑا زبردست جواب دیا کہ۔ ”یہ ملک مولویوں نے نہیں اس ملک کے نوجوانوں نے چلانا ہے“۔ مولویوں کا کام دین کی تبلیغ اور غلطی پر ہماری رہنمائی کرنا ہے۔ نا کہ ملک چلانا۔ ہمارے ملک میں ہر جگہ ایک طبقہ بیٹھا ہوا ہے۔ ان میں ایک طبقہ ان علماء۔ شیخ الاسلام۔ مولوی۔ مُلاؤں کا ہے۔ جو ترقی اور ٹیکنالوجی کی راہ میں رکاوٹ بنا بیٹھا ہے۔ ہم ہر دفعہ اس سے مذہبی طور پر بلیک میل ہو جاتے ہیں۔ جو قومیں بلیک میل ہوتی رہتی ہیں۔ غلامی ہمیشہ ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •