یہ تصویر نہیں، دہشت کی کہانی ہے


\"syrian-kid-1\"شام کے شہر حلب کی ایک تباہ شدہ عمارت سے بچائے گئے ایک بچے کی تصویر نے اس وقت پوری دنیا کو ہلا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس تصویر نے ایک بار پھرعالمی ضمیر کے سامنے یہ سوال لا کھڑا کیا ہے کہ کیا اس بچے کو اس حال تک پہنچانے والا وہ بم ہی تھا جس نے اس عمارت کو تباہ کردیا جہاں اتفاق یا بدنصیبی سے یہ بچہ بھی اپنے اہل خاندان کے ساتھ موجود تھا۔ یا اس صورت حال کی ذمہ داری ان سب لوگوں ، عناصر، ہمسایہ ملکوں، بڑی طاقتوں اور بڑے فیصلوں میں چھوٹے بچوں کو نظر انداز کرنے والوں پر عائد ہوتی ہے جو جنگ مسلط کرتے ہوئے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ اس کے نتیجے میں تباہی آئے گی، لوگ مریں گے اور ایک بچہ کبھی وحشت زدہ نظروں سے پوری دنیا کی آنکھوں میں جھانکے گا ور کہے بغیر پوچھے گا: ’ میرا قصور کیا تھا‘۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بھی ایک باپ ہوں لیکن اس بچے کا کرب جاننے کے لئے باپ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس بچے کی تصویر بتا رہی ہے کہ اس نے جنگ ہی میں آنکھ کھولی اور اپنی پانچ سال کی مختصر زندگی میں جنگ، تباہی، موت اور غربت کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ انہوں نے بجا طور سے کہا کہ یہ شام کے حالات کی حقیقی تصویر ہے۔ لیکن جان کربی کی طرح امریکہ ، برطانیہ اور مغربی ممالک میں اس تصویر پر رد عمل ظاہر کرنے والے، افسوس کا اظہار کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ وہ سب اپنی اپنی حقیقتوں کے اسیر لوگ ہیں جو حالات و واقعات کو اسی عینک سے دیکھ سکتے ہیں جو انہیں ان کا میڈیا یا حکومتیں فراہم کرتی ہیں۔ لیکن امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان بہر حال ایک سپر پاور کے نمائیندے ہیں جو شام کی خانہ جنگی میں اپنے منفی کردار کو جھٹلا نہیں سکتی۔

پانچ سالہ عمران داغنیش کی یہ تصویر امدادی کارکنوں نے ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے اس بچے کو خستہ حالت میں نکالنے کے بعد ایمبولنس میں بٹھانے کے بعد لی تھی۔ اس تصویر کو شام کے صدر بشار الاسد کی سرکاری فوجوں کے خلاف برسر پیکار باغی گروہوں کے میڈیا سیل نے اپنی جنگ کے لئے عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے جاری کیا ہے۔ یہ جنگ جس علاقے میں لڑی جا رہی ہے ، وہاں کسی دہشت گرد گروہ کا کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔

شام کا سب سے بڑا شہر حلب جنگ سے پہلے پچیس لاکھ لوگوں کا مسکن تھا اور اپنے تاریخی ورثے ، روایات اور ثقافت کی وجہ سے مشہور تھا۔ بشار الاسد کو اقتدار سے محروم کرنے کی کوشش میں شام میں مسلح جد و جہد کا آغاز کیا گیا۔ اس عمل میں کون سا ملک کس حد تک ملوث تھا اور بدستور اسے جاری رکھنے کا خواہاں ہے ، یہ حقائق اب پوری دنیا کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ گزشتہ ستمبر سے دمشق کو روس کی حمایت کے بعد سے سرکاری فوجوں نے اپنے کھوئے ہوئے علاقے واگزار کروانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں حلب میں جنگ کی شدت میں اضافہ ہؤا ہے ۔ دو ہفتے قبل باغی گروہ سرکاری تسلط سے کچھ مزید علاقہ ہتھیانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ سرکاری فضائیہ اب ان علاقوں پر قبضہ بحال کرنے کے لئے بمباری کررہی ہے۔

ہر جنگ کی طرح اس بمباری کا نشانہ شہری بھی بن رہے ہیں۔ پانچ سالہ عمران داغلیش بھی ان میں سے ایک ہے۔ اسے نہیں پتہ کہ اسے کس جرم کی سزا ملی ہے، وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کے ماں باپ ، بہن بھائیوں کا کیا بنا۔ جب امدادی کارکنوں نے اسے ملبے سے نکالا اور محفوظ ایمبولنس کی آرام دہ نشست پر بٹھایا تو اسے یہ احساس بھی نہیں تھا کہ وہ شدید زخمی ہے اور وہ سر پر ہاتھ پھیر کر جو مائع صاف کرنے کی کوشش کررہا تھا، وہ پسینہ نہیں ، اس کا خون تھا۔ وہ زخمی تھا۔ اس کا چہرہ اور جسم خون اور غبار سے اٹے ہوئے تھے۔ اسے علاج کی ضرورت تھی۔ لیکن تصویر میں دکھنے والا یہ بچہ ان سب باتوں سے بے خبر ہے۔ جان کربی درست کہتے ہیں کہ یہ شام کی حقیقی تصویر ہے۔

سوال صرف یہ ہے کہ پانچ برس تک خانہ جنگی میں گھرے اس خطے میں جنگ مسلط کرنے والے مختلف کردار اور طاقتیں کیا اب اس المیہ کو سمجھ چکی ہیں اور حالات تبدیل کرنے کے لئے کوئی مثبت اقدام کیا جائے گا۔ کیا اب جنگ بند کروا دی جائے گی تاکہ اور بہت سے معصوم بچوں کو جنگ کی دہشت اور تباہی سے بچایا جا سکے۔

گزشتہ برس تین سالہ ایلان کردی کی لاش نے اسی طرح عالمی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ لیکن چند دن سوشل میڈیا پر بے چین رہنے کے بعد سب لوگ مطمئن ہو گئے ۔ ایلان کردی جیسے بچوں کی قربانی دیتے ، سمندر کی بے رحم لہروں سے لڑتے ، حفاظت اور زندگی کی خواہش لئے یورپ پہنچنے والے لاکھوں پناہ گزینوں کو مسترد کرنے کی کوششیں اتنی ہی تیز کردی گئی تھیں۔ ترکی کے ساتھ معاہدہ کے نتیجے میں سمندر پار کرکے یونان پہنچنے والے جنگ زدہ تباہ حالوں کو روزانہ ترکی واپس بھیجا جا رہا ہے۔

مغرب کا ضمیر تو بیدار ہے لیکن اس کا فلاحی نظام ان بدحالوں کو روٹی ، کپڑا اور مکان دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان کے آنے سے یورپ کی ثقافت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان لوگوں کو جو ’دہشت گردوں ‘ کے دیس سے آئے ہیں، یہاں آباد کرنے کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔ لیکن کیا یہ ملک شام میں جنگ بند کروانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا حوصلہ کر سکتے ہیں۔ تاکہ انہیں اپنا وطن چھوڑ کر دربدر نہ ہونا پڑے۔ کیا دنیا کے سارے ملک جنگ میں مصروف گروہوں کو ہتھیار دینے سے انکار کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں تاکہ انسانوں کا خون بہنا بند ہو۔ تاکہ کوئی نیا ایلان کردی، عمران داغنیش ۔۔۔۔ ہر تھوڑے عرصے بعد ہمارے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے سامنے نہ آجائے ۔ یا پھر انسانیت اور ضمیر کی باتیں بند کی جائیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali