دو دریاؤں اور تین پہاڑوں سے ملاقات


نانگا پربت کا خوب اچھی طرح مشاہدہ کر کے ہم آگے بڑھے۔ ہمارا تجزیہ ہے کہ نانگا پربت پر چڑھنا کافی مشکل ہے۔ یہ پہاڑ سڑک سے غالباً پچیس تیس کلومیٹر دور تو ہو گا اور اتنا پیدل چلنا آسان کام نہیں ہے اور بہت حوصلے والے ہی اتنا چل کر نانگا پربت کو سر کر سکتے ہیں۔

\"DSC_2555\"

سڑک نہایت ہموار تھی۔ اونچائی اترائی نہیں تھِی ہاں ارد گرد پہاڑ وغیرہ کافی تھے جن میں سے اکا دکا کی چوٹی پر برف بھی دکھائی دینے لگی تھی۔ سڑک پر ویرانی چھائی تھی کہ سامنے سے ایک سائیکل سوار آتا دکھائی دیا۔ ہم نے کافی غور کیا کہ معلوم ہو کہ وہ مرد ہے یا عورت، مگر تحقیق نہ ہو پایا کہ وہ نقاب پوش ہستی تھی۔ ہمیں اس کی حالت پر رحم آیا کہ بچارہ کسی آبادی تک جانا چاہتا ہے اور اس کے پاس بس کا کرایہ تک نہیں ہے تو مجبوراً سائیکل لے کر ہی سینکڑوں میل کا سفر طے کرنے نکل کھڑا ہوا ہے۔ کچھ غور کیا تو یہ کوئی گورا تھا۔ یعنی یہ غریب ہزاروں میل کا سفر اپنی سائیکل پر طے کرنے پر مجبور تھا۔ خیر اس کے رزق کی فراخی کے لیے دعا کی۔

کچھ آگے چلے تو جگلوٹ نامی ایک قصبہ آیا جہاں ٹھنڈا پانی اور آئس کریم ارزاں نرخوں پر دستیاب تھی۔ اس سے کچھ ہی آگے ایک جگہ رفیق نے گاڑی روک دی اور اعلان کیا کہ یہ کمال کا ویو پوائنٹ ہے۔ سخت گرمی پڑ رہی تھی اور دھوپ خوب جلا رہی تھی مگر محض اس کا دل رکھنے کو ہم وہاں اترے۔

\"Jaglot\"

دیکھا تو چاروں طرف پہاڑ تھے، نیچے دو دریا آپس میں مل رہے تھے، اور سڑک کے کنارے ایک چبوترہ بنا ہوا تھا جس پر سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچے تو ایک کتبہ دکھائی دیا جس پر تحریر تھا کہ یہاں کوہ ہمالیہ، کوہ قراقرم اور کوہ ہندوکش کے سلسلے آپس میں مل رہے ہیں اور نیچے دریائے سندھ اور دریائے گلگت بھی آپس میں مل رہے ہیں۔ اس اکٹھ میں ہم بھی شامل ہو گئے اور کوہ ہمالیہ، کوہ قراقرم، کوہ ہندوکش، دریائے سندھ اور دریائے گلگت سے ملے۔

ہمارے عقب میں نانگا پربت تھا، دائیں طرف کوہ ہمالیہ، سامنے کوہ قراقرم اور بائیں طرف کوہ ہندوکش۔ ہم نے کافی غور کیا مگر یہ سارے پہاڑی سلسلے ایک جیسے ہی دکھائی دیے۔ کچھ سمجھ نہیں آیا کہ ان کو الگ الگ نام کیوں دیے گئے ہیں۔ شاید اس کا مقصد صرف جغرافیے کے مضمون میں بچے فیل کرنا ہی ہو گا۔

\"IMG_5466b\"

نیچے نظر دوڑائی تو ایک چھوٹا سا دریا ایک بڑے سے دریا میں مل رہا تھا۔ ہم سمجھ گئے کہ چھوٹا دریا گلگت اور بڑا سندھ ہے۔ چھوٹا دریا سڑک سے ہٹ کر دائیں طرف مڑ رہا تھا اور اس طرف سکردو لکھا تھا۔ بڑا دریا شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ ہمیں حیرت ہوئی کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہاں سے دریائے سندھ اور شاہراہ قراقرم کا ساتھ چھوٹ جاتا ہے۔ کتبے پر غور کیا تو علم ہوا کہ بڑا دریا گلگت تھا۔

ہماری رائے میں تو اس علاقے میں سکھا شاہی کی وجہ سے ہی یہ غلط روایت پڑی ہے کہ جب بھی کوئی بڑا دریا کسی چھوٹے دریا میں شامل ہوتا ہے، تو چھوٹے دریا کا نام اسے دے دیا جاتا ہے۔ پتہ چلا کہ کوئی دریائے شیوک ہے، وہ بھی جس مقام پر دریائے سندھ سے ملتا ہے، ادھر وہ بہت بڑا اور سندھ چھوٹا سا ہے، لیکن ملنے کے بعد وہ سندھ ہی کہلاتا ہے، شیوک نہیں۔ یہی معاملہ ہم نے اس جگہ دیکھا جہاں بڑا دریائے ہنزہ چھوٹے دریائے گلگت میں ملتا ہے اور اس کا نام دریائے گلگت رکھ دیا جاتا ہے۔ بہرحال ملک ملک کا رواج ہے صاحب، ہم اس پر کیا تبصرہ کریں۔

\"DSC_2695\"

جگلوٹ سے کچھ آگے چلے تو گھنٹے بھر میں گلگت آ گیا۔ شہر کے باہر ہی بائی پاس پر چینی زبان میں چوک پر ایک یادگار ہے جس پر چینی زبان میں لکھا ہوا ہے۔ آپ کو چینی نہیں آتی ہو گی اس لیے اس کے ترجمے کے لیے آپ ہمارے محتاج ہوں گے۔ بہرحال اس پر کچھ یوں لکھا ہوا ہے۔

قراقرم ہائے وے امپروومنٹ پراجیکٹ، رائے کوٹ سے خنجراب سیکشن (335 کلومیٹر)۔ یہ سیکشن چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیرنگرانی تعمیر کیا ہے۔ یہ سیکشن پاکستان اور چین کی سرد و گرم چشیدہ دوستی اور بھائی چارے کی علامت ہے۔ یادگار کے دوسری طرف انگریزی زبان میں بھِی یہی لکھا ہے۔ اگر آپ کو چینی نہیں آتی ہے اور ہمارے ترجمے پر اعتبار نہیں ہے تو انگریزی میں خود پڑھ لیں۔

\"DSC_2746\"

اس سے آگے چلے تو کچھ عجیب و غریب سے پہاڑ دکھائی دیے۔ یہ نہایت بلند پہاڑ ریت کے بنے ہوئے ہیں اور اوپر غالباً پتھر کی باریک سی پرت ہے۔ ہم ہمیشہ حیران ہوتے تھے کہ یہ دریا وغیرہ اتنی ریت کہاں سے لاتے ہیں۔ یہ پہاڑ دیکھ کر معلوم ہوا کہ پورا شمالی پاکستان ایسے ہی ریتلے پہاڑوں پر مشتمل ہے جن کی اوپری پرت غالباً شدید سردی کی وجہ سے جم کر پتھریلی ہو چکی ہے۔ لیکن ان پہاڑوں سے زیادہ حیرت انگیز بات اس کے کنارے ایک تالاب میں نہاتے ہوئے چند بچے تھے۔ ہمیں تعجب ہوا کہ اتنے ٹھنڈے علاقے میں بھی لوگ نہایا کرتے ہیں۔ بہرحال یہ بیمار ہوئے تو کہیں علاج کروا لیں گے، مگر حکومت کو ان پہاڑوں کی فکر کرنی چاہیے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اگر دریا ان پہاڑوں کی ریت ایسے ہی میدانی علاقوں میں لاتے رہے تو کچھ عرصے میں شمال میں پہاڑ ختم ہو جائیں گے۔

یہاں سے پہاڑوں میں سرنگیں شروع ہو گئیں اور ارد گرد مناظر خوبصورت ہو گئے۔ کچھ دیر میں گورو نامی ایک بازار آیا جہاں رفیق نے بریک لگائی اور کچھ کھانے پینے کا مشورہ دیا اور کہنے لگا کہ یہاں آپ محفوظ ہیں، آپ کو کھاتے دیکھ کر کوئی احترام رمضان میں آپ کا بھرتا نہیں بنائے گا، اب وہ علاقے شروع ہو چکے ہیں جو انسان کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور دنگے فساد پر یقین نہیں رکھتے۔

\"20160609_140947b\"

بازار کو دیکھا تو عین رمضان میں بھی وہاں پکوڑے اور سموسے تلے جا رہے تھے۔ ایک طرف کچھ دکانوں میں توے پر عجیب سی روٹیاں لگائی جا رہی تھیں۔ پہلے نانبائی نہایت اہتمام سے روٹی کو گول کرتا، پھر اس میں کچھ بھر کر اس کو دوہرا کرتا اور توے پر سینکنا شروع کر دیتا۔ ہم نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اسے چھپ شیرو کہتے ہیں، چھپ یعنی گوشت اور شیرو یعنی روٹی۔ ہم نے درجن بھر پکوا لیں۔ گاڑی میں بیٹھ کر چکھا تو روٹی نہایت لذیذ تھی۔ وہیں باہر ایک بھوکا سا کتا پھر رہا تھا، ازراہ ترحم ایک روٹی اسے بھی ڈال دی۔ اس نے روٹی کو سونگھا اور وہیں چھوڑ کر آگے چل دیا۔ ہمارا دل تو دھک سے رہ گیا کہ خبر نہیں کس قسم کا گوشت ہے جسے اتنی بھوک میں بھی یہ کتا کھانے سے انکاری ہے۔ دکان والے نے ہمارا چہرہ دیکھا تو تسلی دی کہ یہاں کے کتے مسالے نہیں کھاتے ہیں اس لیے چھوڑ گیا ہے۔

\"DSC_2825\"

سفر دوبارہ شروع ہوا اور ہم ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں سڑک پر عین سامنے راکاپوشی دکھائی دے رہا تھا اور بائیں جانب پہاڑوں کے ساتھ ساتھ ایک پگڈنڈی سی چلی آ رہی تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ پرانی شاہراہ ریشم ہے جس پر کوئی خچر ہی چلنے کو راضی ہو گا۔ خوب غور سے شاہراہ ریشم کو دیکھ کر عبرت پکڑی اور کچھ آگے چل کر راکاپوشی ویو پوائنٹ پر بریک لگائی۔

یہاں سے راکاپوشی کی چوٹی بالکل قریب تھی اور اس سے ایک تند و تیز پہاڑی دریا بہتا ہوا آ رہا تھا جس کے کناروں پر ریستوران بنے ہوئے تھے۔ وہاں رک کر کچھ کھایا پیا۔ ہم حیران ہوئے کہ اس پہاڑ پر چڑھنے میں لوگوں کو اتنی دقت کیوں پیش آتی ہے۔ جہاں ہم کھڑے تھے، وہاں سے پہاڑ کی چوٹی بمشکل کوئی ایک ڈیڑھ کلومیٹر دور ہو گی اور اگر ہم نے اتنا زیادہ کھانا نہ کھایا ہوتا تو غالباً دو ڈھائی گھنٹے میں اسے سر کرنا ممکن تھا۔

\"DSC_2879\"

قریب ہی ایک بورڈ نظر آیا جس پر لکھا ہوا تھا کہ یہ دنیا کا اونچا ترین پہاڑ ہے جو بغیر کسی رکاوٹ کے یکلخت اپنے دامن سے تقریباً چھے کلومیٹر بلند ہو جاتا ہے۔ ہماری رائے میں تو یہ محض پہاڑ سے سیاحوں کو دور رکھنے کے لیے غلط بورڈ لگایا گیا ہے۔ پاکستانی سیاح گند بھی تو بہت ڈالتے ہیں۔ جس جگہ کے بارے میں علم ہو کہ وہ بہت خوبصورت ہے، جھٹ سے ادھر پہنچتے ہیں اور اس جگہ کی یہ شکایت پلاسٹک کی بوتلیں اور دیگر گند ڈال کر دور کر دیتے ہیں۔ ہم نے خوب غور سے مشاہدہ کیا اور ہمارا اندازہ ہے کہ راکاپوشی کی چوٹی کسی صورت بھی سطح زمین سے ایک ڈیڑھ کلومیٹر سے زیادہ بلند نہیں ہے۔ بشرط زندگی دوبارہ کبھی ادھر سے گزر ہوا تو اس پہاڑ پر بھی چڑھ جائیں گے اور واپس اتر کر درست بورڈ لگا دیں گے۔

لفظ راکاپوشی کا مطلب سمجھنا ہرگز دشوار نہیں ہے۔ راکاپوشی کا مطلب ہے برف کی چادر اوڑھے ہوئے۔ جیسے کہانیوں میں سبز پوش بزرگ اور سرخ پوش حسینہ وغیرہ کا ذکر ملتا ہے، ایسے ہی یہ بھی برف پوش پہاڑ ہے۔ اس کا دوسرا مقامی نام دمانی ہے، جس کا مطلب ہے دھند کی اماں۔

\"DSC_2964c\"

راکاپوشی کی بلندی 7788 میٹر، یعنی 25551 فٹ ہے۔ یہ دنیا کی ستائیسویں بلند ترین اور پاکستان کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اپنے دامن سے چوٹی تک اس کی بلندی 5838 میٹر یعنی 19153 فٹ ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کا بلند ترین پہاڑ ہے۔

اسے پہلی مرتبہ 1958 میں ایک برطانوی اور پاکستانی ٹیم کے ممبران مائک بینکس اور ٹام پیٹے نے سر کیا۔ ہماری رائے میں تو کسی پہاڑ کو ایک مرتبہ سر کرنا کافی ہوتا ہے مگر کوہ پیما بھی عجیب ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسے جنوب مغرب، شمال مغرب اور شمال کی طرف سے کئی مرتبہ سر کیا ہے۔ مشرقی سمت سے کئی کوششیں کی گئیں مگر ابھی تک کسی کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

راکاپوشی کے علاقے کو نیشنل پارک قرار دیا گیا ہے اور افواہ ہے کہ یہاں برفانی چیتے، بھورے ریچھ، بھیڑیے اور ان سب کے کھانے کے لیے مارکو پولو شیپ موجود ہیں مگر ہمیں ان میں سے کسی جانور کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا اس لیے ان افواہوں پر یقین مت کریں۔

\"DSC_2996\"

ان جانوروں کی تلاش میں ناکام ہونے کے بعد ہم آگے چلے تو کچھ دیر بعد دائیں طرف تین نوکیلی سی پہاڑی چوٹیاں دکھائی دیں۔ رفیق نے گاڑی کو سانس روکنے کا موقع دینے کے لیے ٹھہرایا اور ہمیں مطلع کیا کہ یہ لیڈی فنگر ہیں۔ بعد میں لیڈی فنگر کی تصویر دیکھی تو تعجب ہوا کہ وہ ان چوٹیوں سے مختلف کیوں دکھائی دیتی ہے جن کو رفیق لیڈی فنگر بتا رہا تھا۔ بہرحال یہ چوٹی جہاں بھی ہے، یہ تقریباً چھے ہزار میٹر، یعنی بیس ہزار فٹ بلند ہے جس پر چڑھنے کی کسی نے کبھِی زحمت ہی نہیں کی حتی کہ 1982 میں دو انتہائی فارغ کوہ پیماؤں پیٹرک کارڈیر اور جیکوئس مارین نے ارد گرد کی مشکل چوٹیاں چھوڑ کر اس پر اپنا جھنڈا گاڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس چوٹی کو مقامی زبان میں بھنڈی، یا ببلی موٹن کہا جاتا ہے۔

گلگت سے نکلنے کے تقریباً دو گھنٹے کے بعد ہم علی آباد کے نواح میں پہنچ گئے۔ یہ پہاڑوں کے دامن میں آباد ایک بڑا قصبہ ہے۔ اس سے کچھ اوپر ہی پرنس کریم آغا خان کے نام پر موجود کریم آباد ہے۔ کریم آباد کا قدیم نام بلتت تھا اور یہ تقریباً ساڑھے سات سو برس سے ہنزہ کا دارالحکومت چلا آ رہا ہے۔ ملک الجبال وقار ملک ہمارے لیے ہنزہ ایمبیسی ہوٹل میں ٹھہرنے کا بندوبست کر چکے تھے۔

ہوٹل میں داخل ہوئے تو وہاں ہنزہ کے لوگوں سے پہلی بار واسطہ پڑا۔ خوش اخلاق اعجاز سے ملاقات ہوئی جو کہ ایک کالے اور ایک سفید مارخور کے سر کے سائے میں کھڑے ہمارے سامان کو حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ اتنا سارا سامان بھلا کون سا مسافر ساتھ لیے پھرتا ہے۔ سامان کمروں میں منتقل ہونا شروع ہوا تو ہم نگرانی کے لیے پاس کھڑے ہو گئے۔ اعجاز نے تسلی دی کہ آپ بے فکر ہو کر کمروں میں چلے جائیں، یہ ہنزہ ہے، سامان محفوظ ہے۔

پتہ چلا کہ ہنزہ میں چوری چکاری کا رواج نہیں ہے۔ یہ پہلی حیرت تھی اور پھر اگلے دنوں میں ہنزہ کے لوگ دلوں میں گھر کرتے چلے گئے۔ دنیا گھومی،  کالے دیکھے، گورے دیکھے، عربی دیکھے، عجمی دیکھے مگر ہنزئی جیسے اچھے لوگ کہیں نہ دیکھے۔


اس سیریز کی  اقساط

مہمان، ہنزہ پولیس اور پنجابی افسر

سینیٹر طلحہ محمود ۔ شاہراہ قراقرم کے معمار

مانسہرہ: شہنشاہ اشوک کی عظیم سلطنت کے ستون

ملک الجبال کے سائے میں بشام تک

سفر خنجراب: بشام سے کوہستان تک

سفر خنجراب: کوہستان سے چلاس تک

لبرل فاشسٹ اس پہاڑ کو نانگا پربت کیوں کہتے ہیں؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1501 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments