خاموشی کا اضطراب : داسو سے چلاس تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے لگتا ہے اس بار کے کے ایچ ( شاہراہ قراقرم) سے گلگت بلتستان جانا پڑے گا یعنی بشام سے ہوتے ہوئے داسو، چلاس، جگلوٹ اور استور۔ داسو سے چلاس تک بہت صبر آزما سفر ہوتا ہے گوکہ ہم ( میں اور بیوی بچے ) عموماً بابو سر سے ہی جاتے ہیں لیکن اس بار لگتا ہے بابو سر پاس کھلا نہیں ہو گا۔ ویسے تو داسو سے چلاس تک ایسے ایسے مناظر ہیں کہ آپ کبھی حسن سے خیرہ ہوتے ہیں اور کبھی مرعوب، کبھی جذب و مستی کی کیفیت ہوتی ہے تو کبھی رشک و فخر کی۔

آپ ہیں، ہمالیہ کے چٹیل پہاڑ اور ان سنگلاخ پہاڑوں سے بہتے ہزاروں جھرنے۔ میرے لئے اس سفر میں دو چیزیں بہت پر کشش ہیں : دریائے سندھ کا کردار اور خاموشی کا اظہار۔ خاموشی ایک کردار ہی بن جاتی ہے جو ہمزاد کی طرح آپ کے ہمرکاب ہے۔ میں نے گلگت بلتستان کے سفر میں خاموشی کو ہر رنگ، ہر مزاج اور ہر کیفیت میں محسوس کیا ہے۔ دریائے سندھ کا شور اور ہمالیہ کے پہاڑوں میں چیختی خاموشی۔ داسو سے سمر نالے تک خاموشی ایسے سناٹے کا سایہ ہے جو سراسیمگی طاری کر دیتا ہے۔

آپ فراٹے بھرتی گاڑی کو بریک لگائیں اور نیچے اتر آئیں بس پھر آپ خاموشی سے یوں لطف اندوز ہوتے ہیں جیسے پہلی بار بچہ ہوا میں معلق ہو کر خوشی اور خوف کی ملی جلی کیفیت سے شاداں ہوتا ہے۔ نیچے کہیں دور دریائے سندھ کا پانی پتھروں سے سر ٹکرا کر گویا اپنے ہونے کا اظہار کر رہا ہوتا ہے، جیسے پتھروں کو اپنے جلال سے آگاہ کر رہا ہو لیکن پتھر اسے دھتکارتے ہیں۔

دریائے سندھ، دراصل، میرے بچپن کی یادوں میں بستا ہے جب میں اپنے ماموں زاد بھائیوں کے ساتھ سائیکل پر سکھر بیراج پار کرتا تھا اور بار بار رک کر دریائے سندھ کو پوری شان سے کسی مغرور دیوتا کی طرح چلتا ( بہتا) دیکھتا تھا۔ تا حد نظر آن بان سے بہتا دریائے سندھ جو بیراج کے دروازوں سے ٹکراتا اور ہم زیادہ دیر اسے دیکھ نہیں سکتے تھے مبادا وہ ہمیں اپنی طرف کھینچ لے۔ واپسی پر ہمیں ڈرایا جاتا کہ ہمیں گھر سے زیادہ دور نہیں جانا چاہیے کیونکہ سندھی لوگ پنجابیوں سے بہت نفرت کرتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ جنرل ضیاء کا سندھیوں پر ظلم ڈھانا تھا لیکن میں نے نور محمد بلوچ ( میرے ماموں کے ہاں ملازم) سے پوچھ لیا تھا کہ اسے ہم سے کسی قسم کی کوئی نفرت تو نہیں اور نور محمد بلوچ ایک شان بے نیازی سے کہہ دیا کرتا، ”نہیں نہیں! بولا نا! نہیں۔ جاو کھیلو بس دور نہ جانا“۔

اب جب میں داسو سے چلاس جاتے ہوئے ہمالیہ کے پہاڑوں میں بے محابہ سکوت کے جلو میں پا بہ حیرت، برہنہ سر چاک، دم بخود کھڑا ہوں اور نیچے دریائے سندھ کو ہمالیہ کے پتھروں میں راستہ بنانے میں سرگرداں دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں میانوالی، ڈی جی خان اور سکھر میں جو شان و شوکت اباسین ( دریاؤں کا باپ) حاصل کرتا ہے وہ اسے پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کی گئی۔ کبھی میں دریا کی جستجو، جو کہ ہمیشہ سے معشوق تماشا جو ہے، کا نوحہ سنتا ہوں اور کبھی خاموشی کا اساطیری راگ جو سننے والے کو دبے پاؤں آ لیتا ہے۔

آپ اندر ہی اندر مزاحمت کرتے ہیں اس خاموش کے خلاف جسے آپ نے ایک آہوئے صیاد دیدہ کی طرح دیکھ لیا ہے اور اپنی جبلت کے زیر اثر اب بچنا چاہتے ہیں۔ لطف اندوزی کم ہوتی جا رہی ہے اور اس خاموشی میں معدوم ہو جانے کی لا شعوری خواہش غیر ارادری طور پر بیدار ہو گئی ہے بالکل اس طرح جیسے آپ ہی آپ آنکھ پھڑکنا شروع ہو جائے۔ کبھی آپ اس آنکھ کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی مسلنے کی، کبھی شکوہ کرتے ہیں اور کبھی اضطراری طور پر بھینچنے کی لیکن اس سارے عمل میں آپ ارد گرد سے غیر متعلق سے ہو جاتے ہیں۔

شعوری کوشش سے نارمل حالت میں واپس آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمالیہ کے پہاڑوں میں بھی خاموشی کی اثر گیری کچھ ایسی ہی ہے۔ آپ اس خاموشی کو جھٹکنے کی کوشش کرتے ہیں یوں جیسے کسی برے خواب سے بیدار ہونے سے کچھ پہلے جب ہم اس خواب کو جھٹکنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم جان چکے ہوتے ہیں کہ یہ ایک خواب ہے لیکن پھر بھی ہاتھ پاؤں مارتے ہیں کہ خواب سے جان چھوٹے۔ داسو سے چلاس تک کے سفر میں آپ کئی بار یہ عمل دہراتے ہیں۔

خاموشی کی اذیت سے گھبراتے بھی ہیں اور اس کی برہنگی، بے باکی اور بے التفاتی سے بہرہ ور بھی ہونا چاہتے ہیں۔ کہیں جب آپ اور دریا ساتھ ساتھ آ جائیں تو خاموشی کا کردار بھی بدل جاتا ہے۔ اب خاموشی دریا کے شور سے بھیگی ہوئی ہے اور آپ کو لگتا ہے جیسے کسی مافوق الفطرت ہستی نے خاموشی، آپ اور دریا کو کسی صندوق میں بند کردیا ہے۔ تینوں ہمالیہ کے اونچے اور سنگلاخ پہاڑوں میں غرق اپنی کم مائیگی، کم حیثیتی اور کوتاہ کمندی کا رونا رو رہے ہیں لیکن یہاں آپ کو بچاتا ہے آپ کا احساس تفاخر اور وہ یہ کہ دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے کے آپ نہ صرف مالک ہیں بلکہ ان کو چیر کر، راستے بنا کر، ٹرک چلا کر آپ نے ان کا غرور توڑے دیا ہے۔

میری بیوی یہاں سے گزرتے ہوئے کہتی ہے کہ، ”میرا دل چاہتا ہے میں اتنی بڑی ہو جاؤں کہ ان پہاڑوں کو پاؤں تلے روندتی ہوئی جاؤں“۔ کچھ اور نہیں بس ان کی ہیبت ہے جو ایسا سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہاں چیخ کر آپ اپنے ہونے کا احساس دلا سکتے ہیں لیکن چیختے ہوئے آپ اپنی ذات کو اتنا ہی ثبت کر سکتے ہیں جتنا کہ سیموئل بیکیٹ کا وہ کردار جو سیاہ بورڑ میں دو سرخ ہونٹ ہلاتے ہلاتے معدوم ہو جاتا ہے۔ عدم اور وجود کی جنگ آپ داسو سے چلاس تک کے سفر میں جگہ جگہ محسوس کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے آپ کو اپنی ذات سے باہر سہاروں سے بچنا ہو گا مثلاً دوستوں سے گپ شپ، بچوں کی شرارتوں اور میوزک وغیرہ سے۔

چلاس پہنچنے سے پہلے اگر آپ شنگریلا رک گئے ہیں تو خاموشی ایک مہربان دوشیزہ بن کر پاس کھڑی ہو جائے گی۔ کچھ جگہوں پر دو پہاڑوں کو سیمنٹ کے پل ملاتے ہیں اور یہاں خاموشی کا مزاج ہی مختلف ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے مخالف سمت سی آتا ہوا خاموشی کا ایک طوفان جسے خود پہاڑوں نے روک دیا ہے، کہیں ٹھہرا ہوا آپ کا منتظر ہے۔ سیمنٹ کا پل جہاں بھی آئے گا آپ کو خاموشی کاٹنے کو نہیں دوڑے گی بلکہ یہ احساس دلائے گی کی بس مجھے چھوڑو اور آگے بڑھتے جاؤ۔

کہیں کہیں پہاڑ مٹیالے ہوتے جاتے ہیں۔ یہاں خاموشی فغاں نہیں بنتی بلکہ ہوں لگتا ہے جیسے ہزاروں برسوں سے رقصاں موسموں کا کرب ان پہاڑوں میں سمٹ آیا ہے۔ کہیں جب پہاڑ ایک تنگ گھاٹی کی شکل اختیار کر لیں تو خاموشی پھنکارنے لگتی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے باہر سناٹا کسی زخمی درندے کی طرح شکار کے انتظار میں گھلا جا رہا ہے۔ کہیں جب بائیں جانب پہاڑ دور ہونے لگتے ہیں اور ایک پگڈنڈی اندھا دھند سلسلوں میں گم ہوئی جاتی ہے تو آپ کو لگتا ہے خاموشی کا دکھ بانٹا گیا ہے اور وہ پہلے سی بدمزاج بڑھیا نہیں رہی بلکہ ایک الہڑ سی مٹیار بن گئی ہے جسے دریا کو شور بھی نہیں ڈرا سکتا اور آپ کا صبر بھی نہیں۔

جاری ہے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •