میں چاہتا تھا کہ مجھے دفن کرنے کی بجائے جلا دیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستاون سال کی عمر میں جب میں مکمل طورپر چاق و چوبند تھا، توانائی سے بھرپور اور ایک اچھی زندگی گزار رہا تھا کہ مجھ پر انکشاف ہوا کہ مجھے کینسر ہوگیا ہے۔

اس دن کام سے گھر آتے وقت ریڈیو پر خبر تھی کہ جس ہائی وے پر میں جاتا تھا اس پر ایک بڑا حادثہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہے۔ میں نے فوراً ہی گاڑی چھوٹے روڈ پر ڈال دی تھی۔ امریکا میں ہائی وے پر چلنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ راستے میں کہیں بھی کوئی ٹریفک لائن نہیں ملتی ہے اور سفر بغیر کسی رکاوٹ کے ختم ہوجاتا ہے اور آرام سے بغیر رُکے ہوئے اپنے محلے یا شہر پہنچا جاسکتا ہے۔ پورا امریکا اسی قسم کے ہائی وے کے جالوں میں جکڑا ہوا ہے۔

پچھلے کئی سالوں سے اس قسم کے ہائی وے مسلسل بن رہے ہیں۔ بڑے شہروں کو چھوٹے شہر اور چھوٹے شہروں کو گاؤں دیہاتوں سے ملانے کی کوشش جاری ہے تاکہ عوام کو مستقل سہولتیں ملتی رہیں۔ ان راستوں کا نام نہیں بلکہ نمبر ہوتے ہیں جو ہائی وے طاق نمبروں پر ہیں وہ شمال سے جنوب کی طرف آجارہے ہیں اور جو ہائی وے جفت نمبروں پر ہیں وہ مشرق سے مغرب کی طرف آجارہے ہوتے ہیں۔ مجھے ان ہائی ویز پر گاڑی چلانے میں بہت مہارت تھی اور شوق بھی تھا۔ امریکا میں گزرے ہوئے اکیس سالوں میں ان سڑکوں پر چلتے گھومتے ہوئے گاڑی چلاتے ہوئے تقریباً سارا امریکا ہی گھوم چکا تھا۔

امریکا کی یہ بڑی بڑی سڑکیں مجھے حیران کردیتی تھیں۔ میری سمجھ میں آتا تھا کہ جب ملک اور قومیں اپنے عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہیں تو کس طرح وہ دھرتی کے اوپر پہاڑوں کو چیر کر، دریاؤں میں شگاف ڈال کر، سمندروں کے نیچے اور جنگلوں کے درمیان راستے نکال لیتی ہیں۔ ان سڑکوں پر گھومتے ہوئے اور پاکستان کی سڑکوں کے بارے میں سوچتے ہوئے دل میں شدید تکلیف ہوتی تھی۔

ان ہائی ویز کے علاوہ دوسری سڑکیں بھی ہیں جو مختلف شہروں، محلوں، گاؤں، دیہاتوں سے ہوتی گزرتی ہیں۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ ان سڑکوں پر ٹریفک کی لائٹس ہوتی ہیں جن کی وجہ سے سفر طویل ہوجاتا ہے۔

جیسے ہی میں نے ریڈیو پر ہائی وے کے بند ہونے کی خبر سنی تو گاڑی چھوٹے راستے پر ڈال دی۔ تقریباً آدھا راستہ طے کیا تھا کہ نہ جانے کیوں مجھے بے اختیار کھانسی ہونے لگی۔ سڑکیں صاف ستھری تھیں، دھواں بھی نہیں تھا، مجھے بعض گاڑیوں کے دھویں سے کھانسی ہونے لگتی ہے اور موسم بہار بھی نہیں تھا کے جب فضا پالوشن سے بھرا ہوا ہوتاہے اور میرے جیسے کچھ لوگوں کو اس کی الرجی کی وجہ سے بعض دفعہ شدید کھانسی ہوتی ہے۔

گھر کے قریب پہنچتے پہنچتے ایک دفعہ پھر شدید کھانسی کے ساتھ مجھے لگا کہ تھوک میں کچھ خون بھی آرہا ہے۔ گاڑی گیراج میں کھڑی کرنے کے بعد میں فوراً ہی غسل خانے میں جا کر اچھی طرح سے کھانسا تھا، بلغم کے ساتھ خون موجود تھا۔

میں ڈاکٹر نہیں ہوں لیکن مجھے کچھ احساس سا ہوگیا کہ بلغم میں خون آنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو بتایا جو کہ میری کھانسی سے پریشان سی ہوگئی تھی اور خون کی موجودگی کا سن کر اس کے چہرے پر بھی ہوائیاں سی اُڑنے لگی تھی۔

شام کے کھانے کے بعد رات کو ہی اس نے فون پر فیملی ڈاکٹر سے صبح ملنے کے لیے وقت لے لیا۔ کھانے کے بعد اس نے مجھے لیموں اور شہد کی چائے بنا کر دی تھی، رات کو ایک ٹی وی کا پروگرام دیکھ کر میں سکون سے سوگیا تھا، رات اطمینان سے ہی گزری تھی، سونے سے پہلے میں نے دفتر ای میل کردیا تھا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑ رہا ہے۔

ڈاکٹر کیلی نے مجھے تفصیل سے دیکھا۔ گزشتہ گیارہ سالوں سے وہ ہماری ڈاکٹر تھی۔ خوش اخلاق، خوش گفتار اور خوش پوشاک۔ مجھے اس کے چہرے کے تاثر سے اندازہ ہوا کہ وہ کھانسی کے ساتھ آنے والے خون سے کچھ تردد کا شکار ہوگئی ہے۔

میں نے اسے بتایا کہ کالج کے زمانے سے لے کر شادی کے سات سال تک میں نے خوب سگریٹ پی تھی مگر شادی کے بعد نائلہ کے اصرار پر پہلی بچی کی پیدائش کے بعد میں نے سگریٹ چھوڑدی تھی۔ شروع میں مجھے تکلیف تو ہوئی مگر نائلہ کے مسلسل اصرار اور تکرار نے سگریٹ چھڑا ہی دیا تھا۔

میں نے ڈاکٹر کیلی سے کہا کہ مجھ سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے، کوئی معمولی بات ہے تو بتائیں اور اگر کوئی خطرناک مسئلہ ہے تو اسے بھی چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ذہنی طور پر لفظ کینسر بھی سننے کو تیار ہوں۔

امریکی ڈاکٹروں کی یہ بات مجھے پسند ہے کہ وہ مریضوں سے کچھ چھپاتے نہیں ہیں۔ ڈاکٹر کیلی نے مجھے کہا کہ عام طور پر اس عمر میں سگریٹ کی کہانی کے ساتھ کھانسی میں خون آنا کوئی اچھی بات نہیں، میں ابھی فوراً ہی آپ کے کچھ خون کے ٹیسٹ کررہی ہوں اور ساتھ ساتھ کوشش کرکے آپ کا جلدازجلد سی ٹی اسکین کرانا ہوگا تاکہ اگرخدانخواستہ کوئی بُری بات ہے تو فوری طور پر پتہ چل جائے گا۔ ڈاکٹر کیلی کو تشویش اس بات کی تھی کہ نہ تو مجھے بخار تھا نہ ہی میری نبض تیز، میرا گلا بالکل صحیح تھا۔ اس حالت میں کھانسی کے ساتھ یکایک خون کا آنا کافی تشویشناک بات تھی۔

تیسرے دن میرا سی ٹی اسکین ہوگیا، پانچویں دن ہی مجھے بتادیا گیا کہ میرے داہنے پھیپھڑے میں ایک رسولی ہے جو کہ کینسر ہے۔ ڈاکٹر کیلی نے مجھے ہمارے شہر میں موجود سب سے اچھے ہسپتال میں پھیپھڑوں کے کینسر کے ماہر کے پاس بھیج دیا تھا۔

میں دیکھ رہا تھا کہ گزشتہ پانچ چھ دنوں میں ہماری پرسکون زندگی میں بھونچال سا آگیا تھا۔ میرا بڑا بیٹا نیویارک میں ایک اکاؤٹنگ کی فرم میں اچھی پوسٹ پر کام کررہا تھا۔ دوسرا بیٹا کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماسٹرز کرنے کے بعد سلی کون ویلی میں ابھی ملازمت پر فائز ہوا تھا۔ بڑی بیٹی ہمارے شہر میں ہی ایک بینک میں کام کررہی تھی اور چھوٹی بیٹی انجینئرنگ کالج کے تیسرے سال میں تھی اور ہمارے شہر سے تین سو میل دور یونیورسٹی میں ہی رہتی تھی۔ چھ مہینے کے بعد میری بڑی بیٹی اور بیٹے کی شادی بھی ہونے والی تھی۔ نائلہ ان کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی کہ یکایک کینسر کے اس مرض کی تشخیص ہوگئی۔ ابھی تک ہم نے اپنے بچوں کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ میرا خیال تھا کہ ایک دفعہ بیماری اور علاج کے بارے میں ساری معلومات مل جائیں تو بتانا بہتر ہوگا۔

میں کم عمری میں ہی امریکا آگیا تھا، کراچی یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹرز کرنے کے بعد مجھے میرے ٹافل کے امتحان میں کامیابی کی بنیاد پر نیویارک یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا تھا، حالات نے میرا ساتھ دیا، کچھ میری محنت تھی اورکچھ میری قسمت بھی شاید اچھی تھی کہ میں نے آسانی سے فزکس میں ہی ماسٹرز اور اس کے بعد پی ایچ ڈی کرلیا تھا۔ پی ایچ ڈی کرنے کے دوران ہی نائلہ سے شادی ہوگئی تھی جسے شادی کے بعد امریکا لے کر آگیا تھا۔ پاپا اور امی جان دونوں ہی پاکستان میں رہ گئے تھے۔ بڑی بہن کی شادی کراچی میں ہوئی تھی اوروہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش حال زندگی گزاررہی تھی۔ اس کا شوہر کاروباری آدمی تھا اور وہ لوگ دو تین سالوں میں امریکا کا چکر لگالیتے تھے۔ میرے دونوں بچوں کی شادی میں بھی ان لوگوں کا آنے کا پروگرام تھا۔

پاپا اورامی تین دفعہ چند مہینوں کے لیے میرے پاس رہ کر گئے تھے مگر چار سال پہلے اچھے خاصے چلتے پھرتے ہوئے، پہلے امی پھر چھ مہینے بعد پاپا کا انتقال ہوگیا تھا۔ دونوں ہی بظاہر صحت مند تھے۔ پہلے امی پر دل کا دورہ پڑا اور وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کرگئیں، امی کے انتقال کے بعد آپا نے ابو کو کراچی کے بہترین ڈاکٹروں کو دکھا کر یہ پتہ کرلیا تھا کہ انہیں دل کی کوئی بیماری نہیں ہے۔ دل کے علاوہ ان کے دوسرے نظام بھی صحیح کام کررہے تھے مگر ان کا بھی انتقال ایک اچانک دل کے دورے کے بعد ہوگیا۔ میرا خیال تھا کہ میں بھی ایک دن کسی اچانک دل کے دورے کے بعد مرجاؤں گا لیکن ہوا یہ تھا کہ مجھے کینسر کے مرض نے آن دبوچا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •