بلوغت کے سال، نوجوان اور آزادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوغت کے سال ایک پوری زندگی کے سب سے اہم سال ہیں۔ یہ وہ دورانیہ ہے جب آپ اپنے مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں یا اسے تباہ کر دیتے ہیں۔ یہ کچی مٹی کی مانند ہوتے ہیں جس کو کسی بھی سانچے میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے دور میں، اثر و رسوخ کا اہم ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔

سماجی میڈیا کے ارتقاء کے بعد سے، بالغوں کی زندگی میں انقلاب آیا ہے لیکن نوجوانوں کے طور پر زیادہ نہیں۔ یہ ایک نئے مواصلاتی ذریعہ کا اضافہ نہیں ہے، یہ ایک نیے دور کی شروعات ہے۔ یہ نا صرف میل ملاپ کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس نے نوجوانوں کو ایک مکمل نئی دنیا سے متعارف کروایا ہے جس میں انہیں اپنے خوابوں کی تعبیر دکھائی دیتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر اس لیے ہے کیونکہ سوشل میڈیا بہت زیادہ آزادی ہے اور مین سٹریم میڈیا سے بہت کم پابندیاں ہیں۔

جب والدین اپنے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی فراہم کرنے پر کافی اعتماد کرتے ہیں تو انہیں جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے۔ اگر وہ خود استعمال کرنے کا طریقہ نہیں جانتے تو، بالکل بھی کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کو غلط سمت میں جانے سے بچائیں۔

وہ تمام والدین جو اپنے بچوں کو گیجٹ فراہم کرتے ہیں، آپ کو بھی اپنے بچوں کو کچھ آزادی دینے کی ضرورت ہے۔ آپ کو ان کی ہر گفتگو پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے جو انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ کی ہوئی ہے۔ اگر آپ ان کے فون بار بار چیک کرتے ہیں تو ان کا اعتماد مجروح نظر ہوتا ہے اور وہ آپ کو اپنی کسی سرگرمی کے بارے میں نہیں بتائیں گے۔

اس کے علاوہ، بہت سے قدامت پرست خاندان بھی نہ صرف دیہی بلکہ شہری علاقوں میں ابھی بھی ہیں۔ ان کے بچوں کی زندگی کے نوجوان سالوں کے دوران، وہ مخالف جنس سے ان کی بات چیت کرانے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ لہذا جب یہ متاثرہ بچوں کو یونیورسٹیوں میں آزادانہ ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ ا اپنی زنجیروں سے لپٹی زندگی سے رہائی ڈھونڈتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جہاں والدین کا اصلی امتحان شروع ہوتا ہے۔ اس وقت، ان کو دوبارہ روکنا ناممکن ہو جائے گا۔

ان کو مصیبت سے دور رکھنے کے لئے خوف کو اپنا ہتھیار بنانا، انہیں صرف اس میں دھکا دینا ہوگا۔ تمام نوجوان کم از کم ایک بار بغاوت ضرور کرتے ہیں۔ آپ کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جسمانی سزا ہر مسئلے کا حتمی حل نہیں ہے۔ اگر وہ غلطی نہیں کرتے تو وہ نہیں سیکھیں گے۔ آپ یہ کر سکتے ہیں کہ ان پر اپنا اعتماد رکھیں، غلط سمت کی طرف مبتلا ہونے کے نتائج کے ساتھ صحیح اور غلط کے درمیان حدود متین کریں۔ آپ کو اپنے بچوں کو اپنے چند فیصلے خود بھی کرنے دینا چاہیے، یہ جانتے ہوئے کہ ان کے لئے مناسب کیا ہے۔ نہ صرف بات کریں، بلکہ عملی مظاہرہ بھی کریں۔ ان کے دوست بنیں، اتنا اعتماد دیں کہ وہ آپ سے بلا جھجک کوئی بھی بات کر سکیں اور آپ سے کھری بات کریں چاہے سچ کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔ انہیں پراعتماد بنائیں، یہ ان سے دور نہ کریں، ان کو ہر وقت نہ ڈانٹیں اود سب کے سامنے تو ہرگز نہیں۔

دوسری طرف، بچوں کو اس اعتماد کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے جو ان کے والدین نے ان پر کیا ہے۔ انہیں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جو اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائے، کیونکہ تعلقات شیشے کی مانند ہوتے ہیں، ایک دفعہ ان میں دراڑ آجائے تو وہ کبھی بھی اتنے خوبصورت نہیں رہتے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سکینہ فاطمہ کی دیگر تحریریں
سکینہ فاطمہ کی دیگر تحریریں