ریپ میں قصور وار کون؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریپ ہوگیا، فلاں کا کیا قصور تھا؟ اس کی کیا غلطی تھی جو اس کے ساتھ یہ سب ہوا؟

یہ تو ہے ہی اسی لائق، کپڑے دیکھا تھا کیسے پہنتی تھی اس کے ساتھ یہی ہونا تھا۔ اس کے برعکس اس نے ایسا کیوں کیا؟ یہ تو ہے ہی بدکردار کوئی بھی لڑکی دیکھ کر اس کی رال ٹپکنے لگتی ہے یہ انسانیت کے نام پر دھبہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ جملے ہیں جو اکثر اوقات ہماری سماعتوں کی نظر ہوتے ہیں مگر آج تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہوسکا کہ قصوروار کسے ٹھہرایا جائے۔ اپنی ہوس کے آگے بے بس ہوچکے مرد کو؟ یا پھر سارا الزام مرد پر لاد کر دامن بچاتی خاتون کو؟

اصل بات یہ ہے کہ یہ داغدار تمغہ کسی ایک کے سینے پہ سجایا جاتا ہے اور بیسوں مرتبہ یہ اعزاز کمزور پارٹی نے ہی حاصل کیا ہے۔ اگر خاتون بالغ ہے تو یہ سوچنا گناہ عظیم ہوگا کہ معاشرہ اس کا ساتھ دے۔ اور اگر وہ خوش قسمتی سے ابھی تک بالغ نہیں ہے تو پھر مرد کی خیر نہیں۔ پورا معاشرہ لاٹھیاں اور ڈنڈے اٹھائے اس کے پیچھے پیچھے ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ ایک بچی کے بڑے ہوجانے سے ایسی کون سی تبدیلی رونما ہو جاتی ہے کہ اس کی غلطی نہ ہونے کے باوجود وہ قصوروار ٹھہرتی ہے۔

اور مرد نے کون سا جنسی ہوس کا کورس کر رکھا ہے کہ ہر بار اس کا قصوروار ٹھہرانا لوہے پے لکیر بن چکا ہے؟

قصور کبھی بھی کسی ایک کا نہیں ہوتا کسی بھی سانحے کے وقوع پذیر ہونے میں دونوں پارٹیاں ہی قصوروار ہوتی ہیں ہاں دونوں کے لیے تناسب کی شرح کم زیادہ ہوسکتی ہے مگر غلطی دونوں کی ہی ہوگی۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ جب تک موقع فراہم نہ ہو کوئی منزل تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ تو جانے انجانے میں موقع فراہم کردینا ہی سب سے بڑی غلطی ہے جو شاید اگلے کی غلطی سے بھی بڑی ہے۔ مثال کے طور پر گلی گلی چیخ چیخ کر اپنی چھ سالہ بچی کی زیادتی کے بعد ہونے والی موت کا رونا روتے ماں باپ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اس شخص کی ان کی بچی تک رسائی بھی ان ہی کی غلطی ہے۔ اپنی بچی کی حفاظت ان کا اولین فرض تھا جسے اگر وہ احسن طریقے سے انجام دیتے تو ان کی بیٹی کا مقدر کچھ اور ہوتا۔ یہ باتیں کڑوی ضرور ہیں مگر سچ ہیں۔

میں مرد کو بے قصور نہیں کہ رہی اور نہ ہی عورت کو قصوروار مگر یہ حقیقت ہے کہ جب تک اسے موقع نہیں ملے گا تب تک وہ اپنے دماغ میں چل رہی سفاکیت کو منطقی انجام نہیں دے سکتا۔ تو اسے مواقع فراہم کرنا خاتون کی غلطی ہے۔ بڑے بزرگ ٹھیک کہتے ہیں ”تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے“ اکیلا ہاتھ بس دستک ہی دے سکتا ہے یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ اسے دوسرا ہاتھ فراہم کرنا ہے یا نہیں۔ مرد اور عورت برابر ہیں والے معاشرے میں الزام محض کسی ایک پر کیوں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نمرہ جاوید کی دیگر تحریریں
نمرہ جاوید کی دیگر تحریریں