کشمیر رو رہا ہے، ہر کوئی سو رہا ہے

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں آج کل عید قرباں کا موسم ہے ہر کوئی سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے اللّٰہ کی راہ میں بہتر سے بہترین قربانی کی چاہ میں ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اللّٰہ کے ہاں قربانی کا گوشت جانا ہے یا خون یا پھر مسجد کو عطیہ کی ہوئی…

Read more

ڈرامے، لڑکے اور لڑکی کے درمیان عشق، محبت اور غیر ازدواجی معاشقے

کچھ روز قبل ایک پاکستانی ڈراما دیکھنے کا اتفاق ہوا ڈراما بھی ایسا کہ جو سرے سے ہی پاکستانی نہ تھا۔ پاکستانی کلچر کی تباہ کن صورتحال کا عکس میری نظروں کے سامنے تھا۔ اس ڈرامے میں کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جو اخلاقی اقدار کی عکاسی کرتی ہو۔ فحاشی تو ہمارے میڈیا کی…

Read more

دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اللہ تمہارے راستے آسان کرے گا۔

جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے کا ایک گاؤں جہاں تعلیم سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ جہاں تعلیم حاصل کرنا محض زمینداروں اور امیروں کا شیوہ سمجھا جاتا تھا۔ جہاں غریب کا بچہ پیدا ہی محنت مزدوری کے لیے ہوتا تھا۔ اس معاشرے میں تعلیم کو پروان چڑھانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ اسی…

Read more

تنقید برائے اصلاح

ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم سب کے سب سیانے ہیں۔ ہم بات کو سن کر اس کی گہرائی پر غوروفکر کرکے اس کو سمجھنے کی بجائے اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ آپ اس بات کی آزادی رکھتے ہیں کہ آپ کسی کی بات سے غیر متفق ہو سکتے ہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ بالکل ٹھیک ہیں یا دوسرا بالکل غلط ہے، آپ غیر متفق ہیں تو آپ اپنی رائے دیں بھڑاس نہ نکالیں، نہیں جی! ہم نے تو تنقید ہی کرنی ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک ذہانت کا پیمانہ تنقید کرنا ہے، بات کو سمجھنا نہیں۔ اس وقت شاید میں بھی تنقید ہی کر رہی مگر اس کا مقصد محض بات کو واضح کرنا ہے اور کچھ نہیں۔

Read more

ریپ میں قصور وار کون؟

ریپ ہوگیا، فلاں کا کیا قصور تھا؟ اس کی کیا غلطی تھی جو اس کے ساتھ یہ سب ہوا؟یہ تو ہے ہی اسی لائق، کپڑے دیکھا تھا کیسے پہنتی تھی اس کے ساتھ یہی ہونا تھا۔ اس کے برعکس اس نے ایسا کیوں کیا؟ یہ تو ہے ہی بدکردار کوئی بھی لڑکی دیکھ کر اس کی رال ٹپکنے لگتی ہے یہ انسانیت کے نام پر دھبہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ جملے ہیں جو اکثر اوقات ہماری سماعتوں کی نظر ہوتے ہیں مگر آج تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہوسکا کہ قصوروار کسے ٹھہرایا جائے۔ اپنی ہوس کے آگے بے بس ہوچکے مرد کو؟ یا پھر سارا الزام مرد پر لاد کر دامن بچاتی خاتون کو؟

Read more

خواتین کی آزادی یا پھر بربادی

یونیورسٹی میں قدم رکھنے سے پہلے لبرلزم اور فیمنزم کے الفاظ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ یونیورسٹی میں آنے کے بعد جینڈر سٹڈیز کے کورس نے میرا ہاتھ تھام لیا اور یوں یہ الفاظ میرا مقدر بن گئے۔ اسے پڑھ کر میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لبرلزم خواتین کے لیے کون سے حقوق کا طلبگار ہے حقوق نسواں کا یا محض حقوق کا؟ خواتین نے کبھی اس بات کا مطالبہ تو نہیں کیا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہی کیوں؟ باپ کے بھی ہونی چاہیے تو پھر دوپٹہ میں نہیں پہنتی خود پہنو کا مطالبہ کیوں؟

Read more