سنہ 50 کی دہائی میں بچوں کا ادب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب میری فیس بُک پر جناب اعظم طارق کوہستانی کی جانب سے دوستی کی درخواست موصول ہوئی تو میں نے اُن کے صفحے پر جاکر دیکھا تاکہ ان کے متعلق مزید معلومات حاصل کروں۔ میں صرف ان لوگوں سے دوستی کی درخواست کرتا ہوں جن کے مشاغل اور مصروفیات میں میرے یا ان کے لئے کوئی دلچسپی ہو۔ اسی طرح جب مجھ سے کوئی دوستی کی درخواست کرے تو میں بھی جاننا چاہتا ہوں کہ اس سے دوستی میں کوئی باہمی لچسپی ہوسکتی ہے یا نہیں۔ اگر اس کے صفحے پر صرف اس کی تصاویر ہوں یا ادھر اُدھر کے ویڈیو شیئر کیے ہوں تو مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی۔

اعظم صاحب کے صفحے پر نظر پڑی تو معلوم ہوا کہ وہ ماہنامہ ساتھی سے وابستہ رہے ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ میرے بچپن میں بچوں کا ایک رسالہ ماہنامہ ساتھی کے نام سے نکلتا تھا۔ سال تو یاد نہیں البتہ 50 کی دہائی کے ابتدائی سال تھے۔ میں چھٹی یا ساتویں کلاس میں تھا اور پورے مہینے ایک ایک دو دو آنے جمع کرکے مہینے کی پہلی تاریخ کو باقاعدگی سے بک اسٹال پر جاکر بچوں کے چیدہ چیدہ رسالے خریدتا تھا۔ جب ماہنامہ ساتھی کے پہلے شمارے پر نظر پڑی تو میں نے اٹھا لیا اور مجھے کافی دلچسپ لگا۔

چنانچہ ہر ماہ باقاعدگی سے خریدتا تھا۔ چند ماہ بعد ایسا ہونے لگا کہ اس کا تازہ شمارہ بک اسٹال پر نہیں ملا اور معلوم ہوا کہ اس مہینے چھپا ہی نہیں۔ اگلے شمارے میں ایڈیٹوریل میں اظہار افسوس کیا جاتا کہ پچھلے ماہ کا شمارہ شائع نہیں ہوسکا۔ بہرحال جب تک نکلتا رہا تب تک میں باقاعدگی سے پڑھتا رہا۔ بچوں کے دوسرے رسالوں کی طرح ساتھی میں بھی ہرماہ انعامی معمہ چھپتا تھاجس کی فیس چارآنے ڈاک کے ٹکٹوں کی صورت میں حل کے ساتھ بھیجی جاتی تھی۔ ایک بار میرے ایک کلاس فیلو کا انعام بھی نکلا تھا۔ اسکول میں ہی ڈاکیہ ایک روپیہ چودہ آنے کا منی آرڈر لے کر آیا تھا۔

اعظم صاحب کے فیس بک پیچ پر ماہنامہ ساتھی کی ویب سائٹ بھی تھی۔ میں نے کلک کیا تو معلوم ہوا کہ واقعی بچوں کا رسالہ ہے جس میں رنگ برنگے کارٹون، کہانیاں اور لطیفے تھے۔ میں اسے پڑھتے پڑھتے 65 سال پہلے اپنے بچپن میں چلا گیا اور حیرت بھی ہوئی کہ اتنے عرصے سے یہ رسالہ چلا آرہا ہے۔ میں نے اعظم صاحب سے پوچھا کہ کیا یہ میرے بچپن کا ہی رسالہ تھا تو ان کا جواب آیا کہ ماہنامہ ساتھی کراچی سے 1977 میں جاری ہوا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں سنہ 50 کی دہائی کے اوائل کی بات کررہاتھا۔ کچھ دن کے بعد ان کا جواب آیا کہ انہیں محمودالرحمٰن صاحب کے پی ایچ ڈی کے مقالے میں کراچی سے شائع ہونے والے ماہنامہ ساتھی کا تذکرہ ملتا ہے جو 50 کی دہائی میں کچھ طلباء نے نکالا تھا اور غالباً بجٹ کی کمی کا شکار ہوکر بند ہوگیا۔

اس زمانے میں بچوں کے کئی رسالے باقاعدگی سے نکلتے تھے۔ دہلی سے بچوں کی دنیا بڑا معیاری رسالہ تھا۔ یہ رسالہ اب بھی نکلتا ہے۔ دہلی سے ہی ماہنامہ کھلونا الیاس دہلوی کی ادارت میں نکلتا تھا جس میں میاں فولادی کے کارٹون ہوتے تھے اور کرشن چندرکا ناول الٹا درخت سلسلہ وار شائع ہوتا تھا۔ کھلونا کے زیادہ تر قارئین کی عمر اب 60 اور 80 سال کے درمیان ہے۔ ان میں سے اکثر اب بھی ردی فروشوں کی کیبنوں پر کھلونا کے پرانے پرچے تلاش کرتے ہوئے ملیں گے۔

1953 میں حکیم سعید نے ہمدرد نونہال کا اجراء شروع کیا جو اب تک نکلتا ہے۔ حیدرآباد سندھ میں ڈاکٹر نامی کافی مشہور ہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے۔ ان کا ایک بیٹا خالد غالباً ڈوب کر ختم ہوگیا تھا۔ اس کی یاد میں ڈاکٹر صاحب نے خالد میموریل ہائی اسکول قائم کیا تھا۔ علاوہ ازیں بچوں کا ایک رسالہ خالد کے نام سے نکالا تھا مگر وہ زیادہ چلا نہیں۔ لاہور سے فیروز سنز 1940 سے تعلیم و تربیت نکال رہے ہیں جو میں بہت شوق سے پڑھتا تھا۔

ان دنوں بچوں کے رسالے عموماً چار آنے کے ملتے تھے۔ سال نامہ البتہ ضخیم ہوتا تھا اور قیمت ایک روپیہ تک ہوتی تھی۔ سال نامے کا انتظار کئی مہینے پہلے سے شروع ہوجاتا تھا۔

1951 میں جنگ گروپ نے ماہنامہ بھائی جان نکالنا شروع کیا جو دس سال تک چلا۔ روزنامہ جنگ میں ہی ان دنوں ہفتے میں ایک بار بچوں کا صفحہ شائع ہوتا تھا جس میں نظمیں، کہانیاں، لطیفے وغیرہ ہوتے تھے۔ یہ صفحہ نونہال لیگ کے نام سے موسوم تھا اور اس کے ایڈیٹر کا نام تھا ”بھائی جان“ اور شفیع عقیل اس کے کرتا دھرتا تھے۔ جن مشہور ادیبوں نے لکھنے کی ابتداء نونہال لیگ سے کی ان میں حسینہ معین، انور شعور، مستنصر حسین تارڑ، عبید اللہ علیم، غازی صلاح الدین اور قمر علی عباسی کے نام آتے ہیں۔

ہرہفتے نونہال لیگ کے نئے ممبروں کی تصویریں، نام، پتے اور مشغلے چھپتے تھے۔ ممبر بننے کے لئے اپنی تصویر چار آنے کے ڈاک کے ٹکٹوں کے ساتھ بھیجنی پڑتی تھی۔ جب مجھے بھی نونہال لیگ کا ممبر بننے کا شوق ہوا تو فٹ پاتھی فوٹوگرافر سے تصویر کھنچوائی۔ اس زمانے میں فٹ پاتھ پر فوٹوگرافر اپنا کیمرہ فٹ کردیتے تھے جو کالے رنگ کا ایک بڑا سا ڈبہ ہوتا تھا۔ دیوار پر ایک پوسٹر چپکا دیتے تھے جس پر ایک باغ کا سین ہوتا تھا۔

کچھ مور بھی اھر ادھر چُگتے ہوئے نظر آتے تھے۔ میں نے جو تصویر کھنچوائی اس میں روئی کی ایک مرزئی پہن رکھی تھی اور سر پر لیاقت کیپ تھی۔ جناح کیپ اور لیاقت کیپ میں صرف اتنا فرق تھا کہ جناح کیپ لمبوتری ہوتی تھی اور لیاقت کیپ گول۔ اس زمانے میں میرے سر پر استرا پھرتا تھا کیونکہ والد صاحب انگریزی بالوں کے سخت خلاف تھے۔

میں نے ایک کاغذ پر نام اور پتہ لکھا، مشغلے تھے قلمی دوستی اور ڈاک کے ٹکٹ جمع کرنا۔ اس زمانے میں ہر دوسرے تیسرے لڑکے کے یہی دو مشاغل ہوتے تھے۔ لفافے میں اپنی تصویر اور چارآنے کے ڈاک کے ٹکٹ بطور ممبر شپ فیس رکھ کر بھائی جان معرفت روزنامہ جنگ، کراچی کو پوسٹ کردیا۔ اس کے بعد بے چینی سے انتظار کرنے لگا کہ کب میری تصویر چھپتی ہے۔ ہرہفتے نونہال لیگ کا صفحہ دیکھتا۔ آخر خدا خدا کرکے اپنی تصویر دکھائی دی اور پہلی نظر میں وہ بڑی سی پھنسی نظر آگئی جو میرے اوپر کے ہونٹ پر نکلی ہوئی تھی۔ نونہال لیگ کا ممبر بننے کے لئے وہ پھنسی ٹھیک ہونے کا انتظار کون کرسکتا تھا؟

بات ہورہی تھی بچوں کے ادب کے متعلق مگر یہا ں اتنا اوربتاتا چلوں کہ میرا نام اور پتہ نونہال لیگ میں چھپنے کے نتیجے میں مجھے لاہور سے ایک لڑکے نے خط لکھا۔ وہ آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اور اس کے مشاغل بھی قلمی دوستی اور ڈاک کے ٹکٹ جمع کرنا تھا۔ اس نے مختلف ممالک کے ڈھیر سارے ٹکٹ لفافے میں ڈال کر بھیجے۔ مجھے ڈاک کے ٹکٹ جمع کرنا دراصل اسی نے سکھایا۔ جو ٹکٹ اسے پسند آتا اس پر پورا مضمون لکھ ڈالتا جس میں اس ملک کی آبادی، محل وقوع، صنعت و حرفت اور زبان کے متعلق معلومات ہوتیں۔ اسی کے خطوط سے مجھے معلوم ہوا کہ کیوی نیوزی لینڈ میں ہوتی ہے اور سین میرینو یورپ کا سب سے چھوٹا ملک ہے جس کا رقبہ 24 مربع میل ہے۔ جتنا جغرافیہ میں نے اس قلمی دوست سے سیکھا اتنا شاید اسکول میں بھی نہیں سیکھا۔ میری اور اس کی دوستی کئی سال رہی مگر پھر ہم بڑے ہوگئے۔

حوالہ جات

https://www.taemeernews.com/2018/03/children-urdu-literature-krishan-chander-novel.html

https://www.bbc.com/urdu/entertainment/2013/09/130907_shafi_aqeel_died_fz

http://twocircles.net/2008jun15/old_timers_miss_enchanting_urdu_monthly_kids.html

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •