خورشید شاہ پارلیمانی سیاست کے ہومیوپیتھک ڈاکٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران کسی قسم کی تلخ کلامی، ہنگامہ آرائی یا گڑبڑ کی صورت میں اسپیکر کی جانب سے جو جملہ سب سے زیادہ سننے کو ملتا ہے وہ ہے ”جائیں شاہ صاحب! انہیں منائیں شاہ صاحب! ایوان کے ماحول کو بہتر بنانا آپ سے زیادہ اور کون جانتا ہے شاہ صاحب! جیسا کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے آج تذکرہ ہو رہا ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کا ایک طویل عرصے سے یہ ہی دیکھا جارہا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی چاہے مسلم لیگ ق کے امیر حسین ہوں، پاکستان پیپلز پارٹی کی فہمیدہ مرزا یا پھر مسلم لیگ ن کے ایاز صادق مفاہمتی عمل کے لیے سب کی زبان پر سید خورشید شاہ کا ہی نام ہوتا ہے۔

دھیمے مزاج کے باعث ان سے ذاتی اختلاف رکھنے والوں کی فہرست کافی مختصر ہے۔ 1990 میں پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ جب سے لے آج تک خورشید شاہ نے مفاہمتی سیاست کا دامن تھام رکھا ہے۔ شاہ صاحب کا شمار ان چند افراد میں ہوتا ہے جہنوں نے ہمیشہ پارلمینٹ کو اہمیت دی۔ قومی اسمبلی میں خورشید شاہ کی تقاریر کا جائزہ لیا جائے تو ریاست کا کوئی بھی مسئلہ ہو انہوں نے پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کو مذاکرات میں میز پر آنے کی دعوت دی۔ سڑکوں پر آ نے کی سیاست سے وہ کوسوں دور رہے۔

شاہ صاحب وہ واحد پارلیمنٹیرین ہیں جہنوں نے سب سے زیادہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلوانے کی تجویز دی۔ پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران مخالفین پر طنز کرتے ہوئے وہ یہ محاورہ اکثر استعمال کرتے ہیں کہ ”نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی“۔ یہ محاورہ معمول سے ذرا ہٹ کر ہے اس لیے سنے والوں کو یاد رہ جاتا ہے۔ گزشتہ حکومت کے دور میں جب شاہ صاحب قائد حزب اختلاف تھے تو قومی اسمبلی میں ان کا چیمبر ورکنگ جرنلسٹ کا ڈیرہ بنارہتا تھا جب پارلمینٹ سے خبروں کا بازار گرم ہوتا تو تمام رپورٹرز صبح سے ہی ان کے چیمبر میں بیٹھ جاتے شاہ صاحب چاے بسکٹ کے ساتھ اپنے تجزیوں اور تبصروں سے ہماری خاطر تواضع کرتے باہر آکر سب اپنی اپنی مرضی کی خبر بنالیتے یوں ہمارا بھی کام ہوجاتا۔ خورشید شاہ نے ہمیشہ ٹی وی اینکر کے مقابلے میں ورکنگ جرنلسٹ کو ترجیح دی۔

اسی دور کی بات ہے کہ قائد حزب اختلاف ( خورشید شاہ) اور اسپیکر کے درمیان ہونے والی ہلکی پھلکی نوک جھونک اکثر خبروں کی زینت بنی رہتی ایک ایسا ہی واقعہ یاد آیا کہ شاہ صاحب ایوان میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے پر پرجوش خطاب کررہے تھے خطاب کے دوران انہوں کہا کہ ”اب یہ وقت آگیا ہے کہ میں گھر جاتا ہوں تو میری بیوی مجھ سے لڑتی ہے کہ آپ پارلیمنٹ کے کیسے ممبر ہیں کہ قیمتوں میں اتنا اضافہ؟ پتہ ہے ٹماٹر 180 روپے کلو ہوگئے ہیں“۔

ابھی شاہ صاحب کے یہ جملے مکمل ہی ہوے تھے کہ سابق اسپیکر ایاز صادق بولے ”اؤ ہو شاہ آپ نے یہ بات کھلے عام بول کر ہماری بیویوں کو موقع فراہم کردیا ہم سے جھگڑنے کا! میری آپ سے درخواست ہے احتیاط کریں ورنہ گھر کا سکون برباد ہوجاے گا“ پورا ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا اور کئی روز تک اس جملے بازی کا ذکر خبروں میں ہوتا رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی قیادت کو چاہے محترمہ بینظیر بھٹو ہوں یا آصف علی زرداری شاہ صاحب کی صلاحیتوں پر بڑا اعتماد ہے پی پی پی جب بھی حکومت میں آئی بدقسمتی سے مخلوط حکومت بنی جس کی وجہ سے قومی اسمبلی سے بجٹ، آئینی ترمیم یا کوئی بل پاس کروانا پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے کسی چیلنچ سے کم نہ ہوتا ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے شاہ صاحب کو بڑی مہارت حاصل ہے کہ کیسے اپوزیشن ارکان کو آگے پیچھے کرنا ہے اتحادیوں کی حاضری کیسے یقنی بنانا ہے اس لیے یہ ٹاسک شاہ صاحب کو دیا جاتا جسے وہ کامیابی سے پورا کرلیتے۔

خورشد شاہ مفاہمت اور مفاد میں فرق خوب جانتے ہیں آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کیسے تو ایسے کہ اٹھارویں ترمیم پیپلز پارٹی حکومت کا بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے جس کے تحت کئی وزارتوں اور ان سے منسلک اداروں کو صوبوں کے ماتحت جانا تھا مگر خورشید شاہ جو اس لیبر اینڈ ورکس کے وفاقی وزیر تھے۔ تین نہایت اہم اداروں کو صوبوں کے حوالے کرنے کی مخالف کردی۔ کیونکہ یہ شاہ صاحب کی وزارت کے مفاد میں تھا۔ وہ تین ادارے جن میں ای او بی آئی، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور آوور سیز پاکستانی فیڈریشن شامل ہیں آج تک خورشید شاہ کی مخالف کے باعث وفاق کے پاس ہیں۔

اگر کبھی مفاہمت پر مفاد غالب بھی آجاے تو کوئی انہونی بات نہیں۔ مگر یہ بات تو مانے والی ہے کہ پارلیمنٹ کو ان جیسے ارکان کی بڑی ضرورت ہے۔ تاکہ مار دھاڑ، ہنگامہ آرائی کی سیاست کو شکست دی جاسکے۔ شاہ صاحب کا مفاہمتی طرزِ سیاست ہی کچھ ایسا ہے اگر کسی کو فائدہ نہ دے سکے تو نقصان بھی نہیں پہنچاتا۔ اس لیے تو خورشید شاہ کو پارلیمانی سیاست کا ہومیو پیتھک ڈاکٹر کہا جاتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •