غریب مریض بھی شفا مانگتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بائیس کروڑ کی آبادی میں گنتی کے چند سرکاری ہسپتال۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سرکاری ہسپتالوں کا فقدان۔ پچھلے دنوں مجھے سرکاری ہسپتال میں جانے کا اتفاق ہوا۔ مریضوں کا رش تھا۔ پرچی لینے والوں کی ایک لمبی قطار۔ پرچی لینے میں کم از کم دو گھنٹے لگ جاتے ہیں کہ قطار بہت زیادہ لمبی تھی۔ دو گھنٹے کے انتظار کے بعد جب مریض پرچی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور درِ مسیحا تک رسائی حاصل ہوئی تو یہاں بھی پرچی جمع کروانے کے بعد طویل قطار تھی مریضوں کی اور انتظار لاحاصل تھا کیونکہ ہسپتال کی بجلی کی تاروں میں خرابی کی وجہ سے بجلی غائب تھی۔ اور جنریٹر کام نہیں کر رہا تھا۔ تو ایسی بلا کی گرمی میں ڈاکٹرز کیسے موجود ہو سکتے تھے۔ تمام ڈاکٹرز اپنے مریضوں کو چھوڑ کر باہر جا چکے تھے۔ کہ جب بجلی آئے گی تو ہم بھی آ جائیں گے۔ میں شکایت لے کر ایم ایس کے کمرے تک گئی تو ان تک رسائی نہ پا سکی۔ کہ باہر بیٹھے ان کے خدمت گار شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نکلے۔ انھوں نے کہا کہ صاحب بیچارے تو خود گرمی میں بیٹھے ہیں۔

گویا یہ ہم پر احسان تھا کہ وہ اے سی چلنے کی وجہ سے ٹھنڈے ہوئے کمرے کو چھوڑ کر باہر نہیں گئے۔ وہ صاحب کہنے لگے آپ صبر کریں جونہی لائٹ آتی ہے، ڈاکٹرز آجاتے ہیں۔ میں نے ان صاحب سے کہا کہ جو مریض اتنی دور دور سے آئے ہیں کیا وہ اس وجہ سے واپس چلے جائیں کہ ڈاکٹرز کو گرمی لگ رہی تھی اس لئے وہ اٹھ کر چلے گئے۔ دور دراز سے آئے لوگ کیا انسان نہیں۔ کیا انھیں گرمی نے بے حال نہیں کر رکھا۔ خیر میرے پاس ایک ڈاکٹر کا نبمر تھا میں نے انھیں کال کی کہ آپ نے ہسپتال کب آنا ہے تو انھوں نے فرمایا میں دو بجے کے بعد کلینک بیٹھتا ہوں، آپ آ جانا۔

میں نے کہا میں گورنمنٹ ہسپتال کی بات کر رہی ہوں تو کہنے لگے آپ انتطار کریں لائٹ آنے تک۔ پتہ نہیں اللہ نے ہماری شکایت کی لاج رکھی یا ڈاکٹرز کا بھرم کہ بارہ ساڑے بارہ کے قریب لائٹ آگئی اور ڈاکٹرز بھی۔ ورنہ تو دل چاہ رہا تھا کہ میڈیا کے نمائندوں کو بُلا لوں تاکہ لاکھوں کی مد میں وصول کرنے والے ان مسیحاؤں کی ذمہ داری دنیا کو دکھائی جائے۔ ادھر سینکڑوں مریض تھے۔ ظاہر ہے وہ جگہ پکنک سپاٹ تو تھی نہیں جو وہ انجوائے کرتے۔

وہ سب دور دراز کے علاقوں سے اپنی اپنی بیماریوں کی وجہ سے مجبور ہو کر علاج کی غرض سے آئے تھے۔ کیا ان بیماری سے پریشان لوگوں کو گرمی نہیں لگ رہی تھی۔ یا پھر لاکھوں کی مد میں تنخواہ اور دیگر مراعات وصول کرنے والے ڈاکٹرز چند گھنٹوں کی گرمی کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ چھ لاکھ کی آبادی رکھنے والے ضلع سیالکوٹ میں صرف دو سرکاری ہسپتال ہیں جہاں دور دور سے لوگ علاج کی غرض سے آتے ہیں۔ ان میں بھی ڈاکٹرز مریضوں کو عدم توجہی سے دیکھتے ہیں۔

مریضوں کے لئے ناکافی بستر ہیں۔ لیبارٹری کی سہولیات نہ ہونے کے برابر۔ جو سہولیات ہیں ان کی رپورٹ پر ڈاکٹرز خود اعتبار نہیں کرتے۔ اور زیادہ ترجیح دیتے ہیں کہ مریض باہر کی لیبارٹری سے رپورٹ کروائیں کہ ہسپتال کی مشینری کی رپورٹ اتنی ٹھیک نہیں ہوتیں۔ اب پتہ نہیں کہ مشینوں میں خرابی ہوتی ہے یا عملی کے دماغوں میں۔ اس کے علاوہ پنجاب کے بیشتر شہروں میں بلکہ ہر شہر ہی سے سیریئس مریض کو لاہور ریفر کیا جاتا ہے کہ یہاں ایسا کوئی انتظام نہیں، اسے لاہور لے جائیں۔

دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہسپتال میں ڈاکٹرز اتنے قابل نہیں۔ لاہور جاتے ہوئے بیشتر مریض دم توڑ جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 1 کروڑ 11 لاکھ کی کی آبادی رکھنے والے شہر میں بھی سرکاری ہسپتالوں کی تعداد 16 ہے۔ جہاں پورے پنجاب سے سے لوگ علاج کی غرض سے آتے ہیں۔ لیکن ان ہسپتالوں میں بھی تسلی بخش انتظام نہیں۔ اگر ڈاکٹرز مریض کو ٹیسٹ لکھ کر دیتے ہیں تو ان ٹیسٹوں کے لئے ہسپتال کی لیبارٹریوں سے کئی کئی مہینوں کی تاریخ دی جاتی ہیں اور ان کی رپورٹ آنے کے بعد اگر مریض کو آپریشن کی ضرورت ہو تو ایک بار پھر ایک لمبی تاریخ۔

ان تاریخوں کر کے دوران یا تو مریض کی بیماری بڑھ جاتی ہے یا مریض کی عمر گھٹ چکی ہوتی ہے۔ اور وہ انتطار کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے ابدی سفر کو روانہ ہوجاتا ہے۔ جو لوگ افورڈ کرسکتے ہیں وہ تو علاج کے لئے مہنگے پرائیوٹ ہستالوں کا رُخ کرتے ہیں۔ بعض دفعہ جو ان ہسپتالوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے وہ لوگ بھی پرائیوٹ ہسپتال جانے پہ مجبور ہوتے ہیں۔ جو زیادہ امیر طبقہ ہے وہ بیرونِ ملک علاج کی غرض سے چلے جاتے ہیں۔

انگریزوں کے دور کے بنے ہسپتال بھی اب اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ جنھیں وقتَا فوقتَا مرمت کی آکسیجن فراہم کی جاتی ہے۔ جس حساب سے شرح امراض میں اضافہ ہورہا ہے اس س حساب سے ملک میں ہسپتالوں کی مجموعی تعداد بہت کم ہے۔ مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نطر مزید نئے ہسپتالوں کے قیام۔ کی ضرورت ہے۔ نئی مشینری کی ضرورت ہے۔ ماہر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ یعنی صحت کے ہر شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جگر، معدہ، دل اور کینسر جیسے موذی امراض کے لئے بھی الگ سے ہسپتالوں کی ضرورت ہے۔

اور پھر ان ہسپتالوں میں اخراجات کے لحاظ سے بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ کہ ہسپتالوں میں یہ تو ہوتا ہے کہ غریبوں کا علاج مفت ہوگا۔ لیکن اس کے لئے لوگوں کو ایک تکلیف دہ مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ کہ ادھر لکھ کے دینا پڑتا ہے کہ آپ زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔ اور پھر ایک لمبا چوڑا پراسس ہوتا ہے۔ لیکن سفید پوش طبقہ کدھر جائے۔ جس پر زکوٰۃ نہیں لگتی یا پھر وہ زکوٰۃ لینا نہیں چاہتے۔ اور کینسر، ہیپاٹائٹس جیسے موذی امراض کی ادویات وہ افورڈ بھی نہین کرسکتے۔ وہ کدھر جائیں۔ سو ہستالوں کے نظام میں زکوٰۃ فنڈ ختم کر کے شفا سب کے لئے کا نظام بنانا چاہیے۔

گورنمنٹ کی سطح پر نئے ہسپتال بننے کی ضرورت ہے۔ جانے حکومتیں اس بات پر دھیان کیوں نہیں دیتیں۔ ایک سرکاری ہسپتال کے ساتھ، سامنے اس کے دائیں بائیں درجنون کے حساب سے بننے والے پرائیوٹ ہسپتالوں کی بھرمار کیا حکمرانوں کو چیلنج نہیں کرتیں کہ سرکاری ہسپتالوں کی ضرورت ہے؟ پرائیوٹ ہسپتالوں میں بیٹھے ڈاکٹرز کی بھاری بھرکم فیسیں، مہنگے علاج اور سرکاری ہسپتال کی وارڈ میں علاج کی ناکافی سہولتوں اورعملے کی غفلت کی وجہ سے مرجانے والے مریضوں کے لواحقین کی چیخ و پکار کیا حکمرانوں کے دلوں کو نہیں جھنجھوڑتیں؟ کب تک آخر کب تک ہم یوں سسک سسک کر مرتے رہیں گے اور ہمارے بے جان لاشوں پر یہ لوگ اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •