ایک خط محرموں کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بابامیرے! بھیا میرے! مجھ کودیکھو
بابامیں ہوں تیری دُلاری
بھیا میں ہوں تیری پیاری
بابا تیری بانہوں نے مجھ کو جُھولا جُھلایا
بھیا تیرے ہاتھوں نے میرا بستہ اُٹھایا
امّاں تیرے ہاتھوں نے میٹھا کھانا کھلایا

بچپن بیتا ہنستے کھیلتے
آئی پھر الہڑ سی جوانی
جس سے ہوگئی میں دلگیر
خود ہی صیاد خود ہی اسیر
دنیا کے گہرے سمندر میں
خود ہی موتی خود ہی غوطہ خور
بھید نہ پایاکتنے میرے رُوپ سُروپ
کبھی میں بنی اندھیرا کبھی بنی میں دھوپ

بابا میرے! بھیا میرے!
مجھ کو بنایا تم نے ایک پہیلی
ورنہ اللہ کی رحمت میں کہلائی
اصل میں ہوں میں اپنی ماں کی سہیلی

بابا یہ خط ہر اس بیٹی کے دل کی آواز ہے جو اس دھرتی پہ جنم لیتی ہے۔ پتہ ہے اس کی زندگی کا محورو مرکز اس کا باپ اور بھائی ہوتا ہے۔ زندگی کی کڑی دھوپ میں یقینا وہ شجر سایہ دار کی طرح ہیں۔ بیٹی اپنے ان توانا رشتوں کی اوٹ میں محبتیں ڈھونڈتی رہتی ہے اور وہ اسے محبت کی بجائے صرف عزت کے ترازو میں تولتے رہتے ہیں۔ بیٹی کی روح ہمہ وقت محبت کی متلاشی رہتی ہے۔ باپ اور بھائیو ں کے ہوتے اسے کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔

لیکن جب یہی رشتے اسے بیچتے ہیں تو کتنی کم مائیگی کا احساس دل میں گھر کر جاتا ہے۔ یوں توصدیوں سے عورت کا استحصال ہوتا آیا لیکن آج ٹیکنالوجی کے اس دورِ جدید میں اس طرح کے واقعات کا وقوع پذیر ہونا نہایت ظلم اورجہالت کی بات ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے چینی لڑکوں اور پاکستانی لڑکیوں کی شادیاں اور ان کا سمگل ہونا بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔ پہلے تو یہ بے چاری اپنوں کے ہاتھوں رسوا ہوتی رہی اور اب غیروں کے ہاتھوں بے دریغ اسے بیچا جارہا ہے۔

چین جیسا ملک جو عالمی طاقت بننے کو بے قرار ہے سُن کر حیرت ہوئی کہ چین میں مالی طور پر مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے وہ لوگ پاکستانیوں کی مجبوریوں کو لڑکیوں کی شکل میں خرید رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چینی روایات کے مطابق شادی سے قبل لڑکا اپنی ہونے والی دلہن کو ایک لاکھ یوآن تقریباً پاکستانی اکیس لاکھ روپے ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے وگرنہ وہ شادی نہیں کرسکتا۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ لڑکی کی شادی کے تمام تر اخراجات بھی اسی چینی لڑکے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

واہ رے بابا! کیسی تقدیر تُو نے لکھی میری؟ ترازومیں ایک طرف مجھے بٹھایا اور دوسری طرف پیسہ۔ ۔ یہ کیسی محبت ہے۔ میری قیمت صرف اکیس لاکھ ٹہری۔ بھیا میرے! اک بار مجھ سے تو کہا ہوتا میں تم پہ اپنی جان وار دیتی۔ تم نے تو ایک ویزہ لینے کی خاطر بابا کے ساتھ مل کر میری پلکوں پہ سجے سارے خواب توڑ ڈالے۔ روپے کی چکا چوند میں تمہاری آنکھیں اندھی ہوگئیں۔ یہ بھی نہ سوچا دیارِ غیر میں مجھ سے کیا سلوک ہوگا۔

کتنے موسم آئے اور بیت گئے مرد نے ہمیشہ اپنی عزت بچانے کی خاطر اپنی عورتوں کو قربان کیا۔ تاریخ میں تخت و تاج کے لیے بہنوں اور بیٹیوں کو پیش کیا گیا۔ راجپوت حکمرانوں نے شہنشاہ اکبر کو شادی کے لیے اپنی لڑکیاں پیش کرکے مغلیہ سلطنت میں مراعات حاصل کیں۔ جنگوں کے زمانے میں بھی عورت کی قربانی کا رواج قائم ہوا۔ اس سے بِنا پوچھے اس کی قربانی نے کتنی جنگوں کو روکا آپس کی تلخیوں کو مٹایا۔ سماج میں امن قائم ہوا لیکن ظلم یہ کہ تاریخ کے کالے صفحات عورت کی قربانیوں کے ذکر سے خالی ہیں۔

کبھی عورت کو دیوی دیوتاؤں کی خاطر قربان کیا گیا اور کبھی دریاؤں کی طغیانی سے بچنے کے لیے دریا بُرد کردیا گیا۔ کبھی جنگوں میں مالِ غنیمت سمجھا گیا۔ رونا اس بات کا ہے کہ آج بھی اسے مالِ غنیمت ہی جانا گیا۔ کبھی عزت، وراثت اور جائیداد کے نام پہ یہ کٹتی رہی، مٹتی رہی۔ یہاں ایک اہم نکتہ اُٹھانا چاہتی ہوں ہم اپنی بیٹیوں کو بیاہنے کے بعد برملا کہتے ہیں بس وہیں گزارا کرنا۔ یہ درست ہے کہ بیٹیاں رحمت کہلائیں لیکن نجانے کہاں سے امن اور شانتی کے ٹھنڈے بادلوں میں سے نحوست کے ٹکڑے کا سورج گرہن بیٹی کو بوجھ سمجھنے کی صورت میں ظاہر ہوا۔

بابا میرے سُنو! جب سُسرا ل میں مجھ سے بُرا سلوک ہو تو میں ماں کو بتاتے ہوئے کہتی ہوں ماں بابا اور بھیا کو بتاؤتو ماں اپنے ہونٹوں پہ انگلی رکھے مجھے پُچکارتی اور دعائیں دیتی کہتی ہے دیکھو صبر کرو لو گ کیا کہیں گے۔ میرا کبھی حوصلہ نہ ہوا، میں کبھی آگے بڑھ کر بابا اور بھیا کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہہ نہ سکی کہ ”میں اپنے گھر میں خوش نہیں ہوں“۔ دنیا کی مادی چیزیں مجھے کیا کسی کو بھی روح کی سچی خوشی نہیں دے سکتیں۔

بھیا میرے! اگر تم میری بات سُن لیتے تو میں کبھی رُسوا نہ ہوتی، کبھی بے مول نہ بکتی، کبھی میری عزت کی دھجیاں نہ اُڑتیں۔ بیٹی تو میکے اور سُسرال دونوں کی عزت کا دکھ اپنے سینے میں کچھ اس طرح اُتار لیتی ہے اس کے دل میں ٹیسیں اُٹھتی ہیں اور اس کے بدن کا ذرّہ ذرّہ دُھنکی ہوئی روئی کی مانند ہوجاتا ہے۔ لیکن وہ اپنے بکھرے وجود کواس طرح سمیٹ کرترتیب دیتی ہے کہ کوئی اس کے کرب کو جان نہیں پاتا۔ بابا میرے!

دنیا کے ہر ادب میں باپ کی طرف سے بیٹیوں کے لیے شاعری کی گئی باپ کے دل میں چُھپے وسوسے اور خدشے اسے لمحہ لمحہ سکھی رہنے کی دعائیں دیتے ہیں۔ بابا میرے! یاد ہے بچپن میں جب تم دفتر سے آتے تھے تو میں دوڑ کر دروازے پہ پہنچ جاتی اور تمہاری لائی ہوئی چیزوں کو پاکر خوشی سے پُھولی نہیں سماتی تھی۔ بابا میرے! جب میری زندگی میں غم کے سیاہ بادل چھاجائیں، جب میں زندگی میں کمی محسوس کروں، محبت کی متلاشی ہوں، جب مجھے اپنا وجود بے کارلگنے لگے تو میرے کانوں میں تمہاری باتیں گُونجتی ہیں اور میں اپنے سر کا تاج سیدھا کرنے لگتی ہوں کہ مجھے اِسے گِرنے نہیں دینا۔

بابا میرے! بھیا میرے! آج یہ خط میں اس دھرتی کی ہر بیٹی کی طرف سے لکھ رہی ہوں جو خوف کے مارے اپنی زندگی اور عزت دونوں ہار جاتی ہے۔ بابا! بھیا! میں اس خط کے ذریعے اس دھرتی کے سب محرموں سے درخواست کرتی ہوں خدارا! اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو اعتماد دیجیے انہیں سینے سے لگائیے۔ ”محرم“ کا اُردو میں مطلب ہوتا ہے بہت قریبی دوست جن سے آپ بلاتکلف ہر سکھ اور دکھ بانٹ سکیں۔ ظاہر ہے یہ تو ہم سب ہی مسلمان ہونے کی حیثیت سے جانتے ہیں کہ محرموں سے شادی تو نہیں ہوسکتی لیکن یہ محرم ہی ہوتے ہیں جو اسے شہزادی بنا کر رکھتے ہیں یا سرِ بازار نیلام کر دیتے ہیں۔

بیٹیوں کو جہیز جیسی غلیظ لعنت سے چُھٹکارا دیجیے۔ لالچی لوگوں کو اپنے گھروں میں قدم بھی نہ رکھنے دیں۔ بیٹیوں کی بے جوڑ شادیوں کے نام پہ خود کو فریب میں مُبتلا کرنا بند کیجیے۔ ان دنوں ہر روز اخبارات اور ٹی۔ وی پہ بیٹیاں کہیں جہیز، کہیں جائیداد، کہیں کردار، کہیں عزت کے نام پہ ماری جارہی ہیں۔ خدارا! آگے بڑھ کر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو بدنام ہونے سے بچائیے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے دکھوں کو سہلائیے کہ وہ بڑھ کر پہاڑ نہ بن جائیں۔

دنیا میں بیٹیوں اور بہنوں کو بیچنے والوذرا سوچویہ کتنے گھاٹے کا سودا کر رہے ہو۔ چند سکوں کے عوض دنیا میں ہی اپنی جنت بیچ ڈالتے ہو۔ ارے مظلوم سے نیکی تو جنت کی وادیوں میں لے جاتی ہے۔ ان کی بات سُنیے! اُن کو مان دیجیے! ورنہ اُمتی ہونے کی وجہ سے یومِ حساب حضورِ اعلیٰ رسالت مآبؐ کو کیا جواب دیں گے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>