تعلیمی نظام موت کا سبب کیوں؟
پیدا ہونے کے تین سال بعد ہی بچے کو سکول میں داخل کروا دینا، ایک عام فعل سمجھا جاتا ہے۔ اس سوچ سے ہٹ کر کہ بچے کی تربیت اور اس کی ذہنی صلاحیت پر کیا اثر پڑے گا۔ آج کل کی مائیں اکثر اوقات بچوں کی شرارت سے جان چھڑوانے کا حل، ان کو سکول میں داخل کروا دینا سمجھتی ہیں۔ جہاں کبھی بھی اس کی تربیت گھر جیسی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ایک استانی بیس بچوں پر نظر رکھتی ہے، جبکہ ماں اپنی مکمل توجہ بچے کو دیتی ہے۔
ستم صرف یہ نہیں کہ کھیل کود کی عمر میں اسے سنجیدہ رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، بلکہ جس طرح سال گزرتے جاتے ہیں، اگلی جماعت میں جانے کے ساتھ ساتھ ذہنی مشکلات میں پڑ جاتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج کل چھوٹی سی عمر میں بچے ”ڈپریشن“ کا شکار ہو رہے ہیں۔ بچوں کو اپنی اپنی صلاحیت پر کام کرنے کی بر عکس ایک ہی ترازو میں تول کر ان پر ”ذہین“ اور ”کند ذہن“ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ پریشانی دوسرے بچوں سے بہتر کام کرنے کی اور امتحان میں اچھا نتیجہ لانے کی ہے۔ اگر بچہ فیل ہو گیا تو کیا ہو گا، والدین اور اساتذہ پہلے ہی دن سے ذہن میں خوف اور پریشانی ڈال دہتے ہیں۔ اس سے خود اعتمادی مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔
جب ڈپریشن کا یہ سلسلہ حد سے آگے بڑھتا ہے، تو متاثرہ بچہ عجیب حرکات کرتا ہے۔ جس پر والدین اور آس پاس کے لوگ غور کرنے کے بر عکس مزید ڈانٹ ڈپٹ کر کے اور پریشانی پیدا کرتے ہیں، جس سے بچہ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ اکثر اوقات امتحانات سے تنگ آ کر بہت سے طالبعلم خود کشی کو ذریعہ نجات سمجھتے ہیں۔ آج ایک طلحہ ایوب نامی طالبعلم کی 18 سال کی عمر میں خود کشی کی خبر نے نہایت افسردہ کیا۔ کتنے ہی طلحہ اور اسی امتحان کے ڈر سے موت کو گلے لگا لیتے اور کتنے طالبعلم نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔
سکول، کالج اور یونیورسٹی کے 16 سال کی محنت کے باوجود بے روزگاری پاکستان کا اہم مسئلہ ہے۔ صرف 16 سال نہیں، بہت سے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز بھی بے روزگار ہیں۔ اتنی محنت اور پھر بھی مایوسی کے بعد بھی انسان زندہ رہنے پر خوشی سے آمادہ ہو سکتا ہے مگر افسوس، ہمارے معاشرے سے ملی ان پریشانیوں اور ذہنی مشکلات سے نکلنا ناممکن ہے، جو بچپن سے ہی مسلسل ذہن میں ڈالی جا رہی ہوں۔
تعلیم کا مقصد انسان کو اس کے اس مقام پر پہنچانا ہے جس کا اسے خدا تعالی نے حقدار بنایا ہے مگر کیا ایسا معاشرہ قابل قبول ہے جہاں امتحان کے ڈر سے طالب علم خود کشی کر لیں؟ اس میں قصورصرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو اس ذہنی پریشانی میں اضافہ کرتا ہے۔ ہر کسی کو اس مسئلے کو نہایت سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ مستقبل کے خاموش ستاروں کا خاموش قتل قابل قبول نہیں۔


