کالونیل عہد کا تعلیمی تجزیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنگ پلاسی کے بعد انگریزوں نے میر جعفر سے پیسے وصول کر کے بنگال میں سراج الدولہ کو شکست دے کر اسے تخت نشین کیا تھا گویا ہندستان میں کالونیل عہد کی یہ براہ راست ابتداء ہے جس کے بعد آئندہ سو سال تک ہندستان خانہ جنگی کا شکار رہا اور پنجاب میں دس سالہ بچے کے ساتھ معاہدہ کر کے انگریزوں نے 29 مارچ 1849 ء میں پنجاب پر بھی قبضہ کر لیا اس سے قبل کشمیر پہلے ہی 70 لاکھ روپے کے عوض انگریزوں نے فروخت کر دیا تھا۔

انگریز راج کا جھنڈا پورے ہندستان میں جنگ آزادی 1857 ء کے بعد لہرایا گیا اور ہندستان انگریز کی عمل داری میں چلا گیا۔ ہم ہندستان کی تعلیمی صورتحال کا جائزہ 1857 ء تک لیں گے اور اس کے بعد ہونے والی مردم شماری کے اعداد وشمار کو ہم انگریز حکومت کی پالیسیوں کے ذیل میں تصور کریں گے۔

کالم نگار، ادیب کے فرزند اور پاکستان کی بیوروکریسی کے نمائندے کالم نگار نے پندرہ مئی کو اپنے ایک کالم میں لکھا کہ پنجاب میں شرح خواندگی صرف تین اشاریہ تین فیصد تھی۔ اس بیوروکریٹ کالم نگار نے یہ اعداد وشمار 1911 کی مردم شماری کی رپورٹ سے حاصل کیے ہیں یعنی پورے ہندستان پر انگریزوں کے قبضے سے 54 سال دور حکومت کے بعد یہ اعداد و شمار جمع کیے گئے۔ یہ ہندستان کی تیسری نسل تھی جو انگریز راج میں جوان ہوئی لیکن اس کے باوجود شرح خواندگی میں اضافہ نہیں ہوسکا۔

اب ہم صرف پنجاب میں شرح خواندگی کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں جب ہندستان پر انگریز کا قبضہ نہیں ہوا تھا، اس کے لیے ڈاکٹر جی ڈبلیو لائٹنر کی کتاب ہسٹری آف انڈیجنئس ایجوکیشن ان پنجاب کا مطالعہ کریں تو حقائق واضح ہوتے ہیں۔ 1855 ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی ایک کروڑ 27 لاکھ 17 ہزار 821 نفوس تھی۔ 1854 ء کی ایڈمنسٹریشن رپورٹ کے پیراگراف نمبر 188 میں بتایا گیا کہ اُس وقت پنجاب کے 26 ہزار 210 دیہات میں اوسطاً 450 افراد تھے، 2124 چھوٹے قصبات میں ہزار تا پانچ ہزار لوگ تھے، 76 دیہاتوں میں پانچ ہزار تا دس ہزار لوگ، 31 شہروں میں دس ہزار تا پچاس ہزار لوگ تھے۔

چار درجہ اول شہروں کی آبادی یوں تھی: لاہور 94،453، ملتان 55،999، پشاور 53،294 لوگ تھے۔ ڈاکٹر لائٹنر کی یہ رپورٹ 1822 ء میں ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر کی سربراہی میں بننے والے تعلیمی کمیشن کی رپورٹ کا حصہ بنی۔ ہنٹر رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 1855 ء کی مردم شماری کے مطابق طلباء کی تعداد 3 لاکھ 15 ہزار سے زائد تھی، جس پر ڈاکٹر لائٹنر نے اپنی کتاب میں بھی لکھا کہ 1882 ء میں یہ تعداد کم ہوکر ایک لاکھ 57 ہزار 950 ہوگئی یعنی انگریز راج کے 28 سال بعد طلباء کی تعداد نصف رہ گئی۔ انگریز راج میں ہونے والی ان مردم شماریوں میں دیسی سکولوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ نجی مکانات، دیہی چوپالوں اور کھلی فضا میں بھی لا تعداد سکول تھے، ڈاکٹر لائٹنر کے مطابق انگریزسرکار نے جان بوجھ کر ان اداروں کی تفصیلات جمع نہیں کی۔

دیسی سکولوں کی زمرہ بندی میں مکتب (فارسی سکول) ، پاٹھ شالا، گورمکھی سکول، مہاجنی سکول (کمرشل یا تجارتی کیمونٹی کے لئے ) ، مدارس وغیرہ شامل ہیں۔ مردم شماری میں ان میں زیر تعلیم طلباء کو شامل ہی نہیں کیا جاتا تھا بلکہ جو طالب علم فارغ التحصیل ہوئے ان کے اعداد و شمار بھی سرکار کے پاس دستیاب نہیں تھے۔

1911 ء کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق 6281955 افراد 170322 سکولوں میں زیر تعلیم تھے اس تعداد میں اضافہ ہونے کے برعکس 1930 ء میں ہندستان کے 730000 دیہاتوں کے لیے صرف 162015 پرائمری سکولز تھے۔ اب بیوروکریٹ کالم نگار نے 1911 ء کی شماریات پیش کی ہیں یہ تو خود انگریزوں کے مُنہ پر طمانچہ ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے 54 سال بعد بھی شرح خواندگی میں اضافہ نہیں ہوسکا۔ کیا اس کی وجہ زبردستی انگریزی مسلط کرنا نہیں تھا؟

1911 ء کی اس رپورٹ کے صفحہ نمبر 307 کے پیراگراف نمبر 386 پر لکھا ہے کہ لڑکوں میں شرح خواندگی میں دو اشاریہ آٹھ فیصد کمی ہوئی ہے۔ کیا یہ کمی مسلمان دور حکومت میں ہورہی تھی؟ جس رپورٹ کا بیوروکریٹ کالم نگار نے حوالہ دیا ہے یہ بھی بتا دیتے کہ 1901 ء کے بعد تعلیمی اداروں کی تعداد میں کمی کس پالیسی کے تحت کی جارہی تھی؟ اس کمی کی طرف ہنٹر کمیشن کی رپورٹ اور ڈاکٹر لائٹنر کی رپورٹ میں 23 سال قبل ہی نشاندی کر دی گئی تھی۔

1911 ء کی رپورٹ کے مطابق ہر دس ہزار افراد میں سے 49 لڑکے اور 7 لڑکیاں انگریزی جانتی تھیں، ہندووں میں ہر دس ہزار میں سے تین لڑکیاں جبکہ سکھوں اور مسلمانوں میں صرف ایک لڑکی انگریزی زبان لکھنا پڑھنا جانتی تھی۔ یعنی انگریزی کی تریج کے لیے گزشتہ 90 سال سے ہونے والی کوششوں کے باوجود یہ نتائج برآمد ہوئے، جس کشمیر کو انگریزوں نے اپنے وفادار کو 62 سال پہلے فروخت کیا تھا 1911 ء میں یہاں پر صرف 65 ہزار افراد پڑھنا لکھنا جانتے تھے اور رپورٹ میں اسے ہندستان میں تعلیمی پسماندگی میں سرفہرست لکھا گیا ہے۔ کیا یہ نتائج انگریز سرکار کی پالیسی کا نتیجہ نہیں تھے؟

انگریز سرکار نے شرح خواندگی کی کیا تعریف کی تھی؟ جسے لکھنا اور پڑھنا آتا ہے۔ یہاں لکھنے اور پڑھنے سے مراد انگریزی زبان میں لکھنا پڑھنا ہے یا پھر ورنیکولر زبانیں بھی قابل قبول تھیں؟ اب اس کی کھوج بیوروکریٹ کالم نگار خود لگائیں۔ تاریخ بتلانے کے لیے صرف اتنا عرض کر دوں کہ 1813 ء کے بعد سے ہندستان میں انگریزی زبان میں تعلیم کو فروغ دینے کا معاملہ تیز ہوچکا تھا جس کی بنیاد 1792 ء میں چارلس گرانٹ نے آبزرویشن آن دی سٹیٹ آف دی سوسائیٹی کے عنوان سے مقالہ لکھ کر رکھی۔

پھر آگے چل کر مشنری مبلغ الیگزینڈر ڈف نے اپنی کتاب میں انگریزی زبان کی حمایت میں دلائل پیش کیے جس کا حتمی فیصلہ ٹی بی میکالے کے 1835 ء کے ایجوکیشن منٹس میں ہوگیا۔ لارڈ بینٹنک نے جب اس منٹس کی منظوری دی تو اس کے بعد انگریزی کتابوں کی اشاعت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔ 1835 ء میں شائع ہونے والی انگریزی کتب کی تعداد 31649 تھی جبکہ سنسکرت زبان میں 16، عربی 36 اور فارسی زبان میں 1454 کتابیں شائع کی گئیں۔

1882 ء کی رپورٹ کے مطابق انگریزی تعلیمی اداروں میں فی طالب علم پر لاگت دیسی سکول کی نسبت پندرہ گنا زیادہ تھی۔ ہنٹر کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم نافذ کرنے کے بعد شرح خواندگی میں کمی آئی اور جب 1844 ء میں ہندستانیوں کو سول سروس کے امتحانات میں شرکت کی اجازت دی گئی، سرکاری کاروبار و عدالتی زبان میں انگریزی زبان کو اختیار کیا گیا۔ انگریزی زبان کو زبردستی مسلط کرنے کے بعد فارسی و عربی اور سنسکرت زبان کے جاننے والوں کو ناکارہ کر دیا گیا کیونکہ بیوروکریٹ کالم نگار جانتے ہوں گے کہ انگریزی اداروں کے تعلیم یافتہ افراد کو ہی نوکریاں دی جانے لگی تھیں۔

ششی تھرور نے اپنی کتاب این ایرا آف ڈارک نیس میں معروف فلسفی ول ڈیورنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے منصوبہ بندی کے تحت دیسی سکولوں کو تباہ کیا جس کی ابتداء بنگال سے ہوئی تھی۔ مسٹر ایڈم کی 1835 ء کی رپورٹ کے مطابق بنگال میں دیسی سکولوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی اس رپورٹ کا حوالہ ڈاکٹر لائٹنر نے اپنی کتاب میں بھی درج کیا ہے۔ ان دیسی سکولوں کا مستقبل کس نے مخدوش کیا تھا؟

انڈین مسلمان کتاب میں ویلیم ہنٹر نے لکھا ہے کہ جب بنگال پر قبضہ ہوا تو اس وقت ایک چوتھائی آمدن تعلیم پر خرچ کی جاتی تھی، برطانیہ نے سب سے پہلے نظام تعلیم اپنے کنٹرول میں لیا اور 1820 ء تک سکولوں کو اپنے کنٹرول میں لینے کے بعد مسلمانوں کی نگرانی میں چلنے والے سکولوں کو بند کر دیا گیا۔ ہنٹر آگے چل کر لکھتا ہے کہ 1871 ء تک تو بنگال میں سرکاری ملازمتوں کی تقسیم اور ان پر تقرریوں برطانوی بادشاہ کی طرف سے ہوتی تھیں۔ جی ڈبلیو لائٹنر کے مطابق انگریز سرکار نے جان بوجھ کر مقامی تعلیمی اداروں کے اعداد و شمار کو مردم شماری میں شامل نہیں کرایا تھا۔

1896 ء میں انڈین سپریئر سروس کی طرز پر انڈین ایجوکیشن سروس کا اجراء کیا گیا تھا اس سروس کے تحت صرف یورپین افراد کو ہی ہندستان کے شعبہ تعلیم میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیاجاتا تھا کیونکہ انگریز ہندستانیوں پر اپنی برتری کو قائم رکھنا چاہتے تھے، رولٹ ایکٹ کے نفاذ کے بعد 1920 ء میں کانگرس نے انڈین ایجوکیشن سروس کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا تھا اور سیاسی دباؤ کے تحت 1924 ء میں اس سروس کا خاتمہ کرنا پڑا۔

نیو کالونیل عہد میں کالونیل عہد کے تناظر میں سول بیوروکریسی کے ڈھانچے سے تیار ہونے والے بیوروکریٹس کی انا کی تسکین کے لیے یہ مان لیتے ہیں کہ مسلمان حکمران کے ادوار میں یہ خطہ جاہل تھا، لیکن اس کا کیا جواب ہے کہ ہندستان میں 1757 ء کے بعد سے حکومتوں کو کنٹرول کرنے والے انگریز سرکار نے 47 ء میں جب ہندستان چھوڑا تو شرح خواندگی صرف 16 فیصد تھی اور خواتین میں یہ شرح صرف 8 فیصد کیوں تھی؟

ویسے تو معزز بیوروکریٹ کالم نگار کو بحث کرنے کا صیحح طریقہ بھی پورا بتانا چاہیے تھا کہ جب کسی دور کا جائزہ لیا جاتا ہے تو پھر سماج کی مجموعی حالت پیش کی جاتی ہے۔ انگریز راج میں یورپ کو کبیری بیانیے کے طور پر جب ہندستان میں نافذ کیا گیا تو اس کے لیے تعلیمی اداروں کا سہارا لیا پورے ہندستان میں درجن بھر یونیورسٹیز کے ذریعے سے وہ طبقہ پیدا کیا گیا جو انگریز کا وفادار بنا اور اس طبقے کی نمائندگی بیوروکریسی کے پاس تھی۔

جس کا تصور میکالے نے اپنے منٹس میں پیش کیا تھا۔ پھر انگریز راج سے پہلے یہاں کی معاشی حالت کیا تھی اسے بھی بحث میں شامل کریں۔ پانچ سو سال پہلے بنائی جانے والی عمارتیں انجینئرنگ کا شاہکار ہیں، جدید سائنسی دور میں بھی ان پر تحقیق کی جاتی ہے اب یہ شاہکار جاہل کیسے بنا سکتے ہیں؟ پھر کیا کالونیل عہد میں شرح خواندگی کی تعریف یہ ہے کہ انگریزی لکھنا، پڑھنا آتی ہو؟ یا وہ صرف انگریزی ادارے میں زیر تعلیم ہو؟ بحث کرنے میں ڈنڈی مار کر انگریز کے حق میں قلم آزمائی کرنا بھی میر جعفری کے زمرے میں آتا ہے، فرق بس اتنا ہے کہ میر جعفر کو تخت ملا تھا اور آج کل کے بیوروکریٹ کو وفاداری کے عوض امریکہ و یورپ کے ویزے، بچوں کی تعلیم اور مفت دورے ملتے ہیں۔ ابھی بہت کچھ عرض کیا جاسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •