لبرل ازم بدنام کیوں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لبرل ازم جس کا اصل نام آزاد خیالی ہے، شاید پاکستان کی سب سے مشہور اور بدنام ترین اصطلاح ہے۔ ہمیں جس کسی کو بھی ذلیل کرنا ہو اس کو لبرل کہہ دیتے ہیں، جس کو بد تمیز کہنا ہو اس کو بھی لبرل کہہ دیتے ہیں، والدین کا نافرمان بھی لبرل کہلاتا ہے، شرابی بھی لبرل کہلاتا ہے اور شوہر کی نافرمان بیوی بھی لبرل کہلاتی ہے۔ لیکن یہ تمام غلط مفروضات ہیں!

پاکستان میں لبرل سوچ رکھنے والے افراد کافی لمبے عرصہ سے موجود ہیں، اور تمام تر دنیا میں بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ لیکن عموماً وہ اپنے لبرل ہونے کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے ہیں اور جو خود کو ”لبرل“ بطور اعزاز کہلواتے ہیں، وہ عموماً لبرٹائن Libertine نکلتے ہیں، یعنی کہ لچے، لفنگے، فاسق، فاجر یا آسان الفاظ میں مادرپدر آزاد۔ یہ ریاست کے قوانین سے متنفر، معاشرے کے اصولوں سے باغی اور مذاہب کی اقدار سے چڑتے ہیں۔ لیکن لبرل ازم یا آزاد خیالی کا مادر پدر آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آزاد خیالی کی تاریخ یورپ میں نشاطِ ثانیہ کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ اور اس کا اصل مقصد بادشاہ کی مذہب کو استعمال کرکے خود کو آفاقی طاقت کہلوانا، کلیسا کا پابشاہت کو مذہبی تحفظ فراہم کرنا، نیز نسل پرستی اور انسانوں کی غلامی کو منسوخ کرنا تھا اور ان فرسودہ و انسانیت سوز خیالات کی جگہ، قانون کی بالادستی، فرد کی آزادی، دنیویوت، عمرانی معاہدے کی تشکیل، صنفی مساوات اور جمہوریت کی بالادستی کا اطلاق تھا۔ جان لاک وہ فلسفی ہے جس کو لبرل ازم یا آزاد خیالی کا بانی کہا جاتا ہے، جان لاک کا ماننا تھا کہ ہر شخص کو زندگی، آزادی اور ملکیت کا قدرتی حق حاصل ہے، انہوں نے مزید کہا تھا کہ حکومتوں کو عمرانی معاہدے پر مبنی ان حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔

لبرل ازم کے رہنما اصول کیا ہیں؟ آزاد جمہوریت، قانون کی بالادستی، آزاد منڈیاں، آزادیِ رائے کا حق، سماجی ذمہ داری، سیکولرازم یعنی کہ دنیویت و عصریت اور پلورل ازم یعنی کہ جامعیت یا تکثیریت ہیں۔

ذرا غور کیجیئے! نہ ان اصولوں میں قانون شکنی شامل ہے نہ ہی، ریاست و معاشرے سے غداری! تو پھر لوگوں کو آزاد خیالی سے اتنی نفرت کیوں ہے؟ کیوں کہ اس لفظ کا دھڑلے سے استحصال ہوتا ہے! ہر ایرا غیرا، نتھو خیرا خود کو لبرل کہتا پھرتا ہے، یہ کچھ ایسا ہی معاملہ ہے کہ ایک اٹھائی گیرہ کسی سیاسی جماعت کا نام لے لے کر لوگوں کو ہراساں کرتا پھرے۔ اور اس کے نتیجے میں پوری سیاسی جماعت یا تحریک بدنام ہو۔

لبرل ازم ایک باقاعدہ سیاسی تحریک یا سیاسی نظریہ ہے اور بد قسمتی کی انتہا دیکھئیے کہ جو افراد خود کو لبرل کہتے پھرتے ہیں، وہی افراد سیاست پر لعن طعن بھی کرتے ہیں، غلطی سے ان کو کسی لیڈر سے محبت، نسبت، انسیت یا عقیدت ہوجائے تو پھر وہ اپنے لیڈر یا اس کے نظریے کو عقل کی کسوٹی پر ثابت کرنے کے بجائے ڈھٹائی سے پیش آتے ہیں۔

لبرل ازم پر آخری وار وہ لوگ کرتے ہیں جو، جمہوریت پر بھی یقین رکھتے ہیں، آزاد خیال بھی ہوتے ہیں، سیکولر بھی ہوتے ہیں، لیکن فری مارکیٹ اکانمی یا آزاد منڈی سے نالاں ہوتے ہیں، یہاں آکر ان کو اچانک چمکتا دمکتا اشتراکی معاشرہ یاد آنے لگتا ہے، جہاں صحت کی سہولیات بھی مفت ملیں، تعلیم بھی اور روزگار بھی۔ ویسے ان مطالبات میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن کچھ نکات لبرل ازم کے اور کچھ نکات سوشل ازم کے مل کر سوشل ڈیموکریسی یا ڈیموکریٹک سوشل ازم تو کہلایا جاسکتا ہے صرف لبرل ازم یا سوشل ازم نہیں۔ علاوہ ازیں انہیں اور ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صرف شعلہ بیان ہونے کا مطلب لبرل ہونا نہیں ہے۔ یہ باتیں بیان کرنے کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ سچائی پر سے پردہ اٹھانا ہے۔

میں بھی آپ سے اپنی سیاسی اساس کو پہچاننے کو کہہ رہا ہوں! رنگ، نسل، دین، فقہہ، فرقہ، زبان، علاقہ، خاندان، صحبت یہ سب کہیں نا کہیں ہماری پہچان ہوتے ہیں لیکن یہ تو بڑی ظاہری اور عامیانہ سی نشانیاں ہیں، باطن میں کیا ہے ہمیں اس کا عموماً اندازہ ہی نہیں ہوتا ہے۔

سوچیں خود سے پوچھیں، خود کو ٹٹولیں، کیسا ملک چاہیے ہے آپ کو؟ عمرانی معاہدہ کیسا ہونا چاہیے؟ آیئن ہونا بھی چاہیے یا نہیں؟ آخر جمہوریت ہی کیوں؟ آمریت کیوں نہیں؟ بادشاہت کیوں نہیں؟ پاپائیت کیوں نہیں؟ کیوں اشتراکیت؟ کیوں انفرادیت؟ اگر انارکی تو پھر کیوں؟ آزادی کیوں؟ ذمہ داری کیوں؟

ان سوالوں کے جوابات ملنے کے بعد آپ کو خود شناسائی تو نہیں ملے گی لیکن اندازہ ضرور ہوجائے گا کہ آپ کا رجحان کس قسم کی سیاست و ریاست کی جانب ہے! سوچئیے، یہی سوچنے کی صلاحیت ہمیں انسان بناتی ہے، شہری بناتی ہے! اور یہی مشق آزاد خیالی یعنی کہ لبرل ازم کہلاتی ہے۔

اسی ذہنی مشق کے نتیجے میں آپ ایک بہتر شہری بن سکتے ہیں، آپ شاید سوچ رہے ہوں گے کہ ہمیں کیا پڑی ہے بہتر شہری بننے کی؟ ہمیں تو بہتر ملازم، بہترطالبعلم، بہتر بیوی، بہتر شوہربننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شہریت بیچ میں کہاں سے آگئی! لیکن دراصل یہ شہریت ہی ہے جو ہمیں ایک بہتر ریاست اور اصلی سکون عطا کرسکتی ہے۔

آخری بات! شاید لوگ آزاد خیالی کو اس لئے بدنام کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں عام فکری مغالطوں کو پہچاننے کی ہمت اور طاقت عطا کرتی ہے۔ یہ امراء و رؤساء کے اس دعوے کی قلعی کھول دیتی ہے کہ ان کی رگوں میں سرخ نہیں، بلکہ نیلا لہو دوڑتا ہے اور وہ کمی کمینوں سے ممتاز ہیں۔ حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہماری آدھی نسیں نیلی اور آدھی لال ہیں اور ان کا مقصد ترسیلِ خون ہے۔ لیکن اس بات کی حقیقیت تک پہنچنے کے لئے طاقتور اور جابر حکمرانوں سے بغاوت کرنا اور عقل کا استعمال کرنا ضروری تھا۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ کتنی باتوں کو قدیم اور اصیل ہونے کی بنیاد پر مان لیں گے اور کتنے مفرضات کو آزادنہ سوچ کے ذریعہ سمجھیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عندیل علی کی دیگر تحریریں
عندیل علی کی دیگر تحریریں