ایران جنگ، تاریخی تناظر میں
”رومی مغلوب ہوئے۔ پاس کی زمیں میں، اور اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔ چند برس میں، حکم اللہ ہی کا ہے۔ آگے اور پیچھے“۔ سورۃ روم
سید مودودی اس سورۃ کی تفسیر کے آغاز میں لکھتے ہیں۔
”نبوت سے آٹھ سال پہلے قیصر روم ماریس جو کہ ایرانی بادشاہ خسرو پرویز کا محسن تھا، کے خلاف بغاوت ہوئی۔ فوکاس نے اس کے پانچ بیٹوں کو اس کے سامنے اور پھر اسے قتل کرکے حکومت پر قبضہ کرلیا۔ خسرو کو روم پر حملہ کرنے کا بہانہ مل گیا۔ 603 عیسوی میں اس نے سلطنت روم کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور چند سالوں میں ایشیاے کوچک سے لے کر شام کے شہر حلب اور انطاکیہ تک پہنچ گیا۔ روم کے اعیان سلطنت نے جب دیکھا کہ فوکاس ملک کو نہیں بچا سکتا تو وہ افریقہ کے گورنر سے مدد کے طالب ہوئے جس نے اپنے بیٹے ہرقل کو ایک طاقت وربیڑے کے ساتھ قسطنطنیہ بھیج دیا۔
اس نے فوکاس کو معزول کر دیا اور اس کی جگہ خود قیصر بن گیا۔ ہرقل نے اس کے ساتھ وہی کچھ کیا جو اس نے ماریس کے ساتھ کیا تھا۔ خسرو پریز نے جس اخلاقی بہانے کی بنیاد پر حملہ کیا تھا، فوکاس کے قتل اور عزل کے بعد وہ ختم ہو چکا تھا اب اسے نئے قیصر کے ساتھ صلح کر لینی چاہیے تھی، مگر اس نے پھر بھی جنگ جاری رکھی ”۔ اور بڑھتے ہوئے آبناے باسفورس تک پہنچ گیالیکن ناقابل شکست نیوی اور مضبوط شہر پناہ کی وجہ سے قسطنطنیہ پر قبضہ نہ کرسکا۔ (اسی ہرقل اور خسرو کو حضور ﷺنے قبول اسلام کی دعوت کے خطوط لکھے تھے۔ )
یہ جنگ پچیس سال چلی اور بالآخرخسرو کے اپنے بیٹے کے ہاتھوں قتل پر ختم ہوئی اور دونوں ممالک کے پر امن تعلقات بحال ہوئے۔ لیکن اس کے صرف پانچ سال بعد مسلمان اس علاقے میں طاقتور حصہ دار کے طور پر حملہ آور ہو گئے۔
جنگ ہمیشہ مالی اور تجا رتی مفادات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مذہب اس کو ایندھن فراہم کرتا ہے۔ اور اس کو سمجھنے کے لئے تاریخ اور جغرافیہ کو مد نظررکھنا چاہیے۔
اس علاقے میں جنگ انسانی تاریخ کے آغاز سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ اس علاقے کا جغرافیہ لڑائی کی بہت بڑی وجہ ہے۔ یورپ، افریقہ اور ایشیا یہاں پر ملتے ہیں۔ ان کو ملانے والے زمینی اور بحری تجارتی راستے ان ممالک کے درمیان سے گزرتے ہیں۔
دنیا میں سب سے پرانی تہذیبیں نیل اور دجلہ و فرات کی کہی جاتی ہیں۔ دنیا کے بڑے مذاہب یہودیت، عیسائیت، اسلام اور مجوسیت کا آغازبھی اسی علاقے سے ہوا۔
ایران اس علاقے کا تاریخی لحاظ سے ایک اہم حصہ رہا ہے۔ ایران لسانی اور مذہبی لحاظ سے اردگردکے تمام علاقوں سے ہمیشہ مختلف رہا ہے اور یونانیوں سے لے کر انگریز حملہ آوروں تک اس نے کبھی بھی کسی کو اپنی ثقافت پر اثر انداز نہیں ہونے دیا۔ مسلمان کے زیر اثر کئی صدیوں تک رہنے کے باوجود ایران نے اسلام کو اپنے ہی رنگ میں رنگ لیا اور عربی ثقافت کو اپنے اندر نفوذاور اثر پذیری کی اجازت نہیں دی۔
ایران کی سرحدیں چٹھی صدی قبل مسیح سے ساتویں صدی عیسوی تک دریا سندھ سے لے کر مراکش اور شمال میں کرغستان، تاجکستان، ازبکستان، آرمینیہ آذر بائیجان اور ترکی تک رہی ہیں۔ خلیج فارس سے ملحقہ مشرقی علاقوں اور یمن کے علاوہ ایران کی عملداری کبھی بھی جزیرہ نمائے عرب میں نہیں رہی اگر چہ اس نے کئی مرتبہ اس پر فوج کشی ضرور کی۔ ساتویں صدی میں عرب مسلمان ایران پر حملہ آور ہوئے اور ان کی حکومت پندرہویں صدی کے اختتام تک جاری رہی۔
اموی خلافت کے دور میں ایران پر انتہائی سختی رہی۔ عباسی خاندان ایرانیوں کی مدد سے ہی کامیاب ہوا۔ لیکن عباسیوں کے دور میں بھی ان کو خاطر خواہ آسانیاں مہیا نہیں ہوئیں۔ اور عرب عجم کی ہمیشہ سے موجود دشمنی برقرار رہی۔ 1501 میں مقامی صفوی خاندان کی حکومت سے موجودہ ایران کی تاریخ کا آغازہوا۔ اسی خاندان نے پہلی مرتبہ اثنائے عشری شیعہ فقہ کو مملکت کا مذہب قرار دیا۔ ان کی حکومت 1736 تک قائم رہی۔ اپنے دور کے عروج میں ان کی حکومت میں موجودہ ایران، آذر بائیجان، آرمینیہ، جارجیا، شمالی قفقاز، بحرین، عراق، کویت، اردن اور افغانستان شامل رہے اس کے علاوہ پاکستان، شام، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان کے کچھ علاقوں بھی ان کے زیر اثر رہے۔
ان کے بعد نادر شاہ اور اس کے خاندان کی حکومت تقریباً ساٹھ سال چلی اس کے زیر انتظام بھی عام طور پر یہی علاقے رہے۔ پھر ترک نسل کے ایرانی سلسلہ قاچار کی حکومت قائم ہوئی جوکہ 1925 تک جاری رہی۔ اس دوران ایران نے صدیوں پرانے اپنے شمالی علاقے آرمینیہ، داغستان، آذربائیجان، جارجیاروس کے ہاتھ کھودیے۔ روس اور انگلینڈ کی مخالفت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایرانی بادشاہ نصیرالدین شاہ نے انگریزوں سے مدد مانگی۔ لیکن یہ جوا اس کے کے لئے مزید نقصان دہ ہوا۔ کمزور شاہ دونوں طرف سے غیر ملکی افواج کی اپنے ملک میں مداخلت اور قبضہ نہ روک سکا اور برٹش انڈیا کی طرف سے انگلش فوجیں بھی ایرانی علاقوں میں بڑھتی ہوئی ہرات تک پہنچ گئیں۔
1911 میں چھپنے والے انگلینڈ کے طنزیہ میگزین ”پنچ“ کا ایک کارٹون ایرانی علاقوں پر روس اور انگلینڈ کی کشمکش کو بہت اچھی طرح بیان کرتا ہے۔ یہ کارٹون 1907 میں انگلینڈ اور روس کے درمیان ہونے والے اس دوستی کے معاہدہ کے بارے میں ہے جس میں فارس کے علاقوں کی آپس میں تقسیم کا منصوبہ طے ہوا تھا۔ اس کارٹون میں روسی ریچھ کو ایرانی بلی کے پچھلے حصہ پر بیٹھا ہوا دیکھایا گیا ہے جبکہ برطانوی شیر اس کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ، ”جیسا کہ دوستوں کے درمیان ہوتاہے۔ اگر ہمارے درمیان اتنی ہم آہنگی پیدا نہ ہو
گئی ہوتی تو میں یہ پوچھنے پر مجبور ہو جاتا کہ تم ہمارے چھوٹے کھلاڑی کے ساتھ وہاں کیا کر رہے ہو ”۔
1908 میں ایران میں انگلینڈ نے تیل دریافت کیا۔
انگلینڈ اور روس میں ایرانی علاقوں کی بندر بانٹ پہلی جنگ عظیم کے بعدبھی جاری رہی۔ اس جنگ کے دوران ان دونوں افوا ج کا ایران پر اثر بہت زیادہ تھا لیکن ایران اس میں عموماً غیر جانبدار رہا۔ 1921 میں فوجی کمانڈر رضاخاں (شاہ) نے قاچار شہنشاہیت کے خلاف بغاوت کر کے پہلوی خاندان کی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس کے دور حکومت میں ایران جدیدیت کی طرف مائل ہوا اوراس میں سیکولرنظریات پروان چڑھے۔ دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں اس خوف سے کہ کہیں ایران جرمن بلاک میں نہ چلا جاے برطانوی اور روسی فوجوں نے اس پر قبضہ کر کے رضا شاہ کو معزول اور اس کے بیٹے محمد رضا کو تخت نشین کردیا۔
اس کے دور حکومت میں ایران مغربی دنیا کے اور قریب آیا۔ بغداد پیکٹ میں شامل ہوا اورعلاقہ میں امریکی معاشی و فوجی امداد کا سب سے بڑا مستحق ٹھہرا۔ محمدرضاشاہ پہلوی کے دور میں معاشی، سماجی اور انتظامی اصلاحات ہوئیں زمینی اصلاحات کی وجہ سے زرعی پیداوارمیں انقلاب آگیا۔ تیل کی پیداوار بڑھنے سے ملک کی معیشت انتہائی مضبوط بنیادوں پر استوار ہونا شروع ہوگئی۔
اس معاشی ترقی کا فائدہ زیادہ تر اوپر کے طبقہ کو پہنچاجس کی وجہ سے عوام کی اکثریت اس سے برگشتہ ہوگئی۔ مخالفین نے حکومت کی امریکہ نواز، ماڈرن اور سیکولر پالیسیوں کو ہد ف بنا کر مذہبی جذبات کو ابھارنا شروع کردیا۔ پہلوی خاندان کو بھاگنا پڑا اور آیت اللہ شاہ خمینی نے ایک مذہبی حکومت کی بنیاد رکھی۔
امریکہ کے خلاف ایران کی نفرت اس حد تک گئی کہ ایرانی طلباء نے حکومتی پشت پناہی کے ساتھ امریکی قونصلیٹ پر قبضہ کر کے عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے سفارتی عملے کو یرغمال بنا لیا۔ اس کے بعدامریکہ نے علاقے میں نئے اتحادی ڈھونڈ لئے۔ اس حکومت کے آتے ہی اردگرد کے ممالک میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ ملا۔
ایران اور قریبی تمام عرب ممالک کی معیشت کا انحصار زیادہ ترتیل کی پیداوار پر ہے۔ تیل اور اس کی نقل و حمل کے سمندری و زمینی راستے اس علاقے میں لڑائی کی وجہ ہیں۔ جن علاقوں میں صدیوں ایرانی حکومت رہی ہے وہاں اس کے حامی کافی تعداد موجود ہیں جن کو ایرانی شیعہ حکومت مسلسل مدد فراہم کر رہی ہے۔ اس کے زیر اثرقوتیں شام، لبنان، عراق اوریمن میں گوریلا جنگ کئی دہائیوں سے کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سعودیہ، عمان، بحرین، ترکی، مصر اور پاکستان میں بھی اس کے ہمدرد موجود ہیں۔
سعودیہ مخالف کیمپ کی سربراہی کر رہا ہے اور سنی وہابی اسلام کو اس کے مقابلے میں تیار کر چکا ہے۔ وہ ایران مخالفت میں اس حد تک جا چکا ہے کہ اسرائیل کو بھی اپنا اتحادی بنانے کو تیار ہے۔ مذہب جنگ کو ایندھن فراہم کر رہا ہے۔ یورپ، امریکہ، روس اور چین تیل کے بڑے گاہک ہیں اور سب کے مفاد اس علاقے سے وابستہ ہیں۔ کوئی بھی اس علاقے میں کسی ایک طاقت کی اجارہ داری قبول نہیں کر سکتا۔ امریکہ مستقل ٹھکانہ بناچکا ہے اور اب ایک لاکھ بیس ہزار فوجی بمع سازو ساماں گلف اور بحیرہ عرب میں بھیجنا شروع کرچکا ہے۔ کیا جنگ ہوگی؟ بہت بڑا سوال ہے۔ لیکن یہ بات پکی ہے کہ اگر ہوئی تو محدود نہیں ہوگی۔ اور لمبا عرصہ چلے گی۔



