مارکسی فلسفہ ایک جملے میں: اس محبت کا اچار ڈالیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس سال جانے کیا بات ہے کہ نہ مزدور کی محبت کم ہورہی ہے اور نہ ہی مارکسی پوسٹوں اور کالموں سے جان چھوٹ رہی ہے۔ حالانکہ ہر سال یہ بخار بس ہفتہ بھر کا ہوتا تھا اور پھر طبیعت بشاش ہو جایا کرتی تھی لیکن اس بار تو فیس بکی دیواروں کے ساتھ ساتھ اخبارات میں بھی مزدور کی بہار ہنوز موجود ہے۔ چلیں مزدور کی حالت زار کے سبب اس سے ہمدردی کی جا سکتی ہے لیکن صرف اور صرف مارکس کے حوالے اور فلسفے سے ہی کیوں؟ تاریخ انسانی میں ہمارے پاس کوئی دوسرا شخص اور فلسفہ نہیں ہے کیا جس سے مزدور کے حق میں کوئی بیان مل سکے؟

اگر ایسا ہی ہے تو کیا یہ دنیا بھر کے قابل، ذہن اور فلاسفیوں کی ناکامی کی دلیل ہے یا پھر عدم توجہ کی؟ اس کے ساتھ ساتھ قابل افسوس بات یہ ہے کہ آپ مزدور کے حوالے سے کوئی بھی بات کریں دوسرا گھما پھرا کر اسے ’میرا بہترین دوست‘ کی طرح مارکس کے فلسفے سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر اس شخص کی اپنی مرضی جو کہے اور الزام بے چارے مارکس کی گردن پر رہے۔ ہمارے ہاں کارل مارکس کا فلسفہ سمجھنے والے کتنے لوگ ہیں اس بات کے لیے اس احتیاط کا ذکر ہی کافی ہے جوکارل مارکس کی کتاب کے مترجمین کے حوالے سے برتی گئی۔

خیر وہ بات پرانی ہو چکی لیکن آج لوگوں سے پوچھا جائے کہ کارل مارکس کا فلسفہ آسان زبان میں بتا دیں تو ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے کہ سرمایہ داروں سے سب چھین لو اور مزدوروں میں بانٹ دو کہ یہ مزدور کا حق ہے۔ آپ مجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں کہ میرے حلقے میں زیادہ پڑھے لوگ نہیں ہوں گے اس سبب یہ جملہ سننے کو ملا ورنہ تو مارکس صاحب نے یہ بھی کہا اور وہ بھی کہا ہے لیکن صاحب سچ یہی ہے کہ کاہل اور جاہل معاشروں میں مارکس کا سارا فلسفہ ایک جملے میں سمٹ جائے تو وہ جملہ یہی ہو گا کہ سرمایہ داروں سے سب چھین لو اور مزدوروں میں بانٹ دو۔

پاکستان کی تاریخ میں بھٹو صاحب بھی مارکس کا فلسفہ بس اسی قدر سمجھ سکے تھے اسی لیے انہوں نے پاکستان کے صف اول کے سرمایہ کاروں سے ان کا سب کچھ چھین لیا اور انہی کارخانوں، فیکٹریوں اور ملوں کے مزدوروں کو یہ یقین دلایا کہ اس سب پر اب تمہارا حق ہے اور حکومت یہ حق تم تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ اب جب کہ آدھی صدی گزر چکی ہے حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ مزدور رہے اور نہ فیکٹریاں لیکن اس کے بارے کس سے پوچھا جائے اور کس کے گریبان پر ہاتھ ڈالا جائے؟

لوگ ارب پتی سوئے تھے اور قلاش و کنگال اٹھے لیکن اس سے ملکی معیشت کو ایسا جھٹکا لگا کہ ملک کی معیشت آج تک دوبارہ نہ اٹھ سکی البتہ مزدور جس کے نام پر یہ سب کیا گیا وہ بھی ابھی تک اسی ابتری کی حالت میں ہے۔ مارکس کے حامی سرمایہ کاروں سے سب کچھ چھین لینے کی بات تو کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک بار چھن جانے کے بعد کون دوسرا سرمایہ کار پھر سرمایہ کاری کے لیے آئے گا۔ بھٹو صاحب تو وقتی واہ واہ لینا چاہتے تھے اور وہ انہیں مل گئی لیکن پاکستان کی معیشت ابھی تک اس مارکسی فلسفے کا خمیازہ بھگت رہی ہے اور نہ جانے اگلے کتنے سال مزید ہمیں سرمایہ کاروں کا اعتماد جیتنے میں لگ جائیں گے؟ مارکسی فلسفے کے حامیوں سے کوئی یہ بھی نہیں پوچھتا کہ وہ شخص جس کی کل سمجھ بوجھ شام کے کھانے سے آگے نہیں جاتی، اس شخص کے نام پر ایک ایسے شخص کو قلاش کرنا کہاں کی عقل مندی ہے جس نے نہ صرف سرمایہ کاری کی ہے بلکہ اگلے کئی عشروں کامنصوبہ تو اس کی انگلیوں پر رہتا ہے۔

چلیں سب کچھ چھوڑتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ مزدور تحریک ڈیڑھ صدی سے یوم مزدور منا رہی ہے اور لگ بھگ ستر سالوں سے پاکستان میں بھی مزدور کے لیے فلسفے بگھارے اور جھاڑے جا رہے ہیں لیکن مزدور کی حالت ہے کہ دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنے ذہین لوگوں کے مارکسی فلسفے کے مطالعے اور محبت کے ثبوت میں کیا ایک ایسا مزدور دکھایا جا سکتا ہے جس کی زندگی بہتر ہوئی ہو۔ یقینا نہیں۔ ٹھنڈے کمروں اور ہزاروں روپے کے لیپ ٹاپس اور موبائلز پر دکھائی جانے والی محبت صرف اور صرف ذاتی انانیت کی بلندی کے سوا کچھ نہیں جس میں یہ جتانا مقصود ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی دوسرے سے زیادہ مارکس کو پڑھے ہیں بلکہ اس کی تحریر کے فلاں فلاں پہلووں سے بھی آشنا ہیں لیکن یہ پڑھائیاں اور آشنائیاں کیا کسی مزدور کی زندگی کو بدل سکتی ہیں؟ کیا تاریخ انسانی میں کوئی ایک ایسا مزدور پیش کیا جا سکتا ہے جسے ایسی پڑھائیوں اور آشنائیوں سے آسائش میسر ہوئی ہو؟ افسوس کہ ایک اور جواب نفی میں ملتا ہے۔

ایسی صورت حال پر مجھے تاریخ میں ایک شخص اور حوالہ یاد آتا ہے۔ حضرت عمر۔ جس نے اپنی تنخواہ ایک مزدور کے برابر قرار دی تو لوگوں نے کہا کہ گزارہ کیسے ہو گا۔ جواب دیا جیسے مزدور کا ہوتا ہے اور اگر نہ ہو سکا تو میں مزدور کی تنخواہ بڑھا دوں گا۔ اے میرے ملک کے پڑھے لکھے لوگوں، اے مارکسی محبتوں کے مارو۔ کبھی یہ فلسفہ بھی آزما کر دیکھو لیکن تم کیسے یہ آزما سکتے ہو۔ تم جب بازار جاتے ہو تو سب سے کم مزدوری والے کو لائق توجہ سمجھتے ہو اور اسے بھی پسینہ خشک ہونے کے کئی دن بعد مزدوری دیتے ہو۔

تم اپنی فیکٹریوں، دکانوں اور دفتروں میں کسی ایسے شخص کو برداشت ہی نہیں کرتے جو تنخواہ بڑھانے کی بات کرئے۔ تمہارے بھٹہ پر پوری زندگی اپنے پورے خاندان کے ساتھ محنت مزدوری کرنے والا بھی اپنا قرض نہیں اتار پاتا اور تم ہمیں مارکس کے فلسفے سناتے ہو۔ سچ تو یہی ہے کہ تمہیں مزدور کی حالت کے بجائے اپنی ذاتی تعریف سے واسطہ ہے اور مزدور کوتمہارے علم کے بجائے ملنے والی مزدوری سے سروکار ہے تو پھر ہزار سال اور یوم مزدور بھلے منائے جائیں کیا فرق پڑے گا۔ اس لیے ہماری ساری گفتگو کا حاصل بھی ایک ہی جملہ ہے کہ آپ سے گزارش ہے کہ اپنی مارکسی محبت اور مطالعے کا اچار ڈالئے تاکہ کم از کم یہ تو کسی کے کام آ جائے اور تو آپ سے کوئی امید نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خرم شہزاد کی دیگر تحریریں
خرم شہزاد کی دیگر تحریریں