عبدالقادر بیدل اور فن کی جدلیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بڑا شاعر زندگی کو کئی پہلوؤں سے دیکھتا اور دکھاتا ہے۔ اس کا تصور جہاں بینی (World outlook) اتنا وسیع ہوتا ہے کہ فطری اور تہذیبی مظاہر اس کی شاعری میں رچ بس جاتے ہیں جبکہ ایک عام فن کار کے یہاں یہی مظاہر انتہائی معمولی نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ کائنات کا فنی و فکری شعور ہے۔ دانشورانہ سطح پر اشیا و مظاہر پہ غور کرنا اور ان کی باہمی جدلیات کا مشاہدہ کر کے کسی نتیجے تک پہنچنا ایک حد تک مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں۔

عینیت خارجی ہو یا داخلی، دونوں سطح پر قابل قبول نہیں ٹھہرتی۔ اصیل دانشوری تحلیل و تجزیہ کر چکنے کے بعد ایک آفاقی رائے دیتی ہے جو سائنسی تو نہیں ہوتی لیکن فلسفیانہ ضرور ہوتی ہے۔ کانٹ کی داخلی اور ہیگل کی خارجی داخلیت کو سمجھے بغیر تاریخی جدلیت سمجھ میں آتی ہے نہ مادی۔ ایک منجھا ہوا قلم کار حسن تک رسائی کے لیے سارے تفاعلات اور حیلے بروئے کار لاتا ہے۔ صرف سانس لینا جینے کی دلیل نہیں، بیدل کہتے ہیں

محو زنجیر نفس بودن دلیل ہوش نیست

ہر کہ می بینی بہ قید زندگی دیوانہ است

لسانی سطح پر بڑا شاعر ایکسٹنشن آف لینگویج کا باعث بنتا ہے۔ بڑا فن کار اپنی تہذیب سے ہی زبان اٹھاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ فن نئی زبان کے ساتھ ساتھ نئی اصناف بھی پیدا کرتا ہے اور دوسری تہذیبوں کے علوم و فنون سے بھی استفادہ کرتا ہے۔ اس کی لغت ایک سطح پر اپنے عہد کے لغات سے جدا ہوتی ہے کیونکہ وہ اظہار کے نئے نئے پیرائے اختراع کرتا ہے۔ نئے الفاظ اور استعارے اس وقت ظہور میں آتے ہیں جب کوئی صنف اور زبان عظیم شاعر کے تصورات کو سمیٹنے سے عاجز رہے۔ مگر بقول بیدل ہر عجز، علم بھی نہیں ہوتا

عجز ادراک اگر فہمیدی

معنی این است کہ فہمیدن نیست

یعنی ہر عجز کو ادراک سمجھنا گویا کچھ نہ سمجھنا ہے۔ جدلیات تاریخی ہو یا مادی، کائنات کے قرائن میں ہے۔ اسی سے پیداواری رشتے بھی نمو پاتے ہیں اور سماجی و خونی رشتے بھی۔ گویا ادب باقاعدہ تاریخ کے متوازی اپنی ایک تاریخ بھی ترتیب دے رہا ہوتا ہے۔ یہ تاریخ زیادہ مستند اور زیادہ سچی ہوتی ہے کیونکہ اسے لکھوانے والے شاہان و ملوک نہیں ہوتے۔ ہمارا سماجی تفاعل تہذیبی رویوں سے چھن کر ظہور پذیر ہوتا ہے۔ بیدل نے اس بات کو انتہائی آسانی سے کہہ دیا ہے۔ ذرا شعر کے تیور دیکھئے

گر بر آید از صدف گوہر اسیررشتہ است

خانہ و غربت دل آگاہ را دام بلا است

کہ جاننے والے کے لیے صدف و گوہر جیسا رشتہ ایک جال کی طرح ہوتا ہے۔ خانہ داری و دربدری تہذیبی تفاعل کے نتیجے میں نمو دار ہوتے ہیں۔ جن عناصر سے تمدن وجود میں آتا ہے انہیں تہذیبی و ثقافتی مظاہر ہی جاننا چاہیے یو ں ایک حیاتیاتی نوع سے انسانی نوع بننے تک ایک عظیم تاریخی تبدل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اپنے رنگ دوسروں میں اور دوسروں کے رنگ خود میں تلاشنے پڑتے ہیں۔ یہ ایک فن کار کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ سماج میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا فنی و جمالیاتی اظہار بھی کرے اور نظریہ سازی کی چھلنی سے بھی گزرے۔ بیدل کہتے ہیں

تا بہ رنگش وا رسی از نقش ما غافل مباش

بحر در جیب حباب این جا نفس دزدیدہ است

بیدل کا یہ عظیم شعر اپنی پرتیں کھولے تو سماج کا گلستان پوری طرح مہکتا ہے۔ یہاں من و تو کی دوئی مٹ جاتی ہے اور انسان سماجی اکائی کے طور پر وجود میں آتا ہے۔ سمندر میں بنتے ٹوٹتے حباب بیدل کے لیے بہت دلکش مظہر ہیں گویا حباب ایک پوٹلی ہے جس میں سمندر کی سانس چرا کر رکھی گئی ہے۔ وہ کوئی خارجی شے نہیں بلکہ سمندر کی روح اسی میں بند ہے۔

ایک اور مقام پر بیدل نے پانی کے سائے کو تکنیکی طور پر خود بنا کردہ کہا ہے۔ شعر دیکھئے

ہم چو عکس آب تشویش از بنایی ما نہ رفت

مرتعش بودہ است گویی پنجہ ی معمار ما

فن کار کے ہاتھ کی ذرا سی لغزش فن پارے کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔ بیدل کہتے ہیں کہ میری بنیاد کی فکر نہ کر جو پانی کے سائے کی طرح ہے۔ اصل میں یہ لغزش ایک فن کار کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ زمانے کی کٹھالی میں کڑھا ہوا فن کار جانتا ہے کہ اسے کہاں کہاں فنی رموز برتنے ہیں اور کس کس جگہ ہلکا سا قلم لگانا ہے۔ گویا فنی بالیدگی کی جہات اتنی وافر ہیں کہ ایک عام فن کار ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ وہ معمولی چیزوں کو اور معمولی بنا دیتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اصیل تخلیق کار ان مقامات کو کمال چابک دستی سے فن بنا دیتا ہے۔ بیدل کو اسلوب کے بغیر سانس لینا بھی قبول نہیں اور اسلوب کے لیے وہ کسی کے محتاج نہیں

ہم چو اہل قبر بیدل بی نفس باشی خوش است

تا نہ بندد رشتہ ات بر ساز گردون احتیاج

گویا کسی کا سپاس گزار ہونا بلکہ منت گزار ہونا بیدل کو قبول نہیں، وہ تو اپنے غبار کو بھی نم آلود کہتے ہیں جو اڑتا نہیں۔

بر خواستن ز شرم ضعیفی چہ ممکن است

بیدل غبار نم زدہ دارد زمین ما

بر صغیر کی خو بو میں پرورش پانے والے بیدل کو قبروں کی آرائش سے بھی کوئی علاقہ نہیں۔ وہ ساری تہذیبی اقدار کو ایک طرف رکھتے ہیں اور اپنے نظریات پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ بیدل وحدت الو جودی ہیں۔ اقبال نے کہا ہے کہ ان کی طالب علمی کے زمانے میں ورڈزورتھ اور بیدل نے انہیں الحاد سے بچائے رکھا۔ یہ عجیب پہلو دار فقرہ ہے اقبال سمجھ چکے تھے کہ ورڈزورتھ کے لیے فطرت ہی خدا ہے اور بیدل کے لیے ہر وجود۔ ورڈزورتھ فطرت میں گندھا ہوا ملحد ہے اور بیدل وحدت الو جودی لیکن ان کا وحدت الو جود ابن العربی والا نہیں بلکہ خالص فلسفیانہ اور جمالیاتی ہے۔ بر صغیر میں قبروں کی پرستش عام ہے اور مزارات کھمبیوں کی طرح اگے ہوئے ہیں اس کے باوجود بیدل کہتے ہیں

ای مردہ دل آرایش مرقد چہ تمنا ست

نام تو ہمہ بہ کہ لب گور نگیرد

بلھے شاہ نے بھی یقینا بیدل سے متاثر ہو کر کہا تھا

بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں

گور پیا کوئی ہور

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اختر عثمان کی دیگر تحریریں
اختر عثمان کی دیگر تحریریں