عاصمہ نامی لڑکی پر ملتان کے لاریٹس سکول کے احسانات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 355
  •  
  •  

چودہ مئی کے ملتان کے روزنامہ خبریں میں ایک استانی پر ایک نجی سکول کے بے شمار احسانات کی خبر آئی جس پر ہمیں بہت زیادہ یقین نہیں آیا تو ملتان کے ایک سینئیر صحافی سے بھی تصدیق کرنی پڑی۔ پتہ چلا کہ خبر میں کوئی سقم نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ مزید تفصیلات بھی ہیں۔

قصہ یہ پتہ چلا کہ ملتان میں ایک لاریٹس نامی سکول ہے جو ایک بہت غریب پرور سیاست دان خالد جاوید وڑائچ کی ملکیت ہے۔ وہ حکومتی پارٹی میں ہونے کی وجہ سے غربت ختم کرنے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ جابز دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کا بجٹ تو محدود ہے اس وجہ سے سٹاف کو حکومت کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ یعنی 16 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ نہیں دے پاتے۔ بلکہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق میٹرک پاس استانی کو تین ہزار، ایف اے پاس کو پانچ ہزار، بی اے پاس کو آٹھ اور ایم اے پاس کو بارہ ہزار دیتے ہیں۔

اب اگر وہ ایک لالچی شخص ہوتے تو ایک ہی استانی کو 16 ہزار تنخواہ پر رکھ کر اس کے سپرد ستر اسی بچے کر دیتے۔ مگر انہوں نے لالچ نہیں کیا اور ایک استانی کی تنخواہ میں چار پانچ استانیاں رکھ لیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جاب ملے۔ وڑائچ صاحب کی اسی دریا دلی کی وجہ سے مڑل نامی قصبے کے ایک غریب موذن کی بیٹی عاصمہ کو بھی لاریٹس سکول میں آٹھ ہزار پر جاب مل گئی اور وہ ملتان میں اپنے ماموں کے گھر رہنے اور سکول میں جاب کرنے لگی۔

اب آپ میں سے جو لوگ ریستوران سے پزا اور برگر کھاتے ہیں انہیں اندازہ نہیں ہو گا کہ یہ کتنی خطیر رقم ہے جو وڑائچ صاحب نے اس لڑکی کی تنخواہ مقرر کی تھی۔ اس رقم سے عاصمہ نہ صرف خود کھاتی پیتی تھی بلکہ اپنے بہن بھائیوں کے تعلیمی اخراجات بھی اٹھاتی تھی۔ پھر بھی اتنے زیادہ پیسے بچ جاتے تھے کہ عاصمہ کی نانی کی بہن کی ٹانگ ٹوٹی تو اس کا علاج بھی عاصمہ نے اپنی تنخواہ سے ہی کروایا۔ باقی پیسے وہ اپنے گھر بھیج دیتی تھی تاکہ گھر کا نظام بھی چلتا رہے۔

بہرحال لاریٹس سکول کو تعلیمی معیار کا بہت زیادہ خیال ہے۔ ایک اچھا تعلیمی ادارہ ہونے کی وجہ سے وہ اس چیز پر بھرپور توجہ دیتا ہے کہ ایک ٹیچر خواہ تین ہزار تنخواہ لے یا آٹھ ہزار، وہ ایسی فرفر انگریزی بولے کہ ایک بچے سے دس بیس ہزار فیس لینے والے سکولوں کی استانیاں بھی اس کے آگے پانی بھریں۔ ظاہر ہے کہ جو لڑکی آٹھ ہزار ماہانہ تنخواہ لے رہی ہے، وہ کسی اچھے انگریزی میڈیم سکول سے ہی پڑھ کر آئی ہو گی ورنہ اسے لاریٹس جیسا بہترین سکول کیوں اتنی خطیر تنخواہ پر ملازمت دیتا؟

ایک دن انگریزی بولنے کی ٹریننگ چل رہی تھی تو پہلے جونئیر سیکشن کی نگران نے محض اصلاح کی غرض سے عاصمہ کو بتایا کہ اس کی انگریزی درست نہیں ہے۔ مانا کہ کچھ اونچ نیچ ہو گئی ہو گی اور بیس تیس ٹیچرز کے سامنے اس سے کچھ سختی سے شدید بے عزتی کر دی گئی ہو گی مگر یہ محض اس کی اپنی بھلائی کی خاطر تھا۔ پھر کچھ دیر بعد پرنسپل نے عاصمہ کو پریزینٹیشن دینے کا کہا۔

غالباً عاصمہ اتنی خوشی برداشت نہ کر سکی کہ اتنی عظیم ہستی اس سے انگریزی سننے کی خواہاں ہے۔ اس نے درخواست کی کہ اسے کچھ سنبھلنے کی مہلت دی جائے اور دو تین دن بعد اس سے پریزینٹیشن لی جائے۔ مگر پرنسپل کو اس پر بہت پیار آ رہا تھا۔ کہنے لگیں کہ ابھی فوراً پریزنٹیشن دو ورنہ پکی پکی گھر جاؤ۔ یعنی اندازہ کریں کہ ورکنگ ڈے ہونے کے باوجود اسے سکول سے چھٹی دینے کا اعلان کر دیا۔ پیار سے کچھ ڈانٹ ڈپٹ بھی کر دی۔ اب اگر عاصمہ چکرا کر گر پڑی تو اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ اتنا پیار سنبھال نہیں پائی۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کا تمام اساتذہ کے سامنے شدید بے عزتی ہونے کی وجہ سے بلڈ پریشر کم ہو گیا تھا ہمیں ان پر یقین نہیں ہے۔

گرتے وقت ایک کرسی اس کے سر سے ٹکرا گئی۔ اس کے سر سے خون بہنے لگا تو ساتھی استانیوں نے 1122 بلانے کی کوشش کی۔ اب انصاف سے کام لیا جائے تو یہ نہایت نامناسب معاملہ تھا کہ ایک ایسے سکول میں ایمبولینس بلائی جائے جہاں ننھے ننھے بچے پڑھتے ہیں۔ ان پر کتنا برا اثر پڑتا۔ اس لئے سکول انتظامیہ نے ایمبولینس بلانے سے انکار کر دیا۔ اس پر استانیوں نے کوشش کی کہ سکول مالک کی گاڑی میں عاصمہ کو ہسپتال لے جایا جائے۔ غالباً وڑائچ صاحب کو کسی ضروری کام سے کہیں جانا ہو گا یا پھر انہوں نے گاڑی کی پوشش نئی ڈلوائی ہو گی جو عاصمہ کے سر سے بہتے خون سے خراب ہو جاتی، اس لئے انہوں نے انکار کر دیا۔

استانیاں بھی ہٹ دھرم تھیں۔ وہ ایک رکشے میں عاصمہ کو ڈال کر قریب واقع نجی ہسپتال لے گئیں جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ زیادہ دیر ہونے کے سبب عاصمہ کی موت واقع ہو گئی ہے۔ عاصمہ کی میت کو نشتر ہسپتال لے جایا گیا۔ ادھر بھی ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کر دی۔

روزنامہ خبریں کے مطابق وڑائچ صاحب کو یہ اطلاع ملی تو وہ اپنی تمام انتہائی اہم مصروفیات ترک کر کے اپنی نئی پوشش والی گاڑی میں بیٹھ کر ہسپتال پہنچے اور ڈاکٹروں کو کہا کہ وہ بے جا ضد نہ کریں بلکہ میت کو ان کے حوالے کر دیں۔ ڈاکٹر ہٹ دھرم نکلے۔ کہنے لگے کہ میت کو ورثا کے حوالے کریں گے اور یہ لیگل کیس ہے۔ بہرحال وڑائچ صاحب نے دوڑ دھوپ کر کے ورثا سے لکھوا لیا کہ وہ قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ میت کی بے حرمتی نہ ہو اور جلد از جلد تدفین ہو جائے۔ ہسپتال نے یہ کاغذ دیکھ کر میت حوالے کر دی۔

وڑائچ صاحب کی نرم دلی دیکھیں کہ اپنی نئی پوشش والی گاڑی میں بیٹھ کر دھول مٹی سے اٹے راستوں پر چل کر ملتان سے مڑل خاص طور پر گئے تاکہ عاصمہ کے گھر والوں سے اظہار افسوس کر سکیں۔ پھر بھِی لوگ انہیں بدنام کر رہے ہیں کہ وہ سرکاری پارٹی کا لیڈر ہونے کے باوجود سرکار کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ سے کہیں کم تنخواہ دیتے ہیں، ان کے ایمبولینس نہ بلانے اور گاڑی نہ دینے کے سبب عاصمہ کی موت ہوئی۔ ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ ان سے ہمارا ملک بدنام ہوتا ہے۔

عاصمہ کی نانی نے بتایا کہ عاصمہ انتظار کر رہی تھی کہ اسے تنخواہ ملے تو اپنے اور بہن بھائیوں کے لئے عید کی تیاری کر لے۔ اب اسے اپنے لئے تو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وڑائچ صاحب دریا دل انسان ہیں۔ ان کی مہربانی سے اسے نیا سفید جوڑا مل گیا ہے جو تاقیامت اس کے کام آئے گا۔ جہاں تک بہن بھائیوں کا تعلق ہے انہیں بھی لاریٹس جیسے کسی ایسے اچھے سکول میں جاب مل جائے گی جہاں اچھی انگریزی بولنے کی خاطر اساتذہ سے ہرقسم کی قربانی لی جاتی ہے۔ عزت نفس کی بھی اور جان کی بھی۔ ہمیں امید ہے کہ اس بہترین سکول میں بچے داخل کروانے کے لئے لوگ لائنیں بنائے کھڑے ہوں گے، نکلوانے کے لئے نہیں۔

نوٹ: یہ اس ظلم عظیم کے خلاف ایک طنزیہ تحریر ہے جس میں موجود معلومات کی بنیاد روزنامہ خبریں کی 14 مئی کی خبر اور ملتان کے سینئیر صحافی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 355
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1125 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar