لیاری گینگ وار:عروج سے زوال تک


عزیز مندرو

\"mandaro\"پاکستان کے شہر کراچی کو خوف کی علامت سمجھا جانے لگا جب بم دھماکے ٹارگٹ کلنگ کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا، جہاں کاروباری زندگی مفلوج ہو گئی اور ملکی معیشت تباہی کے دہانے تک جا پہنچی۔

لیاری کو کراچی میں وہی مقام حاصل ہے جو کراچی کو پاکستان میں حاصل ہے، 15 لاکھ آبادی پر مشتمل لیاری ٹائون، لیاری کا نام سنتے ہی لوگوں پر دہشت اور خوف طاری ہو جاتا، لیاری جو کبھی اسپورٹس کی وجہ سے لکھا اور یاد کیا جاتا آج یہاں مختلف گینگز کا قبضہ ہو چکا تھا، نوجوانوں کو ڈرگز کی لت لگا کر گینگ میں شامل کر لیا جاتا۔ ہزاروں نوجوان خون خوار درندے بن گئے، گینگز کی آپسی لڑائی میں ہزاروں افراد کو موت کی گھاٹ اتار دیا جاتا، قانون نافذ کرنے والے خاموش تماشائی بنے رہتے، بھتہ خوری عروج پر پہنچ چکی تھی کاروباری زندگی دم توڑ چکی تھی ہر طرف دہشت، خوف اور گینگسٹرز نے قبضہ کر رکھا تھا، ماں باپ اپنے بچوں کو موت کہ منہ میں جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے، گینگز نوجوانوں کو ڈرگز کی لت لگا کر اور مختلف لالچ دے کر اپنے ساتھ شامل کرتے گئے۔

ایک گینگ جب دوسرے گینگ کے علاقے پہ قبضہ کرنا چاہتا یا بھتہ وصولی کرتا تو نہ رکنے والی جنگ شروع ہو جاتی مورچے لگ جاتے کئی دنوں تک لیاری راکٹ لانچر، دستی بموں، ایوان کے دھماکوں سے گونجتا رہتا، ہزاروں بے گناہ افراد ان کی درندگی کی نظر ہو جاتے، استطاعت رکھنے والے افراد لیاری کو الوداع کر کے دوسرے علاقوں میں جا بسے، مجبور اور مظلوم افراد حالت جنگ کے دوران کچھ دنوں کے لئے اپنے عزیز و اقارب کی طرف رخ کرتے اور کچھ گینگ وار کے رحم و کرم پہ اپنی زندگی بسر کرتے، اسلحے کا راج قائم ہو چکا تھا ہر طرف خونریزی درندگی قتل و غارت گری، بھتہ مافیا، جووے کے اڈے، منشیات فروشوں کے اڈے دکھائی دینے لگے، تعلیمی ادارے ویران ہو چکے تھے سرکاری اسکول جرئم پیشہ افراد کے ٹارچر سیل کی شکل اختیار کر گئے، خوف کی وجہ سے ہزاروں طالب علموں پر گھر کی دہلیز عبور کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی، اور اس طرح ہزاروں طالب علموں کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی غروب ہو گیا۔

گینگسٹرز طاقت کے نشے میں اتنے چور ہو چکے تھے کہ اب وہ کراچی شہر پر قبضہ کرنے نکل پڑے تھے، لیاری سے ہوتے ہوئے ملیر کھوکھرا پار، ڈالمیا، ابراہیم حیدری، بلدیہ، کیماڑی، شیر شاہ سے ہوتے ہوئے حب بلوچستان پھر ایران اور اب دبئی کی طرف پروان بھر چکے تھے۔ یہ گینگ اتنی طاقت ور ہو چکے تھیں کہ بیرون ممالک میں اپنا کاروبار اور نیٹورک قائم کرنے لگے، ملک دشمن عناصر ان گینگز پر اپنی نا پاک نظریں جمائے بیٹھے تھے، اور پھر نہ صرف لیاری بلکہ ان گینگز کے اثرات پورے شہر میں دیکھنے کو ملے، جب ایک نا معلوم افراد کی تنظیم اور لیاری گینگ وار کے درمیان ٹارگٹ کلنگ کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تاجر برادری نے سرنڈر کر دیا اور بھتہ دینے لگے بلڈرز، فیکٹری مالکان دکانداروں سمیت ہر جگہ سے ہفتہ اور ماہانہ آنا شروع ہو گیا، گینگ وار نے اسلحے کے زور پہ لیاری کے مکینوں کو یرغمال بنا رکھا تھا وہ دوسرے علاقوں میں مقیم اپنے عزیز و اقارب کی طرف رخ کرنے لگےانہیں ڈرا دھمکا کر نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا گیا۔

وقت نے کروٹ بدلی گینگ وار کے ستائے ہوئے لوگ اپنی عزتوں، حرمتوں کو بچانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔جو کل تک مردہ معاشرے میں جی رہے تھے جہاں مظلوم ظالم کو ظالم نہیں کہ سکتا تھا جب بات عزتوں پہ بن آئی تو لیاری کی عوام نے ان گینگز کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کر دیا، مختلف برادریوں نے ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہو کر اتحاد کو وجود عمل میں لایا گیا اور ان جرائم پیشہ افراد سے اپنے آنے والی نسلوں اور عزتوں کو بچانے نکل پڑے، ہزاروں افراد اس اتحاد میں شامل ہوتے گئے اور جرائم پیشہ افراد پر سکتہ طاری ہونے لگا، اس اتحاد نے اپنے علاقوں سے گینگسٹرز کے اڈے بند کرانا شروع کر دیئے جو لوگ کل تک گینگ وار کے نام سے لرز اٹھتے تھے آج گینگ وار کے کارندوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگے تھے اپنا بوریا بستر باندو اور لیاری سے اپنے ڈرگز کے اڈے جوے کے اڈے بند کرو۔ لیاری کے مختلف علاقوں سے گینگ وار ختم ہو گئی، تاجر برادری نے بھی مخالفت کرنا شروع کر دی بلڈرز، ٹرانسپورٹرز فیکٹری مالکان نے بھتہ دینا بند کر دیا اور اس اتحاد کا حصہ بن کر گینگ وار مخالف اتحاد کو مضبوط کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کیا، گینگ وار کمانڈرز نے لوکل اخبارات اور مسجدوں میں اعلانات کرانا شروع دیئے کہ 48 گھنٹوں میں لیاری چھوڑ کر چلے جائیں ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑیگا، اور پھر دو دن بعد راکٹ لانچر، دستی بموں مارٹر گولوں سے ان علاقوں پر بمباری شروع کردی جہاں اس کی مخالفت کی جا رہی تھی، جہاں سے بھتہ آنا بند ہو گیا تھا ہزاروں بے گناہ افراد کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا، قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی ہی بنے رہے۔ مقامی افراد کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلسل نشاندہی کرائے جانے کے بعد بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا تھا، انتظامیہ کی طرف سے گینگ وار کمانڈرز کے سروں کی قیمت لگائی جاتی تو کبھی کمیٹیاں قائم کر دی جاتیں جو صرف جھوٹے وعدے اور کھوکھلے دعوؤں کے سوا کچھ نہ کر پا رہی تھیں انتظامیہ زبانی جمع خرچ اور میڈیا کو بیانات دینے اور سب ٹھیک ہے کا راگ الاپنے تک محدود تھی، بالآخر لیاری کی عوام نے احتجاجً اور اپنے بچوں کی جان بچانے کی خاطر ٹھٹھہ، بدین، ملیر، دابیجی میں خیمے لگا کر زندگی کے مشکل ترین دو ماہ گزارے۔

میڈیا کی کاوشوں سے قانوں نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی حکومت کو باور کرایا گیا کہ جب تک گینگ وار لیاری میں رہے گی ہم واپس نہیں جائیں گے، پاک رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن شروع ہوا تو لیاری کی عوام سمیت پورے کراچی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ایک امید کی کرن نظر آنے لگی۔ پاک رینجرز کی کارروائیوں سے عوام کا مورال بلند ہونے لگا اور جرائم پیشہ افراد اپنی پناہ گاہیں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ کل تک نقل مکانی کا درس دینے والے آج در بدر ہو چکے ہیں۔ ہزاروں جانوں کا نظرانہ دینے کے بعد لیاری کی مظلوم عوام کی فریاد پاک رینجرز نے سن لی اور لیاری کی عوام کو واپس اپنے گھروں میں آباد کرانے کا عمل شروع کرایا۔ آج گینگ وار درندے قانون کے شکنجے میں آچکے ہیں، لیاری کی رونقیں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں، خوف اور دہشت کا ماحول دم توڑ چکا ہے، گینگسٹرز اپنے انجام کو جا پہنچے۔

ایک مشکل وقت کے بعد تعلیمی سرگرمیاں شروع تو ہو گئی ہیں لیکن جو پچھلے سالوں میں تعلیمی اداروں کی ویرانیوں سے لیاری کے نوجوانوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کبھی نہیں کیا جا سکتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سماجی اداروں اور حکومت کی جانب سے ایسے ادارے قائم کیئے جائیں جو لیاری میں تعلیمی کوالٹی کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری اسکولوں کو ترقی کی طرف گامزن کر سکیں اور تعلیمی میدانوں میں کارکرگی دکھانے والوں کو اسکالر شپس اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ماضی میں ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ ہو سکے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “لیاری گینگ وار:عروج سے زوال تک

  • 15/09/2016 at 7:39 شام
    Permalink

    excellent work brave man

  • 17/09/2016 at 1:31 شام
    Permalink

    Thanks

Comments are closed.