عاشی مر جائے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نہر کے کنارے کچی سڑک پر ایک موٹر سائیکل رواں دواں تھی۔ یہ موٹر سائیکل ایک نوجوان چلا رہا تھا جس نے کاٹن کا سفید رنگ کا شلوار قمیص پہنا ہوا تھا۔ اس کے پیچھے ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ سیاہ رنگ کی چادر اس نے اپنے جسم کے گرد لپیٹی ہوئی تھی حالاں کہ یہ مئی کا مہینہ تھا۔ گرمی اپنے جوبن پر تھی۔ نہر کے کنارے اس کچی سڑک پر کوئی اور سواری آتے جاتے دکھائی نہ دیتی تھی۔ یوں بھی وہ گاؤں سے بہت دور نکل آئے تھے۔ دوپہر کا وقت تھا اور اس وقت کون باہر نکلتا۔

دور سے درختوں کا ایک جھنڈ دیکھ کر نوجوان کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ موٹر سائیکل کی رفتار کم ہو گئی شاید اسے اسی جگہ آنا تھا۔ نوجوان نے موٹر سائیکل روک دی۔ لڑکی اتری اور نوجوان موٹر سائیکل کو چھوٹی سی پگڈنڈی سے کسی نہ کسی طرح درختوں اور جھاڑیوں تک لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے موٹر سائیکل کو جھاڑیوں اس طرح کھڑا کیا کہ دور سے کوئی دیکھ نہ سکے۔ پھر ایک گھنے درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے بولا۔

”آؤ ناں عاشی بیٹھ جاؤ۔ “ لڑکی مسکرائی اس نے کالی چادر اتاری اور اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ”توبہ توبہ آج تو کچھ زیادہ ہی گرمی ہے، سورج آگ برسا رہا ہے۔ “ اس نے دوپٹے سے اپنے چہرہ پونچھا جس پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ نوجوان نے بھرپور نظروں سے اسے دیکھا۔ عاشی نے سرخ رنگ کا لان کا شلوار قمیص پہنا ہوا تھا۔ اس کی عمر بمشکل اٹھارہ برس رہی ہوگی۔ بھرپور جوانی اس کے انگ انگ سے جھلکتی تھی۔ جسم کے ساتھ ساتھ وہ ایک خوبصورت چہرے کی مالک تھی۔ نوجوان اسے پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

”اتنے غور سے کیا دیکھ رہے ہو؟ نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟ “ عاشی نے شوخی سے کہا۔

”پیار کرنے والوں کی بھی کبھی نظر لگتی ہے اور میں تو تمہیں خود سے زیادہ چاہتا ہوں۔ “ نوجوان مسکرا اٹھا۔ ”ایویں باتیں بنا رہا ہے۔ “ عاشی نے اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا۔ نوجوان نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ کافی دیر تک وہ یونہی چپ چاپ بیٹھے رہے۔ شاید وہ اس زبان میں باتیں کر رہے تھے جو دنیا کی ہر زبان سے زیادہ فصیح اور بلیغ ہے ؛ خاموشی کی زبان۔ عاشی نے اس کے کندھے سے سر اٹھایا اور دھیرے سے اس کا نام لیا۔

”نومی! “

”ہاں۔ “ وہ جیسے چونک کر کسی خیال سے باہر آیا۔

”اب تک انہیں پتا چل چکا ہو گا ناں۔ “

”اب تک تو وہ ہمیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہو چکے ہوں گے۔ “ نوجوان بولا۔

” ڈھونڈتے رہیں اب ہم ان کے ہاتھ نہیں آنے والے۔ “ عاشی ہنس پڑی۔

نومی اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے اس کی صورت کو آنکھوں میں بسا لینا چاہتا ہو۔ عاشی اس کے سینے سے لگی باتیں کر رہی تھی اور وہ بڑے انہماک سے سن رہا تھا۔ نہ جانے وہ کون سی باتیں تھیں جو ختم ہونے میں نہ آ رہی تھیں۔ جیسے وہ صدیوں کے بچھڑے ہوئے تھے اور آج ملے تھے۔ وہ دل کی ساری باتیں آج ہی کرنے کے موڈ میں تھی۔

نومی کے ایک بوسے نے اس کی گفتگو کو روک دیا۔ نومی اپنی محبت کا اقرار کر رہا تھا حالاں کہ یہ باتیں وہ پہلے بھی کر چکے تھے مگر نہ جانے کیوں محبت کو ہمیشہ تجدید کی ضرورت کیوں رہتی ہے۔ اب وہ بول رہا تھا اور عاشی کی آنکھیں بھیگتی جا رہی تھیں۔ پھر وہ دونوں خاموش ہوگئے۔ وہ چپ چاپ ایک دوسرے کے دل کی دھڑکنیں سن رہے تھے۔ گرمی کی وجہ سے ان کے کپڑے پسینے سے تر ہو چکے تھے۔

”دیکھو پسینے سے تمہارے کپڑے جسم سے چپک گئے ہیں۔ “ نومی بولا۔

”تم بھی تو پسینے میں نہائے ہوئے ہو۔ “ عاشی نے فوراً کہا۔

”ہاں یہ ٹھیک ہے۔ “ نومی کو اچانک ایک خیال سوجھا۔

”کیا ٹھیک ہے؟ کچھ بتاؤ گے؟ “ عاشی بولی۔

”ادھر نہر بھی ہے۔ آؤ نہر میں نہاتے ہیں۔ “ نومی نے کہا۔

”کسی نے دیکھ لیا تو؟ “

”اتنی گرمی میں کون ادھر آئے گا۔ ویسے بھی گاؤں سے بہت دور ہیں۔ سب ہماری طرح سر پھرے تھوڑی ہیں۔ “ نومی نے کہا۔

”مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔ “ عاشی مسکرا اٹھی۔ اس نے قمیص اتارتے ہوئے کہا۔ نومی نے بھی فوراً قمیص اتار دی۔ اپنے کپڑے وہیں جھاڑیوں میں رکھ کر وہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نہر کی طرف بڑھ گئے۔ نہر کے کنارے پر وہ چند لمحوں کے لئے رک گئے۔ نہر کا پانی اپنی مخصوص روانی سے بہہ رہا تھا۔ نہر کا پاٹ یہاں پر چوڑا تھا۔

”پہلے میں نہر میں اتروں گا۔ پتا نہیں یہ اس جگہ پر کتنی گہری ہے۔ “ نومی نے کہا۔

”کمال ہے ہم دونوں اتنے اچھے تیراک ہیں یہ نہر ہمیں کیا کہے گی۔ “ عاشی ہنس پڑی۔

”یہ بات نہیں ہے بس میں تمہیں کھونے سے بہت ڈرتا ہوں۔ “ نومی نے اس کی طرف دیکھا۔ پسینے کے قطرے اس کی پیشانی اور چہرے کے ساتھ ساتھ پورے بدن پر چمک رہے تھے۔ ”کیا دیکھ رہے ہو؟ “ عاشی شرما گئی۔ ”کچھ نہیں“ نومی نے یہ کہتے ہوئے بازو پھیلا دیے۔ عاشی اس کے بازوؤں میں سما گئی۔

آہستہ آہستہ وہ نہر میں اتر گئے۔ میدانی علاقوں میں پانی کی رفتار زیادہ تیز نہیں ہوتی وہ بڑی سہولت سے نہر میں تیر رہے تھے۔ کافی دیر تک وہ پانی سے کھیلتے رہے پھر باہر آ گئے۔ نہر کا پانی ٹھنڈا تھا۔ اس میں نہانے سے گرمی کا احساس کچھ دیر کے لئے مٹ گیا تھا۔ وہ تازہ دم ہو گئے تھے۔ اب دوپہر بھی ڈھل چکی تھی۔ سورج کی تمازت میں کمی آ چکی تھی۔ اپنی مخصوص جگہ پر آ کر انہوں نے کپڑے پہنے اور پھر درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔

اب عاشی کی آنکھوں میں اداسی کے سائے تیرنے لگے تھے۔ نومی بھی کچھ مضطرب لگ رہا تھا۔ وہ بڑی دیر تک ایک دوسرے سے عہد و پیمان باندھتے رہے۔ ان کے لئے ایک ایک لمحہ بے حد قیمتی تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ وقت تھم جائے مگر وقت کب کسی کے چاہنے سے رکا ہے۔ سورج نے مغرب میں بستر جمانے کی تیاری کر لی تھی۔ انہوں نے ایک دوسے کی طرف دیکھا یہ الوداعی لمحے تھے۔ اس بار عاشی نے بڑی شدت سے نومی کو گلے لگایا اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔

نومی چپ چاپ موٹر سائیکل کی طرف بڑھا۔ موٹر سائیکل کو سڑک پر لا کر اس نے عاشی کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ عاشی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

”عاشی رونا نہیں، تمہارے آنسو میرے دل پر گرتے ہیں۔ میں تمہارا ہوں اور ہمیشہ تمہارا ہی رہوں گا۔ “ نومی نے بے چین ہو کر کہا۔

”اور میں تمہارے سوا کسی کی نہیں ہوں گی، عاشی مر جائے گی مگر کسی اور سے شادی کبھی نہیں کرے گی۔ “ عاشی نے تڑپ کر کہا۔

نومی نے موٹر سائیکل سٹارٹ کی۔ عاشی اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔ اب اس نے چادر لپیٹنے کا تکلف نہیں کیا تھا۔ موٹر سائیکل واپسی کے راستے پر چل پڑی۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ گاؤں میں داخل ہو رہے تھے۔ اندھیرا پھیل چکا تھا لیکن بڑی حویلی میں روشنی تھی۔ چوہدری حشمت کے کارندے ان دونوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھوڑی دیر پہلے ہی واپس آئے تھے۔ نومی حویلی کے بڑے گیٹ سے موٹر سائیکل اندر لے گیا۔ چوہدری کے کارندے چونک اٹھے۔ انہوں نے بندوقیں سیدھی کر لیں۔ دو تین چیختے ہوئے چوہدری کو بلانے کے اند دوڑے۔ نومی نے اطمینان سے موٹر سائیکل روکی اور اس کے ہینڈل سے ایک کالا تھیلا اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔ عاشی بھی اس کے ساتھ کھڑی تھی۔ چوہدری حشمت اور اس کا بڑا بیٹا داور غصے اور طیش سے بھرے ہوئے نمودار ہوئے۔

”مجھے پتا تھا تم اسی کمی کمین کے ساتھ بھاگی ہو۔ “ چوہدری نے غصے کے عالم میں دھاڑتے ہوئے کہا۔

”یہ کمی کمین نہیں ہے ابا۔ یہ اس گاؤں کا سب سے اچھا لڑکا ہے اور ہاں آپ سے زیادہ پڑھا لکھا ہے۔ اس میں انسانیت بھی آپ سے زیادہ ہے۔ “ عاشی نے بھی اونچی آواز میں کہا۔

”زبان بند کر ورنہ ابھی گولیوں سے بھون دوں گا۔ “ چوہدری غرایا۔

”ابا کیوں باتوں میں وقت ضائع کر رہے ہو۔ مجھے اجازت دو میں ان دونوں کو اپنے ہاتھوں سے گولیاں ماروں گا۔ “ داور نے شدید غصے کے عالم میں کہا۔

”ہم گولیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں چوہدری صاحب! آپ کے بندے ہم دونوں کو نہیں دھونڈ پائے تھے۔ ہم خود واپس آئے ہیں۔ “ نومی نے زبان کھولی۔

”آ تو گئے ہو لیکن واپس نہیں جا سکو گے۔ “ چوہدری نے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہا۔

نومی مسکرا اٹھا۔ ”چوہدری صاحب آپ یہ بات کبھی نہیں سمجھ سکیں گے۔ آپ صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ ہمیں ڈھونڈیں اور پھر مار دیں لیکن میں ایک بات بتا دوں محبت کبھی نہیں مرتی۔ آپ لاکھ کوشش کر لیں آپ محبت کو قتل نہیں کر سکتے۔ آج آپ کی آنکھوں کے سامنے عاشی چلی جائے گی اور آپ کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔ “ نومی نے بڑے رسان سے کہا۔

اس کے دبنگ لہجے اور اطمینان کو دیکھ کر چوہدری کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ وہ واقعی سمجھ نہیں پایا تھا کہ یہ دونوں بچ کر نکلنے کے باوجود موت کے منہ میں واپس کیوں آ گئے تھے۔ نومی رتی برابر بھی خوف زدہ نہیں لگ رہا تھا جب کہ موت اس کے سر پر ناچ رہی تھی۔ وہ کیا چیز تھی جس نے اسے اس قدر دلیر بنا دیا تھا۔ عاشی بھی یوں مطمئن کھڑی تھی جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔ چوہدری نے اپنے کارندے کے ہاتھ سے بندوق پکڑی اور نومی کا نشانہ لیا۔

نومی نے اطمینان سے اپنے کالے تھیلے میں ہاتھ ڈالا اور ایک تیز دھار چھرا نکالا۔ چوہدری چونکا۔ اس کے سب آدمی الرٹ ہو گئے۔ چوہدری نے ٹریگر پر دباؤ بڑھا دیا۔ نومی کو جیسے ارد گرد کے ماحول کی پرواہ ہی نہیں تھی اس نے ایک گہری اور محبت بھری نگاہ سے عاشی کو دیکھا اور پھر یک دم پورے زور سے چھرا اپنے سینے میں گھونپ دیا۔ اسے کے سینے سے خون کا فوارہ چھوٹ پڑا وہ زمین پر گر پڑا۔ عاشی کے منہ سے ایک دردناک چیخ نکلی۔ چوہدری اور اس کے کارندے آنکھیں پھاڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ عاشی تڑپ کر آگے بڑھی اس نے پلک جھپکنے میں چھرا نومی کے سینے سے نکالا اور چشم زدن میں اپنے سینے میں اتار لیا۔

چوہدری اور داور فوراً بھاگ کر اس کی طرف لپکے لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ زمین نومی اور عاشی کے خون سے سرخ ہو رہی تھی۔ دونوں کے دل کٹ چکے تھے۔ چوہدری اپنا انتقام کس سے لیتا اس کے سامنے دو لاشیں پڑی تھیں۔ نومی نے کہا تھا محبت مر نہیں سکتی۔ محبت تو اب بھی سانسیں لے رہی تھی۔ نومی نہیں جئیے گا، عاشی مر جائے گی مگر محبت ہمیشہ زندہ رہے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •