آپ روزے کیوں رکھتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روزہ کیا ہے، رمضان کیا ہے میں اس کے مذہبی پہلو پر بات نہیں کرونگی۔ میں روزے کی سماجی اور معاشرتی حثیت اور اس کے اثرات پر کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

آپ کسی سے بھی یہ سوال کریں کس سے مرادخاص طورپر ہمارے پاکستانی مسلمان ہیں۔ کہ آپ روزہ کیوں رکھتے ہیں جواب ملے گا کیونکہ اس کا حکم ہے اور یہ فرض ہے۔ اب آپ پوچھیے کہ روزہ کا مقصد کیا ہے؟ روزہ آپ کو کیا سیکھتا ہے؟ تو آپ کو یہ جوابات ملیں گے۔

1۔ ہم روزہ اس لئے رکھتے ہیں تاکہ ہمیں دوسروں یعنی غریبوں کی بھوک پیاس کا احساس ہو سکے۔

کیا واقعی؟ نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ ہمیں تو اپنی بھی بھوک پیاس کا احساس نہیں ہوتا۔ ہم سحری میں خاص چیزیں کھاتے ہیں، اور جہاں تک ممکن ہو کھاتے ہیں۔ پانی کا گلاس بھی آخری لمحات میں اذان کی آواز کے ساتھ ساتھ نوش کرتے ہیں۔ ہمیں اس بات کی بھی تسلی ہے کہ چند گھنٹوں بعد افطار ہو گا اور ہم ایک بار پھر خوب پیٹ بھر کر کھا سکیں گے۔ ہمیں کوئی منع نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ہم سے یہ کھانا چھین سکتا ہے۔ تو ہمیں ان مسکینوں اور بھوکوں کے درد کا احساس کیسے ہو سکتا ہے جن کے سامنے کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی انہیں یہ علم ہے کہ اگلا کھانا کب میسر ہو گا؟ ہوگا بھی یا نہیں۔

اگر ہمیں بھوکوں کی اس اذیت کا احساس ہوتا تو کیا وجہ ہے کہ اکثر مسلم مملک میں غربت اور بھوک بڑھ گئی ہے۔ اپنے پاکستان کو ہی دیکھ لیجیے۔ لوگ بھوک سے تنگ آ کر خودکشیاں کر رہے ہیں۔ مائیں بچوں کو برائے فروخت کی تختی لگائے سڑک کنارے بیٹھی ہیں۔ صرف رمضان میں افطاری کی ٹرے مسجد میں بھیجنے اور لمبے لمبے دسترخوان لگا کر دنیا سے بھوک ختم نہیں ہو گی

ہمارے کھانا پکانے کے ٹی وی پروگرامز میں تو رمضان اسپیشل چل رہا ہوتا ہے۔ جہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ سحری میں اگر فلاں فلاں چیزیں کھایں تو آپ کوبھوک پیاس نہیں لگے گی اور آ پکا روزہ آرام سے کٹ جائے گا، ذرا بھی نہیں لگے گا۔ اسی طرح افطار کے خاص پکوان بھی ہیں۔ ”جی چاہتا ہے کچھ چٹ پٹا کھانے کو“ تو اس کے لئے بھی نت نئی چیزیں ہیں۔ پینے کے لئے طرح طرح کے شربت ہیں۔ غذایت سے بھرپور۔ تو پھر بتایئے کہ آپ کو ان بدنصیبوں کی بھوک پیاس کا احساس کیسے ہو؟ دن میں خاص کر چھٹی والے دن تو روزہ بہلانے کے سامان بھی مہیا ہیں۔ نئی فلمیں اور شوز کی سی ڈیز خریدی ہوئی ہیں۔ اور ٹی وی چینلز بھی تو ہیں اپ کی تفریح کے لئے۔ اور سونے کا آپشن تو ہے ہی۔

روزے کا دوسرا مقصد جو بیان کیا جاتا ہے وہ یہ ہے۔

2۔ روزے سے ہمارے اندر ڈسپلن آتا ہے۔ ہم زندگی میں توازن سیکھتے ہیں۔

یہ جواب ایک مذاق سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔ ہم توازن اور ترتیب بالکل بھی نہیں سیکھتے۔ آج تک نہیں سیکھی۔ ۔ ہم قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار بھی نہیں کرتے۔ بلکہ ہم توایک سیدھی قطار بھی نہیں بنا سکتے، ہم ٹریفیک کے اصولوں کو توڑتے ہیں، غلط لین پر گاڑی لے جاتے ہیں۔ دوسروں سے آگے نکلنے کی دھن میں پوری ٹریفیک کو جام کر دیتے ہیں۔ رمضان اور روزے کی حالت میں تو یہ بے ہنگامی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

گھر جانے کی جلدی ہوتی ہے نا۔ بھوکے جو ہیں پورے دن سے۔ افطار کے لئے پکوڑے سموسے بھی خریدنے ہیں۔ اور پھر رات کو تراویح پڑھنے جانا ہے۔ دیر سے روزہ کھولنا بھی تو مکروہ ہے نا۔ اب لال بتی پر نہیں رکے تو کیا ہوا۔ افطار وقت پر کرنا مسلمان پر فرض ہے ہے۔ کہیں بھی ڈسپلن اور توازن نظر نہیں آتا۔ ہم نہ توایک امت ہیں نہ ہی ایک قوم۔ ایک منتشر سا مجمع بن کر رہ گئے ہیں۔ مجمع بھی ایسا جو بے قابو اور بے مہار ہے۔

تیسرا مقصد روزے کا بتایا جاتا ہے۔

3۔ تاکہ ہم متقی بن سکیں۔

تقویٰ کا مطلب ہم سب جانتے ہی ہیں۔ یعنی اپنے آپ کو ہر روکاٹ اور نقصان پہچانے والی چیز سے بچا کر گزرنا۔ دوسرے الفاظ میں سیدھے اور صحیح راست پر چلنا۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا روزہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے میں مدد دے رہا ہے؟ کیا ہم متقی بن گئے؟ رمضان میں تو ہمیں لوگوں کا کچھ اور ہی رویہ دکھائی دیتا ہے۔ دفتروں میں دیر سے آنا اور جلدی جانا ایک معمول کی بات ہے۔ جو سیٹ پر بیٹھے بھی ہیں وہ اونگھ رہے ہیں۔ کام نہیں ہو رہا۔ سائیل بیٹھا ہے لیکن ظہر عصر کی نماز با جماعت ادا ہو رہی ہے۔ ہاتھ میں تھامی تسبیح پھیری جا رہی ہے۔ سب کا مزاج چڑچڑا ہے۔ تراویح اور سحری کی وجہ سے نیند پوری نہیں ہوتی۔ عبادت خدمت سے بڑھ کر ہے۔

دوکاندار الگ بیزار بیٹھ ہیں اور کسی حد تک بدتیذیبی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایک سے دو بار اگر آپ نے کچھ اور دیکھنے کی بات کی تو وہ نہایت برہمی سے آپ کی طرف دیکھیں گے۔ اسکولوں میں اساتذہ جماہیں لیتے ہیں یا بچوں کو ڈانٹ کر روزے کی تکلیف دور کر رہے ہیں۔ روزے دار بچے بھی اپنے آپ سے اور دوسروں سے بھی الجھ رہے ہیں۔

یوں لگتا ہے جیسے سارا ملک ویسے توسست رفتار ہو ہی گیا ہے لیکن بد مزاجی اور بداخلاقی پورے عروج پر ہے۔

ساری دنیا میں رواج ہے کہ قومی تہوار جیسا کہ کرسمس کے موقعے پر چیزیں سستی کر دی جاتی ہیں۔ جگہ جگہ سیل ہوتی ہے۔ تاکہ چیزیں کم استطاعت والے کی بھی پہنچ میں ہوں۔ ہمارے ہاں الٹا ہی رواج ہے۔ رمضان کے آتے ہی مہنگائی کا جن جو کب کا بوتل سے باہر آ چکا ہے اب اور بھی بے قابو ہو چکا ہے اور اپنی من مانی کر رہا ہے۔ دوکاندار اور ذخیرہ اندوزوں کی کمائی کا سنہرا زمانہ یہی تو ہے۔ کیا یہی تقویٰ ہے؟

دوسروں کی بھوک پیاس کا ہمیں احساس نہیں، ڈسپلن نام کی کوئی چیز ہم میں نہیں۔ متقی ہم بن نہ سکے۔ پھر آخر روزے کا مقصد ہے کیا؟ مولوی صاحبان کہتے نہیں تھکتے کہ پورے رمضان میں شیطان کو زنجیروں سے باندھ دیا جاتا ہے۔ ہمیں تو یہ ہر جگہ دندناتا پھرتا دکھائی دے رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •