شراب بمقابلہ مسجد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن قبل سوشل میڈیا پر اک مشورہ گردش کرتے ہوئے نظر آیا جس میں کہا گیا تھا کہ۔ ”جو لوگ شراب پیتے ہیں اگر اسی شراب کے پیسے کسی غریب کے گھر میں راشن یا آٹے کی بوری دینے پر خرچ کریں تو معاشرے میں غربت مٹ سکتی ہے“۔

مثبت بات جہاں سے بھی ملے اس کی تعریف کرنی چاہیے، بلا شبہ شراب کا استعمال صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور شراب مذہبی اور سماجی لحاظ سے بری بھی سمجھی جاتی ہے لیکن ہم نے اس مشورے کے ساتھ مزید ایڈ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ صرف شراب نہ پینے کی مد میں اکٹھی کی گئی رقم ہی کیوں غربا میں بانٹی جائے؟ اور بھی بہت سے معاملات اور تصرفات ہیں جن پر ہم ضرورت نہ ہونے پر یا بہت کم ضرورت ہونے پر بھی حد سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ سگریٹ، پان، چھالیہ، کولڈ ڈرنکس، گٹکا، ماوا وغیرہ پر نہ خرچ کر کے بہت سے پیسے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں، چرچ، مندر، مسجد، گردوار اور دیگر کئی ایسی عبادت گاہیں ہیں جن کو صرف ضرورت یا آبادی کے حساب کے تحت تعمیر کیا جائے کئی کھربوں روپے سالانہ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔

شدید اعتراض آیا کہ آپ کو مسجد سے دشمنی ہے، ہم مسجد پر کیوں خرچ نہ کریں؟ مسجد پر مسلمان اپنی جیب سے خرچ کرتے ہیں نہ کہ آپ کی جیب سے، آپ نے کتنی بار کسی مسجد و مدرسے پر رقم خرچ کی ہے جو یہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں کہ مسجد پر پیسے خرچ کرنے کے بجائے کسی بھوکے کو کھانا کھلایا جائے؟ آپ اپنی شراب بند کر کے گلی محلے کے بھوکوں کو کھانا کیوں نہیں کھلاتے؟

ہم بطور مجموعی صرف وہی لکھنا، پڑھنا، دیکھنا اور کہنا چاہتے ہیں جو ہم درست سمجھتے ہیں۔ جو ہماری فکر ہے وہی سب کی ہونی چاہیے ہم یہ ضد لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ میں نے کم سے کم 10 ایسی اشیاء یا تعمیرات کی بات جس پر ہم بے جا خرچ بند یا کم کر کے خلق خدا کی خدمت کر سکتے ہیں مگر بطور مجموعی معاشرے نے اسے شراب بمقابلہ مسجد مراد لیا۔

عجیب ابلیسانہ سا سوال دل میں آتے آتے رہ گیا کہ کیا اک شرابی، شراب آپ کے پیسوں سے پیتا ہے؟ کیا شرابی شراب ثواب کی نیت سے پیتا ہے؟ کیا شرابی شراب بخشے جانے کے لالچ میں پیتا ہے؟ نہیں صاحب وہ بے چارہ بھی اپنے ہی پیسوں سے پیتا ہے لیکن بات یہاں کسی کی جیب سے اس کی مرضی کے مطابق شراب پینے یا ثواب کمانے کی نہیں ہو رہی۔ بات ہو رہی ہے بے جا اسراف سے بچتے ہوئے غرباء کی بھوک مٹانے کی، کسی کی سکول کی فیس بھرنے کی، کسی کے لئے علاج کا سبب بننے کی، کسی پھٹی ردا کے لئے آنچل ہونے کی، کسی فٹ پاتھ پر سونے والے کے لئے چھت فراہم کرنے کی۔

فرض کریں کہ ایک محلے میں پانچ ہزار نفوس آباد ہیں تو اس میں سے کتنے افراد روزانہ کی بنیاد پر شراب پیتے ہوں گے؟ میرے خیال میں زیادہ سے زیادہ دس افراد۔ اب ہر فرد اگر مہنگی سے مہنگی شراب بھی پیے تو پاکستان میں وہ 2200 روپے کی بوتل ملتی ہے، سستی شراب 100 روپے کا شاپر اور کچھ بہتر شراب 600 روپے سے 1000 روپے کے درمیان میں آتی ہے۔ مجموعی طور پرشراب ہفتے میں اک بار ویک اینڈ پر پی جاتی ہے۔ اک بوتل سے انسان چار بار شراب پیے تو بھرپور نشے کا حامل ہوتا ہے۔ یعنی ایک بوتل پورا مہینہ چلے گی۔ چلیں ہم ہر تیسرے دن بھی کریں تو دو بوتلیں ہوجائیں گی۔ اس کے حساب سے اچھی شراب اک ماہ میں 5 ہزارکی پڑی، دس افراد کی شراب 50 ہزار کی ہوئی اور یہ پانچ ہزار نفوس کی بات ہورہی ہے۔

ان 5 ہزار میں سے سگریٹ کتنے لوگ پیتے ہوں گے ؟ میرے خیال سے 3 ہزار افراد کم سے کم سگریٹ پیتے ہیں۔ سستی ترین سگریٹ 80 روپے کی اور گولڈ لیف 150 روپے کی ڈبی ہے۔ تقریبا ہر سموکر کم سے کم ایک ڈبی روزانہ کی بنیاد پر سگریٹ پیتا ہے۔ ماہوار 45 سو روپے بنے اب اس رقم کو 3 ہزار پر ضرب دی جائے تو 1 کروڑ 35 لاکھ روپے کی رقم سامنے آتی ہے۔ تقریبا 270 گنا زیادہ۔ اس کا مطلب جانتے ہیں آپ؟ یہ آپ ایک محلے کی بات کر رہے ہیں اور صرف ایک پراڈکٹ کے اعداد و شمار ہیں۔ پان، چھالیہ، گٹکا، ماوا، کولڈ ڈرنکس، اور دیگر بہت سی ایسی چیزیں گنوائی جا سکتی ہیں جو گنی جائیں تو کسی بھی انسان کے ہوش اڑا دینے کے لئے کافی ہیں۔

اب آتے ہیں مسجد والی دلیل کی طرف۔ جہاں تک خدا کو میں جانتا ہوں اسے عبادت سے کوئی سروکار نہیں ہے، اس کے لئے پوری دنیا مسجد ہے، خود نبی کریم (ص) کے دور میں کھجور کے تنوں اور پتوں کی چھت سے بنی مساجد ہوا کرتی تھیں۔ ایمانداری سے بتائیں کہ کتنی مساجد میں فجر کے وقت تعداد 100 نمازی کی ہوتی ہے؟ شاید پوری پانچ نمازوں میں مجموعی طور پر محلے کی 5 مسجدوں میں 500 نمازی بھی نہیں ہوتا ہو گا۔ ہمارے ہاں مسجد ہو، مندر ہو، گردوارہ ہو یا چرچ ہو کم سے کم ایک عمارت کروڑوں روپے خرچ ہونے پر معرض وجود میں آتی ہے۔

گاؤں، گلی، محلے میں پہلے سے موجود ایک سے زیادہ مساجد کے باوجود مزید مساجد تعمیر کر کے ہم ثواب حاصل کرتے ہیں؟ یا اسراف کر کے خلق خدا کا حق مارتے ہوئے خدا کی ناراضی کا موجب ہوتے ہیں؟ خدا اپنا حق معاف کر سکتا ہے، وہ قدرت رکھتا ہے کہ اپنا ہر حق اور فرض معاف کر دے لیکن اپنے بندے کا حق خدا ہوکر بھی وہ کبھی کسی بھی صورت معاف نہیں کرے گا، یہی اس نے قانون بنایا ہے اور یہ واحد قانون ہے جس سے خدا خود کو بھی مستثنی نہیں رکھتا۔

خدا کے گھر کے لئے، خدا کی خوشنودی کے لئے حج کے لئے، خدا کی قربت کے لئے اسراف کے بجائے اگر وہی تمام دولت جائز طریقے سے خلق خدا کے اوپر خرچ کی جائے تو میرے خیال میں خدا زیادہ خوش ہوگا۔ کیونکہ قبر میں خدا ہرگز یہ نہیں پوچھے گا کہ کتنی مساجد بنوائیں، کتنے حج کیے، کتنے عمرے کیے، کتنے مندر بنوائے، کتنے چرچ بنوائے بلکہ وہ یہ پوچھے گا کہ تم نے مستحق بندوں کا حق تو نہیں مارا؟

عمرہ کرنا ثواب ہے اور صاحب حیثیت شخص پر عمرے کے بعد حج کرنا فرض ہوجاتا ہے لیکن یہاں اکثریت نے درجنوں عمرے اور حج کیے ہوتے ہیں اور مزید کے لئے کوشش جاری ہے۔ اک عمرہ لاکھ روپے سے زیادہ میں ہوتا ہے اور حج 5 لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ میرے حساب سے فرض کو پورا کرنا بہت احسن ترین بات ہے لیکن ایک بار فرض عبادت کے لئے اپنے گھر، رشتہ داروں اور اردگرد موجود مستحق افراد کو نظر انداز کرنا بھی کیا خدا کی خوشنودی کا باعث ہو گا؟

مہنگے ترین فرنیچر، گھر، موبائل فون، باتھ روم میں لاکھوں کی ٹائلز، کچن میں اٹالین ماربل، مہنگے ترین کارپٹ کی جگہ اس سے تھوڑے کم پیسوں والی اشیاء تصرف میں لائی جائیں تو میرے خیال میں محلے کے دس گھر مل کر 100 غریب گھروں کے چولھے مستقبل بنیاد پر جلا سکتے ہیں۔ چلیں خدا نے آپ کو صاحب حیثیت بنایا ہے آپ اپنی آرام کی چیزوں پر کمپرومائز بھی مت کریں لیکن ہر چیز کا دس فیصد یہ سمجھ کر الگ کر لیں کہ یہ خدا کی طرف سے نافذ کیا گیا ٹیکس یا غریبوں کے لئے ہماری ڈیوٹی ہے، اس سے بھی آپ کے محلے کا کوئی فرد بھوکا نہیں سو پائے گا، کسی کے سکول کی فیس نہ ہونے کی وجہ سے اسے سکول بدر نہیں کیا جائے گا، کسی غریب کی بچی کی شادی نہیں رکے گی، کسی لاوارث لاش کے لئے کفن دفن کا سامان نایاب نہیں رہے گا اور کسی بیوہ یا اس کی بیٹیوں کا تن کبھی چیتھڑے پہننے کی وجہ سے عریاں نہیں ہو پائے گا۔

چلیں ہم دو سال کے لئئے اک گیم کھیلتے ہیں۔ خدا کو راضی کرنے کی گیم۔ میں شرابیوں کا نمایندہ بن جاتا ہوں اور آپ تمام مسلمانوں کے (کیونکہ شرابی تو مسلمان ہوتے نہیں) آپ کروڑوں مسلمانوں سے عہد لیں میں مٹھی بھر شرابیوں سے لیتا ہوں کہ دونوں فریقین میں سے شرابی شراب کی مد میں خرچ کی گئی رقم اک بہت بڑے کمرے میں ڈالیں گے اور ثواب کی نیت سے خرچ کیے گئے پیسے، ثواب کی نیت سے تعمیرات اور سفر کی مد میں تمام رقوم دوسرے کمرے میں رکھی جائیں۔

دو سال میں شرابیوں والا کمرا نہیں بھر پائے گا جبکہ دوسری پارٹی کے لئے شاید درجنوں کمرے نئے بنوانے پڑ جائیں گے۔ صرف دو سال صاحبان قدردان، آپ کا خدا بھی راضی، شرابیوں کا جگر بھی کٹنے سے رک جائے گا اور خلق خدا کی خدمت بھی ہو جائے گی۔ کیا خیال ہے؟ کریں؟ میں نے اوپر بیسیوں اشیاء اور کئی مذاہب کی عبادت گاہیں گنوائی ہیں لیکن اگر آپ کو بھی صرف اور صرف شراب بمقابلہ مسجد لگے تو آپ بھی میری طرح لا علاج ہیں۔ جئے ماتا دی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>