تحریک انصاف سے سوال تو بنتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں معیشت اور ڈالر کے اتار چڑھاؤ پر جو لوگ سائنسدان بن کر تبصرے کرتے ہیں، انہیں معیشت کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ معیشت کو اس حال تک پہنچانے کے ذمہ دار کون ہیں؟ ستر سال کی خرابی کا حساب آٹھ ماہ کی حکومت سے نہیں لیا جا سکتا۔ درویش کو معیشت بارے کم از کم اپنی کم علمی کا ضرور اعتراف ہے۔ یہ بھی عرض کرتا چلوں معاشی امور یا حساب کتاب کا گورکھ دھندہ کبھی میری دلچسپی کا موضوع نہیں رہا۔

مسئلہ مگر یہ ہے مجھ ایسے بہت سے لوگ جو نہایت چھوٹے پیمانے کے کاروبار سے گزر بسر کر رہے تھے ان کی زندگیاں حالیہ معاشی بحران سے روز بروز مشکل تر ہوتی جا رہی ہیں۔ ملک عزیز میں اکثر اشیاء باہر سے درآمد ہوتی ہیں۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھنے سے درآمد شدہ اشیاء کی قیمت میں راتوں رات اضافہ ہو جاتا ہے۔ بعدازاں گاہکوں سے چخ پخ، توتکار اور کاروبار میں مندی بڑھ جاتی ہے۔ غم روزگار سے پریشان ہو کر اقتصادی امور پر لکھنے والے چند مہربان دوستوں سے ملکی معیشت پر اچانک ٹوٹنے والی اس افتاد کا سبب اور نتائج جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔

باقی جہاں تک مشیر اطلاعات صاحبہ کا اعتراض ہے کہ ستر سالوں کی خرابی کا ذمہ دار آٹھ ماہ والوں کو قرار دینا انصاف کے کس پیمانے پر اترتا ہے؟ عرض ہے، حکومت ستر سالوں کا حساب ہرگز نہ دے لیکن اپنے دو سو ستر دنوں کا جواب تو فراہم کرے۔ کنٹینر پر چڑھ کر عمران خان کہا کرتے تھے ملک میں روزانہ 12 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ اس وقت ملک میں چونکہ ”چوروں اور لٹیروں“ کی حکومت تھی لہذا یہ اندھیر نگری کوئی انہونی بات نہیں۔

اب مگر ”صاف شفاف قیادت“ اور ”ایماندار حکومت“ برسر اقتدار ہے، اب تو یہ کرپشن رک گئی ہو گی۔ پوچھنے کا حق تو بنتا ہے کہ دو سو ستر دنوں میں 12 ارب کے حساب سے 3240 ارب روپے کی رقم بچائی جانی تھی وہ آخر کہاں گئی۔ اسی طرح عمران خان صاحب کے الفاظ تھے ملک سے سالانہ دس ارب ڈالرز کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے اور ان کا دعوی تھا تحریک انصاف انصاف اقتدار میں آکر اسے روکے گی۔ گمان رکھتے ہیں کہ انقلابی حکومت کی طرف سے اندھا دھند احتساب کا ڈنڈا گھمائے جانے کے بعد منی لانڈرنگ ضرور ختم ہو چکی ہو گی۔ لہذا سوال کی اجازت بھی ہونی چاہیے کہ گزشتہ آٹھ نو ماہ میں اس مد میں جو ساڑھے سات ارب ڈالرز کی بچت ہوئی وہ کہاں ہیں اور ان کی موجودگی میں محظ چھ ارب ڈالرز کے لیے آئی ایم ایف کے آگے ملکی خود مختاری گروی رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟

عمران خان صاحب مزاجا بادشاہ آدمی ہیں۔ بلکہ مزاج ہی نہیں ان کے افکار و خیالات بھی شاہانہ ہیں۔ کبھی کہا کرتے تھے آج تک پاکستانی قوم اس لیے ٹیکس نہیں دیتی رہی کیوں کہ انہیں خبر ہے ان کے خون پسینے کی کمائی چند بڑے خاندان ڈکار جائیں گے۔ وہ خود بھی عوام کو حوالہ ہنڈی سے پیسے بھیجنے اور سول نا فرمانی پر اکسایا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا جس دن ملک کی باگ ڈور کسی ایماندار شخص کے ہاتھ آئی اتنا پیسہ اکٹھا ہو گا ملک کے لیے کشکول اٹھانے کی حاجت نہیں رہے گی۔

کس رقت آمیز لہجے میں فرماتے تھے حکمرانوں کے اللوں تللوں اور عیاشیوں کے واسطے کون اپنی حلال کمائی دینے کو تیار ہو گا۔ حکومت ملنے کے بعد وہ آٹھ ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کر کے دکھائیں گے۔ دو سو ارب ڈالرز کی جائیدادیں کرپشن کے ذریعے ملک سے باہر گذشتہ حکمران اور ان کے کاسہ لیس خرید چکے۔ وہ دنوں میں واگزار ہوں گی اور پیسہ قومی خزانے میں جمع ہو گا۔ سالانہ دس ارب ڈالرز کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے اس پر تو پہلے مہینے میں قابو پا لیا جائے گا، ہمارا آدھا بجٹ خسارہ اسی سے پورا ہو سکتا ہے۔ آٹھ نو ماہ ہو چکے۔ آخری بات جو کہی، یہی اگر پوری کر دکھاتے اتنی رقم تو روک سکتے تھے جتنی آئی ایم ایف کے در پر ناک رگڑ کر اور ہزار ہا منت ترلوں کے بعد حاصل کی۔

اقتدار میں آنے سے قبل وہ بھاشن سنا کر کام چلاتے رہے اور اقتدار میں آنے کے بعد پچھلوں پر لعن طعن سے۔ حیرت ہے وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد بھی انہیں یہ سمجھنے میں اتنی دیر ہوئی کہ خیالی دنیا اور زمینی حقائق میں کیا فرق ہے۔ خوش گمانی میں ایک سے زاید مرتبہ انہوں عوام سے مالی تعاون کی اپیل بھی کی۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی ترغیب، تحریص، دھونس، دھمکی، لالچ غرضیکہ تمام حیلوں سے ان کا ساتھ دیا۔ ٹی وی چینلز اور میڈیا کو بھی کہا اشتہارات کے ذریعے ان کی اپیل عوام تک پہنچائیں۔

اتنی رقم بھی مگر جمع نہ ہوئی جتنے اشتہارات چلائے گئے۔ جو قلیل رقم جمع ہوئی اس میں بھی بڑا حصہ سرکاری ملازمین کی جبری تنخواہ کٹوتی اور کورٹ جرمانوں کا تھا۔ اب جا کر کہیں عمران خان کو سمجھ آنا شروع ہوئی ہے کہ FBR کے نظام میں بہت سی خرابیاں ہیں اور اس کا ڈھانچہ درست کیے بغیر ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنا اور معیشت بہتر بنانا ممکن نہیں۔ اسی طرح پچھلی حکومت نے جب ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی تو عمران خان اور ان کے رفقاء کی طرف سے شور مچایا گیا، یہ اسکیم چوروں کو فائدہ دینے کے لیے متعارف کی گئی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت آئی تو اس میں پیسہ ظاہر کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ اسی باعث اس اسکیم کا خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا۔ اب مگر ٹیکس وصولی کے ہدف میں ناکامی کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے خود یہ اسکیم شروع کر دی ہے۔ ان اقدامات کی تجویز جو لوگ دے رہے تھے انہیں پہلے چوروں کا حمایتی کہا جاتا رہا اور اس کام میں تاخیر پر تنقید کرنے والوں پر اب سائنسدان کی پھبتیاں کسی جا رہی ہیں۔

عموما دیکھا یہ گیا ہے آئی ایم ایف سے رجوع اور ایمنسٹی جیسے اسٹیپس کے بعد سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ اور معاشی سرگرمیوں بہتری نظر آنے لگتی ہے۔ تشویشناک بات ہے کہ ان اقدامات کے باوجود معیشت پر چھائی بے یقینی کی کیفیت میں کمی نہیں آ رہی۔ ڈالر ڈیڑھ سو کا ہندسہ بھی کراس کر چکا۔ اسٹاک مارکیٹ مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ مارکیٹ سے سرمایہ ناپید ہو چکا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ حکومتی اہلیت پر سرمایہ داروں کے عدم اعتماد کا اظہار ہے۔

اس کیفیت سے نکلنے کے لیے کوئی سنجیدہ حکومتی اقدام یا پالیسی اب تک نظر نہیں آ رہی۔ تحریک انصاف کو اب یہ ادراک بھی ہو جانا چاہیے کہ حکومت بیشک آٹھ ماہ کی ہو یا پانچ سال کی۔ اپنے اقدامات کی ذمہ دار اور عوام کو جواب دہ ضرور ہوا کرتی ہے۔ حکومت کو چاہیے لوگوں کو سوال سے روکنے کے بجائے اپنی تمام توانائیاں معیشت کی بہتری پر صرف کرے۔ آنے والے بجٹ کے بعد مہنگائی عوام کی برداشت سے باہر ہونے والی ہے۔ ہو سکتا ہے، پھر عوام سڑکوں پر نکل آئیں۔ اپوزیشن جماعتیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت مخالف تحریک چلانے کا عندیہ دے چکی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •