دُنیا کے عجائبات اور اُن کے عجیب گھر


جدید میُوزیمس کے اس جال میں ”کیپیڻولائن میُوزیمس“ کے نام سے پُورے اٹلی میں کئی عجائب گھر بنے، جن میں 15 ویں صدی کے آرٹ کے نادر فنپارے عوام کے دیکھنے کے لئے رکھے گئے تھے۔ اسی دور میں ”ویڻیکن میُوزیمس“ کے نام سے ویڻیکن سٹی اور اس کے آسپاس، میُوزیمس کا ایک اور جال بچھایا گیا، جس میں ”پوپ جُولیَس دوم“ کے دور 1506 ء سے لے کر اُس کے بعد تک کے مُجسمّوں کو نمائش کے لئے رکھا گیا تھا۔ یہ یاد رہے کہ ”آرٹ گیلری“ اور ”عجائب گھر“ میں آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے، کیوں کہ قدیم پینڻنگس (فنپاروں ) کی اہمیت بھی نوادرات ہی کی ہوتی ہے، اس لئے ہر عجائب گھر ۾ ایک کارنر آرٹ گیلری کا بھی موجود ہونا فطری بھی ہے اور قدیم بھی۔

دنیا کی نابغہء روزگار ہستیوں کے گھر بھی، ان کی رحلتوں کے بعد، کم و بیش اُسی دور میں میُوزیمس کی حیثیت پانے لگے، جن میں اُن کی زندگیوں کے دوران اُن کے زیرِاستعمال رہنے والی چیزیں، ”نوادرات“ کی حیثیت حاصل کر گئِیں۔ ایسی چیزیں اُن ہستیوں کے ہاؤس میُوزیمس میں رکھنے کے علاوھ بھی، مختلف میُوزیمس میں بانٹی جاتی ہیں، جہاں اُن اہم شخصیات کے نام پر کارنرز بنا کر اُن کی استعمال شُدھ چیزوں کو نمائش کے لئے رکھا جاتا ہے۔

مثلاً پُورا دنیا میں ”ابراہام لنکن“ کے نام سے منسُوب کئی ایک عجائب گھر قائم ہیں۔ اسی طرح ”وِنسڻن چَرچل“ دنیا میں جہاں جہاں بھی گئے، وہاں وہاں اُن کے نام سے یادگاری میُوزیم بنا دیا گیا۔ امریکا کی ریاست ”مِزوری“ میں چَرچل، کولمبیا کے قریب صرف ایک بار گئے اور وہاں اپنی ایک یادگار تقریر کی۔ وہاں پر بھی ان کی یاد میں ایک یادگاری میُوزیم بنا دیا گیا ہے، جس میں چرچل کی شخصیت کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ مواد رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، جس کو لوگ دُور دُور سے دیکھنے آتے ہیں۔

گوکہ یہ ایک مشکل سوال ہے کہ اِس وقت دنیا میں کُل کتنے عجائب گھر ہیں، لیکن اس کے باوجود کچھ مصدقہ سرویز اور اسٹڈیز، بالخصُوص ”میُوزیمس آف دی ورلڈ 2017 بائے ڈی گریڻر ساؤر“ کے مطابق اس وقت دنیا کے 202 ممالک میں کم و بیش 55 ہزارمیُوزیمس موجُود ہیں، جن میں سے 33 ہزار ایک سو میُوزیمس تو صرف امریکا میں موجود ہیں، جبکہ ایک ہزار ایک سو 84 عجائب گھر پورے برِاعظم آسٹریلیا میں واقع ہیں۔ دنیا میں ویسے تو اِس وقت سینکڑوں قابلِ دید میُوزیمس ہیں، مگر اُن میں سے ہم اگر چند اہم عجائب گھر گِنیں تو اُن میں ”دی میڻروپولیڻن میُوزیم آف آرٹ، نیُویارک“، ”دی لوورے میُوزیم“ پیرس، دی برٹش میُوزیم لندن، ”موزیو نیشنل ڈیل پریڈو“ اسپین، ”اسٹیٹ ہیرمیٹیج میُوزیم“، سینٹ پیٹرس برگ، رُوس، ”دی ویٹیکن میُوزمس“، ویٹیکن سٹی، ”مسی ڈی اورسے، پیرس“، دی نیشنل گیلری لندن، ”افیزی گیلری فلورینس“ اٹلی، ”رجکس میُوزیم“ ایمسٹرڈم، نیدرلینڈس، ”ایکروپولس میُوزیم“ ایتھنز، یُونان، نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میُوزیم، واشنگڻن ڈی سی امریکا وغیرہ شامل ہیں۔

ذکر نکلا امریکا کے دارالحکُومت واشنگڻن ڈی سی کا، تو وہاں پر تو ”پینسلوینیا ایوینیُو“ نامی سڑک ہی پُوری میُوزمس سے بھری ہوئی ہے، جہاں ایئر اینڈ اسپیس میُوزیم سے لے کر ”نیشنل میوزیم آف امریکن ہسٹری اینڈ کلچر“ تک، ”ہولوکاسٹ میُوزیم“ سے لے کر ”فنکار خواتین کے قومی عجائب گھر“ تک اتنے سارے میُوزیمس ہیں، کہ واشنگڻن ڈی سی ”عجائب گھروں کا شہر“ لگتا ہے، مگر یہاں پر واشنگڻن ڈی سی کے جس میُوزیم کا میں بالخصُوص ذکر کرنا چاہوں گا، وہ ہے یہاں کا صحافتی عجائب گھر ”نیُوزیم“، جس کا نام ہی اس قدر تخلیقی ہے، جو 2 الفاظ ”نیُوز“ اور ”میُوزیم“ کا حسین مجمُوعہ ہے، جو مل کر ”نیُوزیم“ بناتے ہیں۔

اپنے پیشے (صحافت) سے وابستہ میں نے اس سے بہتر میُوزیم پوری دنیا میں نہیں دیکھا، جس کو اچھی طرح سے گُھومنے اور دیکھنے کے لئے ایک عام آدمی کو بھی کم از کم بلا مُبالغہ ایک پُورا دن، صبح تا شام درکار ہے، اور اگر آپ صحافت سے وابستہ ہیں، تو آپ کو اسے دیکھنے کے لئے کی دن بھی کم ہیں۔ یہاں بالخصُوص امریکا اور بالعُمُوم پوری دنیا کی چشم کُشاء صحافتی تاریخ بہت ہی ترتیب اور سلیقے سے نہ صرف محفُُظ ہے، بلکہ دیکھنے اور استفادے کے لئے بھی موجُود ہے۔

صحافت کی دنیا میں جان دینے والے صحافیوں کے حوالے سے خصوصی گیلیریز، نائین الیون کَوَر کرتے ہوئے اپنی جان گنوانے والے صحافیوں کے خصوصی کارنرز، دنیا بھر میں تہلکہ مچا دینے والی نیُوز اسڻوریز کی اسکریننگ، دنیا کی پہلی ڈی ایس این جی، دنیا کے عظیم سانحوں کی کوریج کی نشانیوں کے ساتھ ساتھ کی لائیو ٹی وی اور ریڈیو اسٹوڈیوز، جن میں مہمان سیّاح بھی چند لمحوں کے لئے شامل ہوسکتے ہیں، جیسی نہ جانے کتنی دلچسپیاں شامل ہیں، جو آپ کو یہاں آنے کے بعد یہاں سے ہِلنے نہیں دیتیں، اور دیکھنے والوں کو صحافت کی تاریخ سے مکمّل باریک بینی کے ساتھ آگاہ کرتی ہیں۔

جب مشترکہ ہندوستان تقسیم ہوا، تو دونوں ممالک کے مابین، باقی اثاثوں کے ساتھ ساتھ نوادرات کا بَٹوارہ بھی ہُوا، جس کے نتیجے میں کئی ایسے آثارِقدیمہ کے نوادرات کا آدھا حصّہ پاکستان کے حصّے میں بھی آیا، جن کی جائے وقوع جُغرافیائی طور پر اِس وقت انڈیا کی حدُود میں ہیں، جبکہ کئی ایک ہماری جغرافیائی حدُود میں واقع آثارِ قدیمہ کے نوادرات کا کچھ حصّہ اُسی اصُول کے تحت بھارت کو ملا۔ مثال کے طور پر ”موئن جو دڑو“ سے ملنے والے بادشاہ ( ”کنگ پرِیسٹ“ ) کا مجسمہ ہمارے حصّے میں آیا، جبکہ ”سمبارا“ (رقاصہ) کے مجسّمے کو بھارت کے حصّے میں دے دیا گیا۔

اِس وقت پاکستان کے اہم میُوزیمس میں (جن میں آثارِقدیمہ کے عجائب گھر بھی ہیں، تو مُختلف شعبوں اور اداروں کی تاریخ بیان کرنے والے پیشہ ورانہ میُوزیمس بھی) موئن جو دڑو میُوزیم (جو موئن جو دڑو کی سائٹ پر ہی موجود ہے ) ، ٹیکسلا میُوزیم، قائدِ اعظم کی ”مُبیّنہ“ جائے پیدائش (واقع: وزیر منشن، کراچی) میں قائم میُوزیم، قائدِاعظم ہاؤس میُوزیم (جو محترمہ فاطمہ جناح کی رہائشگاہ ”فلیگ اسٹاف ہاؤس“ میں قائم ہے ) ، ”موہٹا پیلیس میُوزیم“ (جو کلفٹن کراچی میں واقع، محترمہ فاطمہ جناح کی ایک اور رہائشگاہ میں قائم ہے ) ، نیشنل میُوزیم آف پاکستان کراچی، قومی عجائب گھر لاہور، فقیرخانہ میُوزیم لاہور، گندھارا میُوزیم پشاور، سیٹھی ہاؤس میُوزیم پشاور، کے ٹُو میُوزیم اسکردُو، سوات میُوزیم، ہڑّپا میُوزیم ساہیوال، پاکستان مونیُومنٹ میُوزیم اسلام آباد، پاکستان میُوزیم آف نیچرل ہسٹری اسلام آباد، پاکستان آرمی میُوزیم راولپنڈی، پاکستان ایئرفورس میُوزیم کراچی، پاکستان میریٹائم (نیول) میُوزیم کراچی، اسٹیٹ بنک آف پاکستان میُوزیم کراچی، پاکستان ریلوے ہیریٹیج میُوزیم اسلام آباد، لوک ورثہ میُوزیم اسلام آباد، سندھ میُوزیم حیدرآباد، انسٹیٹیوٹ آف سندھ الاجی میُوزیم جامشورو، مُکھی ہاؤس میُوزیم حیدرآباد (حال ہی میں تعمیر شُدھ) ، لائڈ (سکھر) بیراج ہسٹری میُوزیم سکھر وغیرہ شامل ہیں۔

تاریخ کو مزید دلچسپ اور عام لوگوں کے لئے تعلیم و معلُومات کا باعث بنانے کی ایک اہم کوشش کے طور پر ہر ملک کو اپنے اپنے خطّوں (حُدُود) میں موجُود تاریخی میدانِ ہائے جنگ کی نشاندہی کر کے، اُن مقامات پر موجود تنصیبات ہٹا کر، وہاں پر میُوزیمس بنوانے چاہییں، جس میں اُن اُن جنگوں کے حوالے سے آرٹیفیکٹس (نوادرات) ، آڈیووژوئل مواد اور ”ڈایوراماز“ کی مُستقل نمائش ہو، تاکہ لوگوں میں تاریخ کے اُس ایک واقعے کے حوالے سے بھرپور دلچسپی پیدا ہو، وھ اس کے بارے میں جانیں، اور اُس مقام کو دیکھ کر یہ فطری تجسُس بھی پائیں کہ اس جگہ فلاں جنگ لڑی گئی تھی، جسی میں فَلاں فَلاں جنگجُو شریک ہوئے تھے۔

اس ضمن میں جہاں ماضیء قریب کی (قیامِ پاکستان کے بعد کی جنگوں ) سے منسوب سندھ میں ”رَن آف کچھ“ سے مُلحقہ جنُوبی تھر، کھوکھروپار، موناباؤ سیکڻر، پنجاب میں برکی اور واہگہ سیکٹر پر میُوزیمس بنائے جا سکتے ہیں تو کچھ سو برس قبل کے میدانِ ہائے جنگ میں، حیدرآباد بائی پاس سے مُلحقہ ”میانی کے میدانِ جنگ“ (جس پر انگریزوں نے تالپوروں سے جنگ جیت کر سندھہ پر قبضہ کیا) ، میرپورخاص۔ حیدرآباد روڈ پر ”دُبو کے میدانِ جنگ“ ( ”جنگِ میانی“ کے تسلسُل) ، نوشہرو فیروز ضلع میں ”ہالانی“ اور ”بَہلانی“ نامی دو قصبوں کے درمیان، کلہوڑوں اور تالپوروں کے مابین لگنے والی ”ہالانی۔

بہلانی کے ”میدانِ جنگ“، سکھر میں ”کَھرڑی کے میدانِ جنگ“، کراچی اور ٹھٹہ کے درمیان واقع ”دیبل“ کے میدانِ جنگ کے مقام سمیت مختلف مقامات پر اس نوعیت کے میُوزیمس بنائے جا سکتے ہیں۔ علاوھ ازیں ہمارے سمندر کے ساحل سے لے کر اُوپر اٹک تک، جرنیلی سڑک کے ساتھ، کئی ایک ایسے مقامات کی نشاندہی ہُوئی ہُوئی ہے، جہاں پر سکندر یُونانی نی پڑاؤ ڈالا اور اہم کام انجام دیے، ایسے مقامات پر بھی میُوزیم بنائے جا سکتے ہیں۔

پاکستان میں مختلف بڑے محکموں کو اپنی تاریخ کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لئے میُوزیمس بنانے چاہییں، جن میں سے اور کئی اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن، سُوئی سدرن گیس کمپنی، واپڈا، نیشنل بنک آف پاکستان، پاکستان کرکٹ بورڈ، تمام فورسز بشمُول چاروں صوبوں کی پولیس، پاکستان رینجرس، کوسٹ گارڈ وغیرہ، محکمہء انکم ٹیکس، قومی اسمبلی، چاروں صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں، ملک کے اہم شہروں کی پریس کلبز، پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کو اپنے اپنے محکموں کے میُوزیمس بنانے کے حوالے سے سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے، تاکہ نہ صرف ہم وطن ان محکموں کی تاریخی تفصیلات کے حوالے سے جان سکیں، بلکہ دیگر مُمالک سے آنے والے سیّاح بھی ان محکموں کی تاریخ کے حوالے سے علم حاصل کی سَکیں۔

ریڈیو پاکستان کے مُمکنہ میُوزیم کے لئے کراچی کے ایم اے جناح روڈ (سابقہ بندر روڈ) پر واقع اسی کی پُرانی نشرگاھ (جس کی صدر عمارت وہاں چند برس قبل ہونے والی آتشزدگی کے بعد اب بے مَصرف پڑی ہے ) سے زیادہ موزوں ترین جگہ اور بھلا کیا ہوگی، جو کلاسیکل عمارت بذاتِ خُود ایک تاریخ ہے اور ریڈیو پاکستان کے درخشاں ماضی اور تاریک حال کی گواہ ہے، جس حوالے سے راقم نے کئی صاحبانِ اقتدار اور صاحبانِ اختیار کو لکھا ہے، مگر اس مُثبت کام پر توجّہ، اور خط و کتابت کا کوئی بھی جواب ندارُد!

کیوں کہ ہمارے محکموں میں سے اکثر بذاتِ خود جیتے جاگتے عجائب گھر اور ”حال کے مزار“ بن گئے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2