احتجاجی تحریک: ٹھیک ہے مگر حاصل کیا کرنا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احتجاجی تحریک کی بنیاد یہ سیاسی اصول ضرور ہو سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کی سب سے بڑی وجہ اسے عسکری اداروں کا درپردہ حاصل ہونے والا تعاون تھا۔ جمہوریت کے بنیادی اصول کے پیش نظر ایک جمہوری انتظام میں اس قسم کےساز باز اور ملی بھگت کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اس بنیاد پر کوئی تحریک چلانے سے پہلے اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں کو ماضی میں اپنے کردار کے حوالے سے سوالوں کے جواب دینا ہوں گے۔ اور یہ واضح کرنا ہوگا کہ جمہوری نظام کو مستحکم کرنے کے لئے ان کی تحریک کا مقصد واقعی ووٹر کی بالادستی ہے اور اس قسم کا احتجاج محض اقتدار حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا جائے گا۔

 اس اصول کو بنیاد بناتے ہوئے اپوزیشن کی اہم قیادت کو یہ وعدہ بھی کرنا پڑے گا کہ مستقبل میں وہ خود اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کسی سازش کا حصہ بن کر جمہوریت کا راستہ کھوٹا کرنے کا سبب نہیں بنے گی۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے  90 کی دہائی کے برے تجربات کے بعد میثاق جمہوریت کے نام سے ایک اہم دستاویز پر دستخط کئے تھے لیکن ان دونوں پارٹیوں نے باری باری اقتدار میں آنے کے باوجود اس معاہدے کے اصولوں پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ اس لئے عوام کو جمہوری اقدار کے لئے گھروں سے نکلنے کی اپیل کرنے سے پہلے سیاسی لیڈروں کو خود یہ وعدہ کرنا ہو گا کہ وہ بھی اپنے عزم کو ترک نہیں کریں گے۔ اور یہ ساری جدوجہد محض حکومت گرانے تک محدود ہو کر نہیں رہ جائے گی۔

ایک کمزور سیاسی حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کی سیاسی کامیابی کا امکان ضرور موجود ہے لیکن تحریک چلانے والے لیڈروں کو اس حوالے سے اپنی حکمت عملی بھی واضح کرنا ہوگی تاکہ اس کے نتیجے میں پھر سے ملک میں آمریت کا طویل دور نافذ نہ کردیاجائے۔ اس کا سب سے بہتر طریقہ اس اصول سے دوٹوک وابستگی ہے کہ فوج کو سیاسی معاملات میں ملوث کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی اور اقتدار ملنے کے بعد بھی تمام اہم فیصلے منتخب پارلیمنٹ میں کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔ اسی حوالے سے میڈیا کی آزادی کو مستحکم کرنے اور سیاسی بنیادوں پر انتقام کا طرز عمل ترک کرنے کے لئے قبل از وقت لائحہ عمل سامنے لانا مناسب ہوگا۔ نیب کے جس قانون کو اس وقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کالا قانون قرار دے رہی ہیں، دونوں جماعتیں اپنے ادوار میں اسے تبدیل کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔

موجودہ حالات میں کوئی بھی عوامی تحریک اس وقت تک بامقصد نہیں ہوسکتی جب تک اس کی قیادت ملک کی دہائیوں پرانی سیکورٹی اسٹیٹ کی حکمت عملی کو تبدیل کرنے کے لئے کام کرنے کا وعدہ نہیں کرتی۔ اس کے لئے نہ صرف فوج کے دائرہ کار کو محدود کرنا ہوگا، اس کی تعداد اور اخراجات میں کمی کرنا ہوگی بلکہ انتظام و انصرام کے لئے سول اداروں کو مضبوط و مستحکم کرنا پڑے گا تاکہ فوج دل جمعی سے صرف سرحدوں کی حفاظت کا فرض پورا کرے۔ اور سول ادارے معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کے ذمہ دار ہوں۔

اس حوالے سے ایٹمی ہتھیاروں کو فوجی کنٹرول سے سول اختیار میں لانا اہم ترین اقدام ہوگا۔ اس فیصلہ سے دنیا بھر میں پاکستان کے سفارتی عزت و وقار میں اضافہ ہوگا اور ہمسایہ ملکوں کے علاوہ امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر معاملات طے کرنے کا موقع بھی مل سکے گا۔ پاکستان اس قسم کے اقدام کے ذریعے پارلیمنٹ اور اس میں منتخب ہونے والے قائد ایوان کو طاقت عطا کرسکتا ہے۔ یہ فیصلہ پورے خطے میں تصادم کی فضا ختم کرکے دوستی اور امن کا ماحول پیدا کرنے میں معاون ہو گا۔

عوام کی شکایات دور کرنے کے لئے تحریک ضرور چلائی جائے لیکن احتجاج کی اپیل کرنے سے پہلے اس کے تمام مضمرات کا جائزہ لے لیا جائے اور عوام پر واضح کیا جائے کہ اس احتجاج کے نتیجے میں ان کی زندگیوں میں کیا تبدیلی واقع ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1546 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali