چھوٹے بچوں والی مائیں اور دفتر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم لوگ بھی عجیب ہیں بیٹیوں کو پڑھاتے ہیں، ان کو تعلیم دلوانے کی پرزور حمایت کرتے ہیں اور ان کے کیریئر بلڈنگ پر زور دیتے ہیں تاکہ کہ وہ باشعور، خود مختار اور پر اعتماد ہوں۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی شادی ہوگی، بچے ہوں گے تب ایک ماں ہونے کے ناطے ان کے لیے سب سے اہم ان کے بچے ہی ہوں گے۔ تو کام پر جاتے وقت وہ بچوں کو کس کے سپرد کریں گی؟ نینی پر نہ تو مکمل بھروسا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہر کوئی انہیں افورڈ کر سکتا ہے۔

دفتروں میں ڈے کئیر موجود نہیں اور بچے کو ساتھ لانے کی باوجود اس کے کہ ساتھ نینی ہو اجازت نہیں۔ بالکل ایسا ہی مہ جبیں شیران کے ساتھ ہوا، وہ بچے کو ساتھ لے تو آئیں مگر انھیں اجلاس چھوڑنا پڑا۔ سینکڑوں لڑکیاں بچوں کی نگہداشت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اپنا کیریئر نہیں بنا پاتیں۔ شادی شدہ بالخصوص ماں بن جانے والی لڑکیوں کے لئے ہمارے ہاں تصور ہی نہیں کہ وہ اپنی کیریئر پلاننگ کریں، انہیں صرف ہانڈی چولہے تک ہی محدود کر دیا جاتا ہے چاہے وہ بیرون ملک سے ڈاکٹری کی ڈگری ہی کیوں نہ لائی ہوں، سالوں کی محنت اور قابلیت چولہے میں جھونک دی جاتی ہے۔

اور اگر کوئی لڑکی گھریلو ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کیرئیر پر توجہ دینا چاہے تو نہیں دے سکتی کیوں کہ بچوں کی دیکھ بھال کے لئے کوئی مناسب انتظامات نہیں۔ نہ ہی flexible timing کا تصور ہے جس سے وہ اپنے کام کے اوقات منتخب کر سکے۔ نوشین نے ایم فل کیا ہے اور ہاؤس وائف ہے کیونکہ اس کا شوہر نہیں چاہتا کہ وہ کام کرے۔ سارہ گائناکالوجسٹ بننا چاہتی ہے مگر چونکہ یہ فیلڈ وقت ڈیمانڈ کرتی ہے اور سارہ کی ڈیڑھ سالہ بیٹی کا خیال رکھنے والا کوئی بھی نہیں اس لیے اسپیشلائز کرنے کے بجائے سارہ نے لیکچر شپ کرنے کو ترجیح دی۔

عمارہ کا مونٹیسوری ٹیچنگ کا چھے سال کا تجربہ ہے۔ بچوں کا خیال رکھنے کے ساتھ وہ کام بھی جاری رکھے اس لئے وہ وزٹنگ کے طور پہ کام کرنے کی خواہاں ہے مگر اسکول کی ایسی کوئی پالیسی نہیں۔ عالیہ پرائیویٹ ادارے میں جاب کرتی ہے، دفتری اوقات میں عالیہ کا دو سالہ بیٹا کسی ڈے کئیر میں رہتا ہے۔ عالیہ کے مطابق اگر ادارے میں ڈے کئیر ہو تو وہ بچے کے پک اینڈ ڈراپ کی زحمت اور اضافی فیس سے بچ سکتی ہے۔ ان سب اور ان جیسی کئی اور لڑکیوں کو اسی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے سے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتیں۔

انہیں ایسے مواقع فراہم ہونے چاہیں جس سے وہ کام پر توجہ دے سکیں اور کام کے اوقات میں بچوں کی دیکھ بھال سے بھی مطمئن ہو ں۔ دفتروں کے اندر ڈے کیئر کا قیام، یا کم سے کم کوئی ایسا کمرہ مختص کیا جائے جس میں بچے نینی کے ساتھ رہ سکیں۔ پارٹ ٹائم جاب متعارف کرائی جائیں تاکہ فل ٹائم جاب نہ کر پانے والی خواتین اپنی سہولت کے مطابق کام کے اوقات کا انتخاب کر سکیں۔ ایسے اقدامات خوش آئند ثابت ہوں گے، ان سہولتوں کی فراہمی سے ملازمت پیشہ خواتین کو job satisfaction ملے گی، اور گھر اور بچوں کے خیال سے ملازمت چھوڑ دینے والی خواتین کیریئر بلڈنگ کر کے اپنی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کر پائیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •