سارا تیل بھی نواز شریف اور زرداری چرا کر لے گئے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافی سہیل اقبال بھٹی نے خبر دی کہ کیکڑے میں تیل اور گیس کچھ نہیں ملا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”سات بجے جونہی بریک کی تو دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے براہ راست خطاب کے دوران میری خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قوم نوافل ادا کرے، ایک ہفتے تک رپورٹ تیار ہو جائے گی، تیل وگیس کا اتنا بڑا ذخیرہ مل سکتا ہے جو 50 سالوں کے لئے کافی ہوگا۔ “ دو تین گھنٹے بعد ہی وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر نے خبر کی تصدیق کر دی۔

کیا واقعی پاکستان کی تاریخ کے باخبر ترین وزیراعظم اس بات سے بے خبر تھے جو ایک عام سے اخباری رپورٹر کے علم میں تھی؟ ایسا نہیں ہے۔ وزیراعظم کے پاس پکی خبر تھی کہ کیکڑا کی لوکیشن پر بے تحاشا تیل اور گیس موجود ہے اور یہ دنیا کی سب سے بڑی آئل فیلڈ ہے۔ پھر ہوا کیا؟ یہ تیل اور گیس کہاں گئے؟

اب ذرا اس گھپلے کا پس منظر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس ملک کا ترقیاتی بجٹ ہی کل 1067 ارب روپے یعنی آج کل کے ریٹ کے حساب سے 7 ارب ڈالر کے قریب ہو، ادھر سے دو کھرب ڈالر لوٹ کر کیسے باہر لے جائے جا سکتے ہیں؟ مگر یہ لے جائے گئے ہیں۔ مراد سعید نے خود قوم کو یہ بتایا ہے۔ انہیں اسحاق ڈار نے بتایا تھا۔

اگر آپ خبروں کو باقاعدگی سے فالو کرتے ہیں تو آپ کے علم میں ہو گا کہ سابقہ وزیراعظم نواز شریف کی بیرون ملک اتنی جائیداد ہے جس کی مالیت کا جے آئی ٹی بھی پتہ لگانے سے قاصر رہی ہے۔ اسی طرح سابق صدر آصف علی زرداری کے متعلق بھی آپ خبریں سن چکے ہوں گے کہ ان کی سونے سے بھری ہوئی لانچیں دبئی سے آیا کرتی تھیں۔

ہمارا اندازہ ہے کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف کو دنیا کے اس سب سے بڑے تیل کے ذخیرے کا علم تھا۔ آصف زرداری کی لانچ کراچی سے تیل کے خالی ڈرم لے کر نکلتی تھی، اور کیکڑا پہنچ کر سمندر سے تیل نکال کر ان ڈرموں میں بھر لیتی تھی اور دبئی لے جا کر بیچ دیتی تھی۔ اس سے جو رقم ملتی تھی اس سے لانچ کو سونے سے بھر کر واپس پاکستان لے آیا جاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ یا تو نواز شریف اس کاروبار میں پارٹنر ہوں گے یا ان کی بھی اپنی لانچیں ہوں گی۔ ایسے ہی تو بیرون ملک اتنی بڑی جائیدادیں نہیں بنا لی گئیں جو کمزور سی پاکستانی معیشت کو لوٹ کر بنانا ممکن ہی نہیں ہے۔

آپ کو یاد ہو گا کہ جلاوطنی کے دن آصف زرداری نے متحدہ عرب امارات میں کاٹے تھے۔ نواز شریف کے پارٹنر قطر والے تھے۔ یہ دونوں ملک تیل اور گیس کی برآمدات کے لئے مشہور ہیں۔ کیا آپ کو یہ نہیں لگتا کہ ان دونوں ممالک کو تیل اور گیس کیکڑا کی فیلڈ سے فراہم کی جاتی ہو گی؟ ادھر ہمارے سابقہ کرپٹ حکمرانوں نے تیل اور گیس کی ایجنسی کھول لی ہو گی اور کیکڑا سے نکال نکال کر بیچتے ہوں گے۔

سارا کیکڑا تو آصف زرداری اور نواز شریف نے خالی کر دیا۔ ادھر عمران خان یہی سمجھے بیٹھے ہیں کہ گیس لیک کر گئی اس لئے کیکڑا خالی ہے۔ جس طرح موجودہ دورِ حکومت میں ہونے والے ہر برے کام کی ذمہ داری نواز شریف اور آصف زرداری پر عائد ہوتی ہے، اسی طرح کیکڑا سے تیل اور گیس نہ ملنے کے ذمہ دار بھی یہی دونوں ہیں۔

بہرحال امید کی ایک بڑی کرن ابھی باقی ہے۔ ہمیں دنیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ نہ ملنے پر رنجیدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اس سے بھی زیادہ قیمتی چیز کراچی کے سمندر سے ملی ہے۔ اور وہ ہے دنیا کا سب سے بڑا منرل واٹر کا ذخیرہ۔ یہ عام پانی نہیں ہے۔ اس میں منرلز کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک گھونٹ بھرتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ منرلز سے لبالب بھرا ہوا ہے۔

جو لوگ دنیا گھومے ہوئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ سعودی عرب میں ایک لیٹر پانی کی قیمت ایک لیٹر تیل سے زیادہ ہے۔ اب اگر کیکڑا سے ملنے والے اس پانی کو سعودی عرب اور ملحقہ ریاستوں کو بیچا جانے لگے تو پاکستان کو اس سے کہیں زیادہ رقم ملے گی جو سعودی عرب وغیرہ تیل بیچ کر کماتے ہیں۔ ساتھ ساتھ پانی سے منرلز نکال کر انہیں یورپ اور امریکہ کو بیچا جا سکتا ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ پاکستان کتنا زیادہ امیر ہونے والا ہے۔

دوسری طرف توانائی کے سلسلے میں بھی ایک بہت بڑی خبر ہے۔ پاکستان میں توانائی کا ایک اتنا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے جو تقریباً پانچ ارب سال تک پاکستان کی توانائی کی تمام ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ اہم چیز یہ ہے کہ اس سے تیل اور کوئلے کے برخلاف ماحولیاتی آلودگی بھی نہیں پھیلتی۔ اسے فواد چوہدری کی پاکستانی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے سولر انرجی کا نام دیا ہے۔
گھبرانا نہیں ہے میرے ہم وطنو۔ قوم نوافل ادا کرے اور دعا کے لئے ہاتھ اوپر اٹھا دے۔ موجودہ حکومت میں پاکستان کا مستقبل اتنا ہی روشن ہے جتنا سورج اور اتنا ہی پرکشش ہے جتنا بلیک ہول۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1148 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar