پاکستان کا لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویزا لیا، ٹکٹ خریدا، طیارے میں سوار ہوئے اور لندن جا اترے۔ میرے لیے لندن ایسا مقام ہے جہاں کی فضا میں پہلا سانس لیتے ہی مجھے گھٹن کے معدوم ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اگرچہ میں جب بھی گیا ماسکو سے لندن گیا اور ماسکو بھی سیاسی طور پر ویسا گھٹن سے پر نہیں جیسا ملک عزیز ہے۔

البتہ پہلی بار ٹوٹی پھوٹی، انتہائی پر خطر قراقرم ہائی وے سے میں ساڑھے سترہ گھنٹے کے جانکاہ سفر کے بعد گلگت پہنچا تھا۔ اس سے پہلے بیالیس برس پیشتر فوکر یا سی 130 کے ذریعے ہی گلگت پہنچنا اور وہاں سے نکلنا رہا تھا۔ میں اس دوران ہنزہ نہیں جا پایا تھا۔ اس بار عزیزی زاہد کاظمی نے گرمی سے متعلق میری کل کل کو روکنے کی خاطر ہنزہ لے جانے کا عزم کیا تھا۔

اگلے ہی روز زاہد کاظمی کے تعلقات کی بنا پر ہمیں بمع ماہر ڈرائیور کے نئی سرکاری لینڈ کروزر میسر آ گئی تھی جس پر پہلے روز پی اے ایف کا سکیٹنگ گراونڈ نلتر دیکھنے گئے۔ پروازی عساکر نے جنگل میں منگل کیا ہوا ہے۔ زبردست افسر میس بمع فاسٹ وائی فائی کے موجود ہے۔ افسر تو کوئی تھا نہیں البتہ لینڈ کروزر کے ڈرائیور کے شہر نگر کے دوستوں نے جو وہاں پی اے ایف کے عملے میں شامل ہیں ہمیں اس افسر ز میس میں چائے ضرور پلائی۔

اس سے اگلے روز ہم ہنزہ کے لیے روانہ ہوئے۔ ایک بہت اچھی سڑک کے ذریعے وہاں پہنچے۔ شمالی علاقہ جات کے حسن اور کشش کے نقیب، نفسیات میں ایم فل، گلگت بلتستان پر ڈاکومینٹری بنا کے ٹی وی پر پیش کرنے والے، ایک چینل کے سابق پروڈیوسر وقار احمد ملک کو، جو شہر اور ٹی وی کی رنگا رنگی تج کے اپنی اہلیہ اور بچے سمیت کریم آباد ہنزہ میں ”سائیکی کیفے“ کے نام سے ایک فاسٹ فوڈ جوائنٹ کھول کر وہیں جا بسے ہیں، کو پہلے سے مطلع کر دیا تھا۔ جو ہمیں جاتے ہی مل گئے۔

مگر بات نہ وقار کی ہے نہ سفر کی بات ہے تو محض ہنزہ کی۔ قدرتی حسن اپنی جگہ کہ تین برف پوش چوٹیاں گھیرے ہوئے ہیں اور پہاڑوں پر بسا یہ شہر اپنی مصفا فضا کے علاوہ انسان دوست مہذب سماجی فضا کا بھی حامل ہے۔ ظاہر ہے یہ نہ تو لندن جتنا وسیع ہے اور نہ ہی لندن کا سا پیش رفتہ۔ ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ ہے تو پاکستان میں ہی۔ مگر لوگ انگریز کی مانند مہذب۔ ہر آتا جاتا بلاتخصیص سلام کرتا ہے جن میں سکول اور کالج آتی جاتی بچیاں اور لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

کریم آباد میں مقامی لڑکیاں اسی طرح گھومتی پھرتی ہیں جس طرح کسی بھی بڑے شہر میں مگر نہ ان کی جانب کسی کی نگاہ اٹھتی ہے اور نہ ہی کوئی مقامی نوجوان اخلاق باختگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ مذہبی اختلاف نام کو نہیں مگر کیا کیا جائے سیاحت کی غرض سے میدانوں سے آئے لوگوں کا جو وہاں کی اکثریتی اسماعیلی برادری سے منہ پھاڑ کے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا گوشت حلال ہے۔ ایسا پوچھنا لندن میں بھی معیوب ہے کیونکہ وہاں ہر حلال شے پر حلال درج کیا ہوتا ہے چہ جائیکہ پاکستان کے ایک حصے میں جہاں کی آبادی کے روحانی پیشوا کا شجرہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ سے جا ملتا ہے اور پھر تب سر آغا خاں نے پاکستان بنانے میں اور بننے کے بعد مالی طور پر بھی پاکستان کی خاطر خواہ مدد کی تھی۔

ہنزہ کے بارے میں بہت سی تحریریں اور لٹریچر دستیاب ہے۔ مجھے اس کے جغرافیہ، تاریخ کا ذکر نہیں کرنا نہ ہی یہاں کے لوگوں کی بہتر بودوباش کے بارے میں بات کرنی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہاں تعلیم کی شرح زیادہ ہے۔ یہاں عورتیں سماجی زندگی میں مردوں کی طرح ہی فعال ہیں۔ یہاں صحت کا معیار شاید پاکستان میں سب علاقوں سے بہتر ہے۔ مجھے بات کرنی ہے تو یہاں قائم و دائم رواداری، اخوت، انسان دوستی، مہذب پن اور روشن خیالی کی۔

کسی سے بھی پوچھو کہ مقامی ناشتہ کہاں ملے گا تو وہ اشہزادی نام کی ایک خاتون کے کھوکھے کا پتہ دے گا جہاں وہ سکول یا کالج سے لوٹے اپنے کسی معاون بیٹے کے ساتھ، گاہکوں کو باری آنے پر سبزی بھرا مقامی پراٹھا اور عام پراٹھا انڈوں اور چائے کے ساتھ دے رہی ہوگی۔ باتونی تو بہت ہے۔ قصہ سناتی رہتی ہے کہ اس نے آرگینک فوڈ کے کورس کیے ہیں۔ پخت و پز کے سلسلے میں جاپان تک جا چکی ہے۔ مگر وہ یہ بات بتاتے ہوئے روہانسی ہو جاتی ہے کہ جب اس نے اپنے طور پر کام کرنا شروع کیا تو باقی پاکستان سے آنے والے لوگ اس سے بہت بے تکے سوالات کرتے تھے۔

یہ پوچھنے کے علاوہ کہ جس مرغ کے گوشت کے قتلے پراٹھے میں بھرے جانے والے ملغوبے میں شامل ہیں کیا حلال کیا تھا، یہ بھی پوچھتے تھے کہ کیا تمہارا خاوند کام نہیں کرتا جو تم خود کام کرتی ہو۔ وہ بتاتی ہے کہ ایسی باتیں سن کے وہ رویا کرتی تھی اور بددل ہو کے چند روز تو اس نے اپنا کھوکھا بند رکھا تھا۔ دوسروں کے معاملات میں بلاوجہ دخل دینے والے ہمارے ہم وطن نہیں جانتے کہ وطن عزیز کے اس لندن میں لوگ لندن کے انگریزوں کی طرح کسی کے کام میں دخل نہیں دیتے بلکہ اس سے بڑھ کر ایک دوسرے کے معاملات میں اگر کوئی مانگے تو مخلصانہ مدد بھی کرتے ہیں۔

کریم آباد کے دو سروں پر آلتت بالتت یعنی یہاں وہاں کے نام کے دو قدیمی قلعے ہیں۔ ہم بالتت دیکھنے گئے تو ہم نے کیوریٹر سے ملنا چاہا۔ بیگ صاحب مجھے بڑے تپاک سے دو بار ملے اور اپنی روشن آنکھیں گاڑ کر بڑی خوش اخلاقی سے میرا حال پوچھا۔ میرا تحیر تب ٹوٹا جب انہوں نے بتایا کہ وہ صدائے روس کے قاری رہے ہیں اور میری تحاریر کے مداح ہیں۔ پاکستان کے لندن میں کسی اپنے کا مل جانا بہت خوشی کی بات رہی۔ انہوں نے نہ صرف آو بھگت کی بلکہ قلعہ تفصیل سے بتاتے ہوئے دکھایا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>