مہنگائی اور اپوزیشن کی عمران ہٹاؤ تحریک


ایک شخص نے بینک میں کچھ رقم جمع کرا دی۔ وہ روزانہ رات کو بینک کے چوکیدار کوکڑک چائے پلا نے پہنچ جاتے۔ تین چار دن بعد چوکیدار نے آخر اس شخص سے پوچھ ہی لیا کہ بھائی تم مجھے روزانہ اتنی کڑک چائے کیوں پلاتے ہو؟ جواب میں اس نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہیں تم سو نہ جاؤ اورمیرے پیسے ڈاکو چرا لے جائیں۔ اگر اس ٹھنڈے لطیفے کوپاکستانی سیاست کے تناظر میں دیکھیں تو ہماری سابقہ حکومتوں کے چوکیداروں کو آئی ایم ایف قرضہ دے کر چائے پلا پلا کر ان کے جاگے رہنے کی اداکاری پر قدرے مطمین رہی، مگرعمران حکومت نے صرف چائے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ قرضہ لے کرآئی ایم ایف کے ایک ملازم ڈاکٹر باقر رضا کو گورنرا سٹیٹ بینک تعینات کردیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ پوری معاشی ٹیم پر آئی ایم ایف کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ملک میں فنانس کنٹرول کرنے والے اہم عہدوں پر آئی ایم ایف کو براہ راست رسائی حاصل ہو چکی ہے۔

کل کے الزام آج عوام کو انعام کے طور پر دیے جا رہے ہیں۔ عمران خان نے جب سے حکومت سنبھالی ہر روز خود اپنے ہر ایک وعدے اور دعوے کو غلط ثابت کرتے چلے جا رہے ہیں۔ قوم کوحکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکر ات کی خوشخبری دی گئی، جس پر پہلے وزیر اعظم کا مؤقف تھا کہ خود کشی کر لوں گا لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا۔ ہمارے حکمران بھکاری ہیں دنیا بھر سے بھیک مانگتے ہیں، مجھے ایسا کرنے میں شرم آئے گی۔

آج کہاں گئی وہ شرم؟ پاکستان کے عوام کو ایک طرف معاشی بدحالی کا سامنا ہے اور دوسری طرف ایک بار پھراْسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے پہ مجبور ہیں جن کے پاس ایسے ایسے نسخے ہیں جو عوام کی کھال ہی بہت مشکل سے جسم پر چھوڑتے ہیں۔ پھر دعوی کیا گیا کہ اسی قوم سے 8 ہزار ارب کا ٹیکس اکٹھا کر کے دکھاؤں گا۔ آج ٹیکس کولیکشن میں تاریخ کا سب سے بڑا شارٹ فال سامنے آ رہا ہے۔ عمران خان اور اسد عمر ہمیشہ کہتے آ ئے ہیں کہ ایمنسٹی اسکیم چوروں اور ڈاکوؤں کے لئے ہوتی ہے۔ یہ اسکیم پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کے منہ پر تماچہ ہے۔ آج جبکہ خان صاحب خود ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے چکے ہیں تو ساری اپوزیشن سوال کر رہی ہے کہ وہ کون سے چور اور ڈاکو ہیں۔ جن کو آپ نے ایمنسٹی اسکیم دے کر ٹیکس دینے والے پاکستانیوں کے منہ پر تماچہ مارا ہے؟

پاکستان کے لیے یہ بڑا نازک وقت ہے۔ پی ٹی آئی کا ووٹریہ سوچنے پر مجبور ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کیا آئی ایم ایف کا ایجنڈا مکمل کرنے کے لیے تو ہم سے ووٹ نہیں لیا تھا۔ کیا عمران خان کو نہیں پتا کہ جس ملک نے بھی قرض لیا ہے اس کی معیشت نیچے ہی گئی ہے۔ پاکستان گزشتہ 71 سال کے دوران 21 مرتبہ قرضہ لے چکا ہے۔ نیا قرضہ منظور کرنے سے پہلے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو بجلی، تیل اور گیس مزید مہنگی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

مشورے کی تعمیل کرتے ہوئے اوگرہ نے سوئی گیس کمپنیوں سوئی نادرن اور سوئی سدرن کے لئے مالی سال 2019۔ 20 میں گیس کی قیمتیں بالترتیب 47 فیصد اور 29 فیصد بڑھانے کی تجویز دے دی ہے جو کہ من و عن منظور بھی ہو جائے گی اور جس پر عمل یکم جولائی سے ہو گا۔ اس کے علاوہ 150 ارب سے زیادہ کے نئے ٹیکس لگانے کے لئے کہا ہے، اگر مہنگائی کا سلسلہ نہ تھم سکا تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ کل تک عمران خان سابق حکمرانوں کے بارے میں اغیار سے قرض لینے پر جو کہا کرتے تھے آج وہی بات محسن نقوی کے شعر کی صورت میں ان کے لئے حاضر ہے کہ

جھکا دے گا تیری گردن کو یہ خیرات کا پتھر

جہاں میں مانگے والوں کے اونچے سر نہیں رہتے

ہر شخص ملکی معیشت سے متاثر ہوکر چیخیں مار رہا ہے عوام کے غم و غصے میں اضافہ ہوتاجا رہا ہے جبکہ وزیر اعظم فرماتے ہیں ”گھبرانا نہیں“ معیشت درستگی کی طرف جارہی ہے، کبھی کہتے ہیں کہ تیل نکل آئے گا تو معیشت مضبوط ہوجائے گی۔ لیکن وزارت پیٹرولیم کی طرف سے مایوس کن خبر آ چکی ہے کہ ساڑھے پانچ ہزار میٹر کی ڈرلنگ کے بعد تیل اور گیس کی تلاش کا کام روک دیا گیا ہے کیونکہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ آخر تک کب سیاست دان پاکستان کے عوام کو بے وقوف، اندھا، بہرہ سمجھنا بند کریں گے، سالوں سے جھوٹ کے چنگل میں عوام کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کرٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جاتا رہے گا۔

ملکی معاشی حقائق ڈرا دینے والی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے ابتدائی مہینوں میں فی کس آمدنی اور سٹاک مارکیٹ تین سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ سرمایہ کاری کی شرح رواں مالی سال میں 15.4 فیصد رہی ہے جو تین سال میں کم ترین شرح ہے۔ حکومت سرمایہ کاری کامقررہ ہدف 17.2 فیصد بھی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ معیشت کے حجم کا تخمینہ اب 291 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جو ایک سال قبل 315 ارب ڈالر تھا۔ ڈالر کی موجودہ قیمت 150 ہے جوتاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

افراط زر 9041 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ ساڑھے 8 ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 13 روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔ غریبوں کو روزگار دینے کا دعوی تھا، اب تک 11 لاکھ سے زائد لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ریاست میں طرزِ حکمرانی کا اندازہ اس کی معیشت سے ہوتا ہے۔ مہنگائی کی سونامی بجٹ کے بعد پاکستان کی معاشی اور سیاسی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گی۔ عوام کو معاشی اعداد و شمار اور معاشی اعشاریوں کی جادو گردی سے غرض نہیں ہوتی انہیں تو روزگار چاہیے سستی خوراک، بجلی، گیس، پٹرول، رہائش، تعلیم اور صحت چاہیے۔

حکومت کب تک پچھلی حکومتوں پر ملبہ ڈال کر اپنی ناکام پالیسیوں اور حکمت عملی کو چھپاتی رہے گی۔ عمران خان کی بیڈ گورننس کے نتیجے میں بڑہتی مہنگائی سے اپوزیشن جماعتیں مشترکہ احتجا ج کا سنجیدگی سے سوچ رہی ہیں۔ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے اپنے پارٹی رہنماؤں اور ورکرز کوعید کے بعد سڑکوں پر نکلنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اسلام آباد میں بلاول بھٹو کا مریم نواز سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو بظاہر افطار کی دعو ت در اصل ”عمران ہٹاؤ تحریک“ کی طرف باقاعدہ پہلا قدم ہے۔

اگر پی ٹی آئی حکومت کی گورننس کا حال یہی رہا تو وہ دن دور نہیں جب ڈی چوک ہو گا، ایک کنٹینر ہو گا، مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو، مریم نواز اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا عمران خان سے استعفے کا مطالبہ ہوگا۔ پی ٹی آئی کی منڈیر پر دوسری جماعتوں کے لاتعداد ”الیکٹ ایبلز“ پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ عمران خان تو خود شکاری ہیں انہیں اس بات کابخوبی علم ہو گا کہ پرندوں کو خطرے کی بو بہت جلد آ جاتی ہے۔ لگتا ہے انہوں نے خطرہ محسوس بھی کر لیا ہے اور کسی دوسرے ”محفوظ“ مقام کا تعین بھی جلد ہی کر لیں گے۔ ویسے بھی صبح کے بھولے پرندے کو اس کی نادانی سمجھ کر اس کی اپنی پارٹی معاف کر کے واپسی کے دروازے کھولے رکھتی ہے۔ باقی پاکستانی عوام کا کیا ہے وہ تو 71 سال سے یہی تماشا دیکھ دیکھ کر عادی ہو چکے ہیں۔

Facebook Comments HS