کیا 2020 انتخابات کا سال ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید کے بعد حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھے گا۔

اگرچہ بظاہر یوں لگتا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا چیلنج معیشت ہے۔ اسی حوالے سے آئی۔ ایم۔ ایف کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ لیکن یہ سوچ بھی جڑ پکڑ چکی ہے کہ جب تک سیاسی استحکام نہیں آتا، معاشی اصلاحات کے کسی بھی ایجنڈے پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو گا۔ سیاسی استحکام کا حصول اس لئے مشکل دکھائی دے رہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو چور، ڈاکو اور کرپٹ قرار دیتے ہیں۔

نیب، ایف۔ آئی۔ اے اور دیگر ادارے ان کے تعاقب میں لگے ہیں۔ عمران خان ان سے مذاکرات اور بات چیت کرنا تو کجا، ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے۔ کہا جا سکتا ہے کہ عملادونوں بڑی جماعتوں کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ ان کے پاس اب شدید رد عمل کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی موجودہ حکومت سے نجات کی باتیں کرنے لگی ہے اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے متعدد ٹی وی ٹاک شوز میں کہا ہے کہ موجودہ صورتحال سے نجات کا واحد راستہ نئے انتخابات ہیں۔

یہی مطالبہ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے بھی دہرایا ہے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ 2020 انتخابات کا سال ہے۔ دونوں راہنماؤں نے ان انتخابات کے لئے صحیح معنوں میں آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ کی کڑی شرط بھی عائد کی ہے۔ یہ مطالبہ مولانا فضل الرحمن گزشتہ نو ماہ سے کر رہے ہیں۔ وہ کھلے عام کہتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات میں شدید دھاندلی ہوئی اور تحریک انصاف کو مصنوعی مینڈیٹ دلایا گیا۔

وہ عید کے بعد اسلام آباد میں دھرنا دینے کا پروگرام بھی رکھتے ہیں۔ یقینا نئے انتخابات ان کا اہم مطالبہ ہو گا۔ پیپلز پارٹی پہلے ہی مولانا فضل الرحمن کی تحریک کا ساتھ دینے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے حکومت مخالف تحریک چلانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں قیدمسلم لیگ (ن) کے قائد اورسابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی پارٹی راہنماؤں اور کارکنوں کو عید کے بعد متحرک ہونے کی ہدایات دی ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ عید کے بعد نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ زور پکڑ جائے گا اور متحدہ حزب اختلاف اس مطالبے پر متفق ہو جائے گی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، بجلی اور گیس کے نر خوں میں اضافہ اور عوام کی عمومی بے چینی اس مطالبے کو زیادہ وزنی بنا ڈالیں گے۔ ادھر یہ بات اب قومی سطح پر تسلیم کی جانے لگی ہے کہ موجودہ حکومت نا اہل ہے اور وہ امور مملکت چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اپوزیشن کا کہنا یہ بھی ہے کہ اگر اس حکومت کو زیادہ مہلت دی گئی تو ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان حالات میں ایک سوال آہستہ آہستہ سر اٹھانے لگا ہے کہ کیا 2020 انتخابات کا سال ہو گا؟ لیکن اس سوال سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسے منصفانہ انتخابات کروا سکیں گے جو عوام کی حقیقی رائے کی ترجمانی کریں؟ ۔ ان سوالوں کے جوابات تو مشکل ہیں لیکن ایک بات یقینی نظر آتی ہے کہ عید کے بعد حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھے گا اور نئے انتخابات کا مطالبہ سیاسی افق پر چھا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •