عید کی لوکل شاپنگ بمقابلہ برانڈڈ شاپنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان طبقاتی فرق مسلسل بڑھ رہا ہے : عالمی بینک

مزید اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ امیر اور غریب کے درمیان طبقاتی فرق میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس کی ایک وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی ہے۔

جس معاشرے میں امیر اور غریب کا فرق بڑھ جائے تو وہ معاشرہ پیچھے رہ جاتا ہے، وزیر اعظم عمران خان۔

جیسے ہمارے وطن میں عید الاضحی کے موقع پر دو قسم کے طبقات پائے جاتے ہیں، ایک وہ ہے جو وی آئی پی کیٹل فارم کا رخ کر کے قیمتی جانوروں کا انتخاب کرتے ہیں، تاکہ اپنے محلے داروں کی جانب سے ”واہ واہ“ حاصل کرتے ہوئے قربانی کا فریضہ سر انجام دے سکیں۔ جبکہ دوسرا طبقہ وہ ہے جو کسی بھی لوکل منڈی پہنچ جاتا ہے اور اپنی حیثیت کے مطابق جانور خرید لیتا ہے اور اہل محلہ کی جانب سے بغیر کسی کے ”واہ واہ“ کا منتطر ہوتے ہوئے قربانی کے فریضہ کو سر انجام دے دیتا ہے۔

کم و بیش ایسے ہی ‏‎ماہ رمضان کے موقع پر عید الفطر کی شاپنگ کرنے والوں میں دو قسم کے طبقات پائے جاتے ہیں، ایک طبقہ وہ ہے جو بڑے بڑے شاپنگ سیٹرز میں جانا پسند کرتا ہے کیونکہ وہاں اس کے من پسند برانڈڈ لباس دستیاب ہوتے ہیں اور ان برانڈڈ لباس کی قیمت اتنی ہوتی ہے جس میں لوکل یعنی غریب طبقہ اپنے تمام اہل خانہ کی لوکل شاپنگ مکمل کر لیتا ہے۔ یہ طبقہ اپنے عزیز و رشتے داروں کی جانب سے ”واہ واہ“ حاصل کرنے کے لیے مہنگے لباس خرید کر عید الفطر کے موقع پر اوڑھ لیتا ہے۔

جبکہ دوسری جانب لوکل طبقہ ہے جو کسی بھی لوکل بازار سے جاکر اپنے لیے کپڑے خرید لیتا ہے اور بغیر کسی کی ”واہ واہ“ حاصل کیے عید الفطر کے موقع پر وہ کپڑے اوڑھ لیتا ہے۔

اور ایسے عید الفطر کے موقع پر تمام دوست احباب ایک دوسرے سے گلے لگتے ہوئے مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ عید کا تہوار منا لیتے ہیں۔ اس تمام عمل کو ہم ”عید کی رونقیں“ بھی کہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •