طلبا یونین پر پابندی اور طلبا سیاست


طلبہ یونین اور سیاست کا ہمارے ملک کی سیاست اور تعلیمی اداروں میں اہم کردار رہا ہے قیام پاکستان میں بھی طلبہ تنظیم مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے اہم کردار ادا کیا تھا پاکستا ن کے قیام کے بعد اسلامی جمعیت طلبہ 1948 میں آئی اور اس کے ایک سال بعد گورڈن کالج راولپنڈی میں ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر پابندی کے بعد ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن پر بھی پابندی عائد کی گئی اور نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا۔ اگلے تین دہائیوں یہ دونوں تنظیمیں طلبہ سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہے ان طلبہ تنظیموں کے درمیان نظریاتی کشمکش یونین کے الیکشن میں اہم کردا رادا کرتی تھی، نظریاتی اختلاف کے باوجود طلبہ سیاست کا یہ دور جمہوری رویات کا آئینہ دار ہوتا ہے، مکالمہ اور برداشت کا کلچر اس سیاست کا خاصا ہوتا ہے۔

لیکن غیر سیاسی قوتوں کو طلبہ کا یہ جمہوری عمل ایک آنکھ نہیں بھاتا اور 9 فروری 1984 کو ایک آمر مارشل لا آرڈر کے ذریعے طلبہ یونین پر پابندی عائد کرتا ہے جس پر اگلے چند برس بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستا ن کے 1993 کے اس فیصلے کے نتیجے میں تعلیمی اداروں کے اندر سیاست پر پابندی عائد ہوتی ہے ان تعلیمی اداروں میں دوران داخلہ طلبہ سے سیاست میں عدم شرکت کا ایک حلف نامہ جمع کرانے کا بھی پابند بنا لیتی ہے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کے احکامات بھی جاری کرتا ہے۔

اگلے آنے والے دو دہائیوں میں تعلیمی اداروں میں طلبہ سیاست پر پابندی عائد رہی ہے لیکن طلبہ کی تربیت اور ان کے لئے غیر نصابی سرگرمیوں کے انعقاد کا منصوبہ سرد خانے کی نذر ہوگیا ہے، بد قسمتی سے طلبہ یونین پر پابندی کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے نے ریاست پاکستان اور تعلیمی اداروں کو طلبہ سیاست اور طلبہ کے ہر جائز مطالبہ اور ہر غیر نصابی سرگرمی کو روکنے کا ایک جواز مہیا کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں واضح طور پر کہا کہ تعلیمی ادارے اور جامعات غیر نصابی سرگرمیوں کے انعقاد کے لئے بھی عملی اقدامات کریں جس کے جواب میں ہر بڑی یونیورسٹی میں ایک درجن سے زائد سٹوڈنٹس سوسائٹیز وجود میں لائی گئی لیکن ان کی کارکردگی کا حال تو یہ ہے کہ برسوں سے ان سوسائٹیز کی تنظیم سازی نہیں ہو رہی۔

طلبہ کے بڑھتے ہوئے مسائل نے علاقائی اور لسانی بنیاد پر نئی تنظیموں نے جنم لیا جو تنظیمیں پہلے سے وجود رکھتی تھی انھوں نے تعلیمی اداروں اور حصوصا ملک کے بڑے جامعا اپنے نیٹ ورک کو مزید پھیلایا اور جلد ہی یہ تنظیمیں ایک منظم قوت بن گئی۔ تعلیمی اداروں میں اب طلبہ تنظیمیں ایک حقیقت ہے جس سے پالیسی ساز ادارے اور تعلیمی ادارے اس حقیقت سے منہ موڑ رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت اور تعلیمی ادارے طلبہ سیاست پر پابندی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں تو دوسری طرف طلبہ تنظیمیں آزادی سے تعلیمی اداروں میں آپریٹ کررہی ہے جس نے معاملات کو اور مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پابندی کے باوجود تعلیمی اداروں کو ان طلبہ تنظیموں کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے، گو کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات یہی تنظیمیں جامعات کا تعلیمی ماحول خراب کرنے میں ملوث ہوتی ہے لیکن یہ تنظیمیں طلبہ کی سیاسی تربیت، غیر نصابی سرگرمیوں کے انعقاد میں اہم کردار ادا کررہی ہے اور تعلیمی ادارون کا ان کے وجود کو تسلیم کرنا اور ان کو ریگولیٹ کرنے سے یہ تنظیمیں جامعات کے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ تعلیمی ادارے ان تنظیموں ہی کی وجہ سے برداشت اور ڈیبیٹ کے کلچر کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔

ہمارے ہاں کچھ تجزیہ نگار اور اساتذہ کرام کی اکثریت اس وجہ سے طلبہ یونین اور سیاست پابندی کی حمایت کرتے ہیں کہ طلبہ یونین اور سیاست تعلیمی اداروں میں پرامن ماحول کی خرابی کا باعث بنتے ہیں اور تشدد کو پروان کو چڑھاتے ہیں اور اس دلیل کو بنیاد بنا کر جنرل ضیا الحق نے طلبہ یونین پر پابندی عائد کی ہے تو سوال یہ ہے کیا پابندی عائد کرنے سے تعلیمی اداروں میں تشدد کو روکا گیا ہے جواب بالکل نہیں میں آئے گا اعداد و شمار کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو 1947 سے 1984 تک تعلیمی اداروں میں تشد د کے واقعات اور تشدد کے نتیجے میں اموات کی شرح 1984 سے 2019 تک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، اس مطلب یہی ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین پر پابندی کے بعد تشدد کے واقعات میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

دراصل تشدد ہمارے معاشرے کا ایک اہم جز رہا ہے ایک شوہر اپنی بیوی پر تشدد کرتا ہے، والدین بچوں پر تشدد کرتا ہے، استاد طالب علموں پر تشدد کرتا ہے تو اس طرح کے معاشرے میں ایک طالب علم سے تعلیمی اداروں میں عدم تشدد کی توقع کرنا دور اندیشی پر مبنی نہیں اور محض تشدد کو بنیاد بنا کر طلبہ کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنا ایک بڑا ظلم ہے۔ یہاں پر مقصد طلبہ یونین اور طلبہ سیاست میں تشدد کو سپورٹ کرنا نہیں بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ اس معاملات کا اس طرح سرسری تجزیہ سے اور پابندی سے حل ممکن نہیں۔

معاشرے میں تشدد کی روک تھام ہی سے طلبہ سیاست اور تعلیمی اداروں کو تشد د سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ یہ دلیل کہ طلبہ یونین تشدد کا باعث بن رہی ہے کی بنیاد پر پاکستا ن کے ہر مکتبہ فکر چاہے وہ وکلا ہوں، ڈاکٹر ہوں، مزدور ہوں کی یونین پر پابندی عائد کرنی چاہیے کیونکہ وہ بھی بعض اوقات بلاواسطہ یا بالواسطہ تشد د میں ملوث پائی جاتی ہے۔

پابندی کے باوجود تعلیمی اداروں میں سیاسی تنظیموں کی ونگز کا بھی حال ملاحظہ کیجئے۔ وطن عزیز میں الیکشن جب بھی آتے ہیں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے طالب تنظیموں کو متحرک کردیتی ہے ان کو فنڈز مہیا کرنا شروع کردیتی ہے اور ان سے طلبہ ووٹروں کو راغب کرنے کے لئے مختلف پروگرامات منعقد کرتی ہے لیکن جوں ہی الیکشن کے دن گزرجاتے ہیں پھر اگلے پانچ سال ان سیاسی قائدین اپنے طلبہ تنظیم کی خبر گیری کرتے ہیں اور نہ ہی ان تنظیموں کے سربراہوں کو تنظیم کی کوئی فکر ہوتی ہے کیونکہ ان کا بنیادی مقصد کو پارٹی کی اعلی قیادت تک اپنے آپ کو پہنچانا مقصود ہوتا ہے اور الیکشن کے عمل میں اس میں کامران و سرفراز رہتے ہیں۔

اس کے برعکس اسلامی جمعیت طلبہ کی مثال لیں۔ چاہے آپ کتنا ہی اسلامی جمعیت طلبہ سے اختلاف کریں لیکن اس اس حوالے سے وہ داد اور شاباش کی مستحق ہے کہ انھوں نے تعلیمی اداروں میں ایک ایسا سسٹم متعارف کرایا جو ان کے نظریات کے پرچار کے ساتھ ساتھ طلبہ کو علمی اور غیر نصابی سرگرمیوں سے متعارف کراتے ہیں۔ مثال لیتے ہیں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستا ن کے زیر اہتمام سالانہ ملک گیر کتب میلوں کی جس میں نہ صرف عام طالب علم سستے داموں کتابیں خرید کر کتاب کے کلچر سے متعارف ہوتا ہے بلکہ ان کتب میلوں میں جمعیت کے ذمہ دارن ہزاروں کی تعداد میں اپنے تحریک کے لڑیچر کو طلبہ و طالبات اور اساتذہ کرام کو بطور تحفہ دے کر ان کو اپنی تحریک سے روشناس کرا دیتے ہیں گویا اسلامی جمعیت طلبہ نے ایک انوکھا سسٹم بنایا ہے جس میں ان کے نظریات کے پرچار کے ساتھ ساتھ علمی ماحول کی خوبصورتی میں نکھار آتا ہے۔

مندرجہ بالا مثال دینے کا مقصد یہ تھا کہ ایک طرف اگر طلبہ یونین اور سیاست پر پابندی ہے (گو کہ یہ پابندی 29 مارچ 2008 کو پارلیمنٹ میں متفقہ ووٹ سے طلبہ یونین کی بحالی کے اعلان سے ختم ہوچکی ہے لیکن صورت وہی پابندی والی ہے) تو سیاسی جماعتوں کو اپنے طلبہ تنظیموں کو صرف الیکشن میں استعمال کرنے کی بجائے ایک سسٹم دینا چاہیے کہ وہ پابندی سے پیدا ہونی والی خلاٗ کو اچھے طریقے سے پورا کریں اور متعلقہ جماعت کے نظریات کے پرچار کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے عملی ماحول کی بہتر بنانے اور طلبہ کی تربیت میں اہم کردار ادا کریں، صرف یونین کی پابندی کا رونا مسئلہ کا حل نہیں، جب سیاسی جماعتیں اپنے طلبہ ونگ کے لئے ایک لائحہ عمل تیار کریں گی تب ہی یونین کی بحالی کی کوئی سبیل نکل سکے گی۔

Facebook Comments HS