حساب جاں: ڈاکٹر شکیل احمد کی سوانح حیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خود نوشت، سوانح حیات، عمر کا حساب ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ اس حساب کا لیکھا جوکھا رکھ پاتے ہیں۔ جو رکھتے ہیں وہ اوروں کے لئے سبق کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ نہ رکھنے والوں کی تعداد بھی بہت ہے۔ یہ دنیا تو ہے وجود سے عدم کی جانب جانے کا نام۔ وہ لوگ یقینا خوش قسمت ہیں جو اس کا لیکھا جوکھا رکھتے ہیں اور اپنی زندگی کی کہانی دوسروں سے ساجھا کرنے کی ہمت جٹا پاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ گاندھی کی طرح حق گوئی و بے باکی کم لوگوں میں ہی پائی جاتی ہے۔ ایسے لوگ نادر ہی ہوتے ہیں، جو اپنی کمیوں اور خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔

عموما خود نوشتوں میں تعلی ہی ہوتی ہے، لیکن پھر بھی سیکھنے والوں کے لئے کچھ نہ کچھ کام کی باتیں نکل آتی ہیں۔ ’’حساب جاں‘‘ ڈاکٹر شکیل احمد (مئو) کی ایسی ہی داستان حیات ہے، جس میں انھوں نے رنگینی، تصنع اور دکھاوے سے پرے انتہائی سادگی مگر خوبصورت انداز میں اپنی زندگی کی کہانی بیان کی ہے۔ کتاب تقریبا ایک سو بانوے صفحات پر مشتمل ہے، جسے مصنف نے خود شایع کیا ہے۔ ملنے کے پتے میں مصنف کے نام کے ساتھ قاسمی منزل ڈومین پورہ، مئو ناتھ بھنجن 275101 ضلع مئو درج ہے۔

اب آئیے ذرا کتاب کے اندر ہے کیا اور اس میں مصنف نے بیان کیا کیا ہے، اس بارے میں جانتے ہیں۔ مصنف کا تعلق بنکر برادری سے ہے؛ چونکہ ہندوستان میں بنکر کے پیشے سے ایک معتد بہ تعداد مسلمانوں کی وابستہ رہی ہے  اور  جاننے والے جانتے ہیں آزادی کے بعد سے مسلمانوں کے ساتھ جس قسم کا رویہ اپنایا گیا، اس میں بنکر ہی کیا ہر ایک کے لئے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو گیا۔ اس کشمکش، بے چارگی، درد اور کسک کی کہانی اس کتاب میں جگہ جگہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ لیکن ان سب کے بیچ میں ہمیں اس کتاب میں یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ مصنف اور اس کا خاندان اس سے باہر نکلنے کے لئےکس طرح سے تگ و دو اور جتن کرتا ہے۔

مصنف قسمت کو دوش دیکر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کے قائل نہیں ہیں۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی زندگی مختلف مسائل سے گھرے رہنے کے باوجود اپنے اور اپنے اہل خانہ کے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے خاصی محنت کرتے ہیں۔ اس کے لئے جہاں وہ شعبہ تدریس سے وابستہ ہوتے ہیں، وہیں اپنے آبائی پیشے کو بھی خیر آباد نہیں کہتے۔ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ سماجی اور رفاہی کاموں میں بھی خود کو مصروف رکھتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب ایک ایسے شخص کی داستان حیات ہے، جو بہت عام ہوتے ہوئے بھی خاص ہے اور بہت خاص ہوتے ہوئے بھی عام ہے۔

کتاب  کل تئیس حصوں میں منقسم ہے۔  پہلا ایک صفحہ  مصنف کے بارے میں خاکہ نما ہے، جس میں ان کی زندگی اور ان کے کاموں کا ایک ہلکا بیولا دیا گیا ہے۔ پھر ’حرف آغاز‘  ہے۔ اس کے بعد بالترتیب ’میرے خواب‘، ’میرے زخم‘،  ’بود و باش‘، ’رشتے  ناتے‘، ’والدین مکرمین‘، ’میری تعلیم‘، ’معاش جوئی‘، ’جہان رزق‘، ’اپنا دامن‘، ’تعلیم یاری (اول)‘، ’تعلیم یاری (دوم)‘، ’تعلیم یاری (سوم)‘، ’سماج یاری (اول)‘، ’سماج یاری (دوم)‘، ’قلم یاری‘، ’سیاسی جذب و شوق‘، ’یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی‘،  جیسے عناوین کے تحت خامہ فرسائی کی گئی ہے۔ اخیر میں مصنف کی کتابوں پر انصار معروفی نے جو منظوم تبصرہ کیا ہے، اسے نقل کر دیا گیا ہے۔

اس سے اگلے صفحہ پر فضا ابن فیضی کی تحریر کردہ ترانہ ہے۔ یہ ترانہ سر اقبال پبلک اسکول کا ہے، جس کے بانیان میں سے ایک مصنف بھی ہیں۔ اخیر میں خاندانی شجرے کے تحت مصنف نے اپنے خاندان کا شجرہ بھی دیا ہے۔ اسی طرح کچھ تصویریں دی گئی ہیں۔ سولہ صفحات پر مشتمل اس میں کل چونتیس تصاویر دی گئی ہیں، جو مصنف کے سیاسی، سماجی اور ادبی سرگرمیوں کو درشاتی (دکھاتی) ہیں۔

کتاب کا بیانہ دلچسپ اور قاری کو متاثر کرنے والا ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے کئی جگہ ہم حیرت و استعجاب اور مسرت میں ڈوبے بغیر نہیں رہتے۔ اس کتاب سے مئو اور اس کے گرد و نواح کے سماجی حالات، رہن سہن، کھان پان  سے بھی واقفیت ہوتی ہے۔ مصنف کا سماج  ایک ایسا سماج ہے جہاں ہندو مسلم دونوں شِیر و شکر ہو کر رہتے تھے، لیکن حالات کی بد نصیبی نے اب اس میں بھی کئی پھاڑ کر دیے ہیں۔ اس کا نوحہ انتہائی درد ناک اور تکلیف دہ ہے۔ مصنف کو جنگ، تشدد، بلوہ اور فسادات کا بے حد خوف ہے، جس کا ذکر وہ جگہ جگہ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ امن سکون اور محبت کے شیدائی اور تمنائی بھی۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’آسودہ اور پر امن سماج کی خواہش ہمیشہ رہی، اس کا خواب ہمیشہ دیکھا، مگر بہت سارے خوابوں کی طرح یہ بار ہا چکنا چور بھی ہوا۔ 29 مارچ 1969 سے 29 جولائی 2009 تک چالیس برس کے دوران اپنے شہر میں پر امن اور خیر سگالی پر مبنی معاشرے کو بار بار مجروح ہوتے دیکھا۔ عوام کی بے بسی، دست کاروں اور محنت کشوں کی فاقہ کشی اور مجبوری دیکھی۔ اور ہر بار افسوس یہی ہوتا کہ سابقہ تجربے سے لوگ سبق کیوں نہیں لیتے، جس راستے تشدد اور نفرت سماج میں داخل ہو کر لوگوں کے دلوں میں انتقام کی آگ بھڑکاتے ہیں، اس کے سد باب کے لئے معاشرہ سنجیدہ کیوں نہیں ہوتا۔ چالیس برس کے دوران شہر میں جو بھی بے امنی پھیلی اور اس کے تدارک کے لئے جتنی بار بھی کرفیو کا نفاذ ہوا، کاش لوگوں نے صبر اور سمجھ داری سے کام لیا ہوتا تو ان تمام فسادات سے بچا جا سکتا تھا، جن سے شہریوں کو گزرنا پڑا۔‘‘

ایک اور اقتباس ملاحظہ فرمائیں: ’’کرفیو کے دوران ہم باہر نکلنے سے پر ہیز کرتے، جب کہ ہمارے ہندو پڑوسی باہر نکلتے رہتے اور ہماری ضرورت کی چیزیں ہمارے لئے خرید لاتے۔ 1984 میں سترہ روزہ مسلسل کرفیو کے دوران میرے شیر خوار بچے عادل کامران کے لئے ہیرا بھیا کی گائے بہت کام آئی۔ ان مشکل دنوں میں اسی گائے کے دودھ پر اس کی صحت کا دار و مدار رہا۔ اس اخوت و محبت اور باہمی اعتماد کو اللہ نظر بد سے بچائے اور ہمسایوں میں بھائی چارگی کی فضا ہمیشہ قائم رہے۔‘‘

اپنے ایک بچپنے کے واقعے کا تذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں: ’’ایک بار ندی کے اس پار شہروز سے ذرا پہلے آم کے درختوں کے پھل کو کئی لوگوں نے مل کر خریدا، اس میں ہمارا بھی حصہ تھا۔ پھل توڑتے اور کشتی سے اس پار لاتے رات ہو گئی۔ بھدیسرا گاوں تک اپنے سروں پر آم سے بھرے بوریے لاد کر اپنے پھوپھا کلیم اللہ عرف بڑک اور پھوپھی زاد بھائیوں کے ساتھ میں بھی ساتھ ساتھ چلا۔ رات کے دس بج چکے تھے ایک کلو میٹر چلے ہوں گے کہ اچانک روشنی، ڈراونی آواز اور درخت پر کسی کے چڑھنے اترنے کی کھر کھراہٹ  بھری آواز کے ساتھ درختوں کی ٹہنیاں زور زور سے ہلنے لگیں، جیسے آندھی آ گئی ہو۔ پھر پانی گرنے کی آواز آنے لگی۔ میں نے اپنی تیرہ برس کی عمرمیں پہلی بار یہ منظر دیکھا تھا۔ پھوپھا نے سبھی آٹھ دس ساتھ والوں سے کہا، کہ سیدھے چلتے رہو۔ کچھ بولو دیکھو مت۔ شیطان ڈرا رہا ہے۔ لہذا بوجھ سے لدے تیز قدموں چلتے اور آیۃ الکرسی پڑھتے جب گھنے باغ کے طویل راستے سے باہر آ گئے، تب جا کر اطمینان ہوا۔ میں نے اس سے پہلے اور پھر بعد میں کبھی بھی اس نوعیت کا کوئی منظر نہیں دیکھا۔‘‘

اس قسم کی کہانیوں کا ذکر متعدد خود نوشتوں میں ملتا ہے۔ ایسی کہانیوں کو پاکستان کراچی کے راشد اشرف حیرت انگیز واقعات کے نام سے کتابی صورت میں جمع بھی کر دیا ہے جو خاصے کی چیز ہے۔

کتاب میں ایسے بے شمار دلچسپ واقعات ہیں۔ ہم نے یہاں محض مشتے از خروارے نمونے کے طور ہر محض چند ایک ہی نقل کیے ہیں۔ دلچسپی رکھنے والے افراد براہ راست کتاب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ کتاب کا کاغذ اور چھپائی عمدہ ہے لیکن رموز و اوقاف کا اہتمام نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے پڑھتے ہوئے بہت الجھن ہوتی ہے۔ کتاب کی قیمت 160 ہندوستانی روپے ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ کا تعلق اٹکی رانچی جھارکھنڈ، بھارت سے ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے تواریخ کے مضمون میں گریجوایشن، ماس کمیونیکشن اینڈ جنرنلزم میں ایم اے کیا۔ لکھنے پڑھنے کے شوقین ہیں۔ اسی لیے میدان صحافت کا انتخاب کیا۔ ہندُستان ایکسپریس، صحافت، خبریں، جدید خبر میں نامہ نگاری، فیچر رائٹنگ، کالم نگاری، تراجم کرتے آئے۔ گزشتہ ایک برس سے ای ٹی وی اردو میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے فرائض نبھا رہے ہیں۔ ڈاکیومینٹری فلم بنانے کے علاوہ، سفرنامے لکھے، کبھی کبھار کہانی لکھتے ہیں۔

muhammad-alamullah has 70 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah