ورتھ وائل ٹرانزیکشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی شعبان کا نصف ہی ہوا ہوتا ہے کہ لاہور کی سڑکوں پر رمضان کے آثار دِکھنے لگتے ہیں۔ جگہ جگہ گداگروں کے جھنڈ کے جھنڈ۔ کوئی چوراہا، کوئی ٹریفک سگنل، کوئی اسپتال، کوئی خریداری کا مرکز۔ کسی جگہ مانگنے والوں سے مفر نہیں۔ اور مسئلہ صرف یہیں تک رہتا تو شاید کوفت سنبھالی بھی جاتی، بات تو اب یوں ہے کہ سوالی سوال کم کرتا ہے دھونس سے زچ زیادہ کرتا ہے۔

اب تو پھر باقاعدہ روزے شروع ہو گئے تھے۔ ایک تو مئی کی چلچلاتی گرمی، اوپر سے دفتر کی چخ چخ۔ اور پھر یہ زارا کی افطار پارٹیز کے چونچلے۔ نیند یوں بھی پوری نہیں ہوتی، پیٹ خالی اور پھر سڑک پر یہ گداگروں کی غنڈہ گردی۔ زید نے جھنجلا کر پھر سے ہارن بجایا۔ اشارے پر رکی اگلی گاڑی والے نے شیشہ نیچے گرایا اور ہاتھ باہر نکال کر ایک نازیبا اشارہ کیا۔ اس نے جواباً ایک ننگی گالی بکی۔ اشارہ جیسے اسی گالی کا منتظر تھا، جھپاک سے سبز ہو گیا۔ زید کا پاؤں ایکسلریٹر پر جا ٹکا۔

سپیڈ ہی تو زندگی ہے۔

۔

ولید چچا لاہور چھوڑ کر ایبٹ آباد میں کیوں بن باس لیے بیٹھ گئے، سارے خاندان میں ہر بڑی محفل میں یہ کہانی دعوت کے منیو کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ پچھلے سولہ سال سے اس منیو آئٹم کا ذائقہ ہر قصہ گو کے تخیلاتی ذوق اور ہمدردی کے رخ کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ کوئی بھنے اُلو کھا لینے کے نقصانات بتاتا، کوئی دادا کی کمائی کسی بد دعا کا ذکر کرتا، کوئی اپنا صبر دادی پر پڑنے کی داد مانگتا۔ غرضیکہ جتنے منہ، اتنی کہانیاں۔

فاخرہ چچی کہتی تھیں انہوں نے اکثر اس لڑکی کو جرمنی میں ٹرین میں دیکھا ہے جس کی وجہ سے ولید چچا دربدر ہوئے۔ آئدہ پپھو کہتیں چچی سدا کی جھوٹی ہیں، وہ لڑکی گلبرگ میں ہی رہتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کس طرح کسی لڑکی کے پیچھے جوگ لے بیٹھا، زارا کو یہ ساری کتھا کریدنے میں بڑا مزہ آتا۔

سسپنس سے ہی تو زندگی میں رومانس پیدا ہوتا ہے۔

۔

اسلام آباد تبدیلی کے بعد یہ میرا پہلا رمضان تھا۔ ہفتہ تو جیسے تیسے کاٹ ہی لیتا، ویک اینڈ کے لیے البتہ میں خاصا پرجوش ہوتا۔ شہر سے دور۔ کھوکھلے قہقہوں اور مصنوعی سوشل سرکلز سے پرے۔ فطرت کے قریب۔ جمعہ کی سہ پہر ڈرائیو کے دوران میں سوچ کر ہی سرشار ہو گیا۔

مزے کی بات بتاؤں؟
میں جس دوست کے پاس رہنے جا رہا تھا آپ میں سے کوئی بھی اسے نارمل نہ سمجھے۔
سٹینفورڈ کا گریجویٹ، ایک قصبہ نما شہر میں جوتوں کی دکان کھول کر بیٹھ جائے تو آپ کیا سمجھیں گے؟ بندہ لیکن کمال تھا۔

دکان کے اوپر تین کمروں کا فلیٹ تھا۔ ایک کمرے میں خود رہتا تھا، ایک میں کتب خانہ بنا رکھا تھا، اور تیسرے، بڑے کمرے میں چار بچے رہتے تھے۔ بچے ہمہ وقت دکان کے ملازم بھی تھے، اس کے شاگرد بھی اور لے پالک اولاد بھی۔ فجر کے بعد صبح نو بجے تک کتب خانے میں حساب اور انگریزی کا مدرسہ چلتا تھا۔ اس کے بعد دکانداری۔ ظہر سے عصر کے درمیان دکانداری کا وقفہ ہوتا تھا اور وہ ان سب کو لے کر کوئی اسلامی ادب پڑھتا۔ میرا تعارف ابن عربی اور مارٹن لنگز سے انہی بچوں کے سبب ہوا۔

کلیم کی عمر 17 برس تھی اور اس نے اس سال میٹرک کا امتحان دینا تھا۔ نوید 15 برس کا تھا۔ شہزاد 14 کا، اور کاشف 11 سال کا۔ سب سے چھوٹے کاشف کو چھوڑ کر باقی تینوں بچے اس نے سڑک سے لاوارث حالت میں اٹھائے تھے۔ نوید اور شہزاد نے تو آنکھ ہی اس کی گود میں کھولی تھی۔ نوزائیدہ تھے جب اسے فجر سے واپسی پہ کوڑے کے ڈھیر سے ملے تھے۔ کلیم کا باپ مرگیا تھا اور سوتیلی ماں اپنے دونوں بچوں کو لے کر اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔

ان تینوں کی کُل کائنات ”جفت ساز“ کی یہ چھت ہی تھی۔ کاشف البتہ لاوارث نہ تھا۔ فقیروں کا لڑکا تھا۔ اس کی ماں اسے ساتھ لے کر میونسپل کمیٹی کی ڈسپنسری کے باہر بھیک مانگتی تھی۔ میرے دوست کی آتے جاتے نظر پڑتی رہتی۔ ایک دن وہ اس کی ماں سے سودا کر آیا۔ ماہانہ وظیفہ لگادیا بچے کا جو ماں باپ کے حوالے کر کے اس نے بچے کو اپنی کفالت میں لے لیا۔ کاشف کو اب دو سال ہو چلے تھے یہاں اور ان سب بچوں میں سے سب سے ہوشیار یہی تھا۔ میں سوچ کر مسکرا دیا۔ اب کی بار میں نے اس کے لیے بچوں کا سپیس انسائیکلو پیڈیا لیا تھا۔ انگریزی میں چالو نہیں ہوا تھا لیکن فزیکس کی طرف اس کا بہت رجحان تھا۔

اللہ جانے ولید کے ہاتھ نہ لگتا تو اب تک کیا بن گیا ہوتا۔ ایسے کتنے ہی بچے ہوں گے اس ملک میں، سڑکوں پر رُلتے، ہماری آنکھوں کے سامنے خاک ہوتے، اور ہم اپنی ڈربی ریس میں اندھادھند دوڑی چلے جا رہے ہیں۔ سفر کا ہوش نہیں، راستے کا پتہ نہیں اور انجام کی فکر نہیں۔ مجھے جھرجھری آ گئی۔

یہ تو بھلا ہو ارم کا۔ اس نے مجھے ولید سے ملوا دیا۔ سال پہلے میں ایک کورس کے سلسلے میں یورپ گیا تو میری ملاقات وہاں ارم اور اس کے شوہر سے ہوئی۔ انتہائی نفیس لوگ۔ ایک آرٹسٹ، ایک معاشیات کا ماہر، دونوں اپنے اپنے شعبوں میں پڑھاتے تھے۔ 6 ہفتے کے دوران ہم اس طرح گھل مل گئے کہ ایک گھر کے فرد لگتے۔ وہیں مجھے ولید کے بارے میں معلوم ہوا۔ ارم کی جڑواں بہن ریما، ولید کی یونیورسٹی میں کلاس فیلو تھی۔ دونوں کی اچھی دوستی تھی۔

گریجویشن کے بعد ریما کی شادی ہوگئی اور ولید نوکری کے لیے یورپ چلا گیا۔ ریما کی شادی نہ چل سکی۔ جسم پر مار پیٹ کے داغ، دامن پر طلاق کا داغ اور کردار پر کیچڑ کے داغ۔ دو سال کے اندر اندر لڑکی داغی ہو گئی۔ ولید انہی دنوں پاکستان لوٹا تھا۔ گھر میں شادی کا موضوع گرم رہتا تھا۔ اس نے ریما سے شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ ولید کا خاندان تعمیراتی سامان کے کاروبار میں ملکی سطح پر ایک جانا مانا نام تھا۔ گھر میں تو سمجھو ایک بھونچال آ گیا۔ ایک عورت جو طلاق یافتہ بھی ہو، ایک بچے کی ماں بھی ہو، اس کو کیسے وہ اپنے لاڈلے ہونہار بیٹے کی دلہن بنا دیتے۔ ’اسکی امی نے کہا، میرے بیٹے میں کوئی نقص ہوتا تو میں آپ کی طلاق یافتہ بیٹی سے اس کی شادی کا سوچتی بھی۔ وہ لنگڑا ہے؟ کانا ہے؟ معذور ہے؟‘ ارم کی آواز کہانی سناتے ہوئے کانپ رہی تھی۔

ہم عیبوں کی بارٹر ٹریڈ کرنے والے لوگ ہیں۔ اس لیے بحیثیت مجموعی ہم ناخوش رہتے ہیں۔ خوبیاں ڈھونڈیں تو دوسروں میں خوبیاں دِکھیں نا۔ ہم ڈھونڈتے ہی کمیاں ہیں۔ اور خود ہماری ذات میں کوئی کجی ہمیں نظر نہیں آتی، سو حساب کبھی برابر بیٹھتا ہی نہیں۔ ہم اپنے اپنے زعمِ برتری کی صلیب اٹھائے تنہا پھرتے رہتے ہیں۔

ریما کیا چاہتی تھیں؟ میں نے ارم سے پوچھا۔

’عزت۔ وہ اتنا تھک گئی تھی وقعت کے ترازو میں اہل پائے جانے کے لیے تُلتے تُلتے کہ اس کو ولید کے نام سے وحشت ہونے لگی تھی۔‘ سال ڈیڑھ سال یہ تماشا چلتا رہا۔ ولید کے لیے ریما اور والدین کی رضا دونوں اہم تھے۔ پہلے والدین نہیں مانتے تھے پھر آخر ریما نے انکار کر دیا۔ وہ ولید سے، اس پورے قضیے سے کوئی واسطہ نہ رکھنا چاہتی تھی۔ ولید کے والد نے کہا وہ آئیندہ ریما کا نام اپنی زبان پر نہیں لائے گا۔ ولید مان گیا۔

حالات اپنے حق میں دیکھ کر انہوں نے اس کا رشتہ اپنے کسی جاننے والے کی بھتیجی سے طے کرنا چاہا تو بات بگڑ گئی۔ ولید اس پر تیار نہیں تھا۔ ”اگر یہ شادی نہیں کرنی تو ابھی اس گھر سے دفع ہو جاؤ!“ انہوں نے شرط رکھی۔ جانتے تھے حکم عدولی اس کی سرشت میں نہیں۔ سو اس نے ان کی شرط مان لی۔ اسی رات گھر چھوڑ دیا۔

اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی ارم کے شوہر اسد نے ولید کی سُن گُن رکھی تھی۔ گنجلک تعلق داری کے باوجود وہ دل سے ولید کو پسند کرتا تھا۔ اس نے مجھے پتہ دلوا دیا۔
”مل اسے جا کر۔ اور کچھ نہیں تو دنیا کو ایک مختلف لنز سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔“
اور یوں میں ایبٹ آباد ولید سے ملنے چلا آیا تھا۔

نامور خانوادے کا چشم و چراغ، فارن کوالیفائیڈ، دکان میں جوتوں پر جھاڑن مارتا نظر آئے تو حیرت تو بنتی ہے نا؟ مزے کی بات یہ ہے کہ میں کتنی ہی مرتبہ یہ منظر دیکھ چکنے کے باوجود حیران ہوتا، اور ولید میری حیرت سے ہر بار محظوظ ہوتا۔

”ڈو یو نو، وٹ ایکچوئیلی بودرز یو؟“
(do you know what actually bothers you؟ )

ایک دن اس نے مسکراتے ہوئے مجھ سے پوچھا تھا۔
وٹ؟
(What؟ )
میں نے کندھے اچکائے۔

”دی آئیڈیا دیٹ یور کانسپٹ آف بائینری ڈیفینیشن آف سکسیکس کڈ بی رانگ۔ دی پاسیبلیٹی دیٹ دئیر کڈ بی آ ہول ورلڈ یٹ ان نون ٹو یو۔ دیٹ بودرز یو۔“

(The idea that your concept of binary definition of success could be wrong; the possibility that there could be a whole world yet unknown to you; that bothers you۔ )

پھر وہ دھیمے سے مسکرایا۔ ”خود کو عاجز سمجھنے سے گھبراتے ہو۔ اپنے علم کی محدودیت کو قبول کر لینے سے خائف ہو۔ نہ ڈرو۔ حیرت اور عاجزی تو ایمان کی بڑی گہری سہیلیاں ہیں۔ بڑے کام کی چیزیں ہیں۔“

میں خاموشی سے پشاوری قہوے کی چسکیاں لیتا گیا۔
کچھ ماہ پہلے ایک دن اسی موضوع پر پھر بات چھڑ گئی۔ میں اس کے طرززندگی کو غیر معقول گردان رہا تھا۔ وہ مجھے ایسے پچکار رہا تھا جیسے کسی بچے سے مخاطب ہو۔ میں مزید چڑ رہا تھا۔

”دیکھو، میں تمہاری بات سمجھ رہا ہوں۔ اور تم جانتے ہو کہ میں دل سے تمہارے خلوص کا قائل ہوں، اس لیے اس موضوع پر تم سے مکالمہ ہو پاتا ہے۔ ورنہ اب میں اس بارے میں کسی بحث میں نہیں الجھتا۔

تم سمجھتے ہو میں زندگی ضائع کر رہا ہوں۔ ایسا تم اس لیے سمجھتے ہو کیونکہ تمہاری اور میری پروڈکٹو لائف
Productive life
کی تعریف بہت مختلف ہے۔ تم کارپوریٹ لائف یا کنزیومراسٹ سوسائٹی کی ریٹ ریس (rat race ) کو پروڈکٹیوٹی گردانتے ہو۔ میں نہیں گردانتا۔ ”

”تم کس چیز کو پروڈکٹوٹی کی معراج مانتے ہو؟“
”شکر کی توفیق کو۔ ’لعلکم تشکرون‘ کے ایجنڈا کو۔“

میں بھونچکا رہ گیا۔ ولید میرے تاثرات سے بے نیاز بولتا چلا گیا۔ ”سو آئی ڈو وٹ کیپس میں موسٹ الائینڈ ود دیٹ ایجنڈا (So I do what keeps me most aligned with that agenda) ۔ آسائش، امارت، تونگری، اگر شکر کی توفیق کے پیمانے ہوتے تو ایمان لانے والوں میں ہر دور میں امراء سب سے پہلے ہوتے۔ یہ سب بے معنی سوشل سٹینڈرڈز ہیں۔ جسٹ ڈو وٹ میکس یو موسٹ گریٹ فل، موسٹ مائینڈ فل آف یور بلیسنگز، موسٹ اویئر آف بینگ الائیو۔ (just do what makes you most grateful،most mindful of your blessings; most aware of being alive! )“

اور پھر اس دن کے بعد میں نے دوبارہ کبھی اس کی چوائس آف لائف پیٹرن پر اعتراض نہیں کیا تھا۔ میں نے نناوے کے چکر میں پھنسا ایک دنیادار۔ میں نے کون سا شرابِ تشکر چکھی تھی جو اس کے سرور پر شک کرتا۔

یوں انجانے میں ہی میرے بتانِ بائینری۔ ازم (binaryism) میں تریڑ پڑنے لگی۔ وہ کیا بھلی بات کہہ گئے ہیں جمال احسانی:
یہ بات تیرے عشق نے سمجھائی کہ دنیا
کچھ اور ہے محروم و میسر کے علاوہ

میں گہرائی نہیں رکھتا۔ میرے دکھ سکھ، لاگ لگاؤ، وسوسے اور یقین نما گمان، سب چھلکتے پھرتے ہیں۔ سو اب جہاں گہرائی کا امکان نظر آ رہا تھا، میں نے ڈیرے ڈال دیے تھے۔ کچھ نہ کچھ فیض ہاتھ لگ ہی جائے گا۔ امید بھی تو ایمان کا ہی ایک درجہ ہے نا!

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •