ورتھ وائل ٹرانزیکشن

ابھی شعبان کا نصف ہی ہوا ہوتا ہے کہ لاہور کی سڑکوں پر رمضان کے آثار دِکھنے لگتے ہیں۔ جگہ جگہ گداگروں کے جھنڈ کے جھنڈ۔ کوئی چوراہا، کوئی ٹریفک سگنل، کوئی اسپتال، کوئی خریداری کا مرکز۔ کسی جگہ مانگنے والوں سے مفر نہیں۔ اور مسئلہ صرف یہیں تک رہتا تو شاید کوفت سنبھالی بھی جاتی، بات تو اب یوں ہے کہ سوالی سوال کم کرتا ہے دھونس سے زچ زیادہ کرتا ہے۔

اب تو پھر باقاعدہ روزے شروع ہو گئے تھے۔ ایک تو مئی کی چلچلاتی گرمی، اوپر سے دفتر کی چخ چخ۔ اور پھر یہ زارا کی افطار پارٹیز کے چونچلے۔ نیند یوں بھی پوری نہیں ہوتی، پیٹ خالی اور پھر سڑک پر یہ گداگروں کی غنڈہ گردی۔ زید نے جھنجلا کر پھر سے ہارن بجایا۔ اشارے پر رکی اگلی گاڑی والے نے شیشہ نیچے گرایا اور ہاتھ باہر نکال کر ایک نازیبا اشارہ کیا۔ اس نے جواباً ایک ننگی گالی بکی۔ اشارہ جیسے اسی گالی کا منتظر تھا، جھپاک سے سبز ہو گیا۔ زید کا پاؤں ایکسلریٹر پر جا ٹکا۔

سپیڈ ہی تو زندگی ہے۔

Read more

رنگ کی رنگائی

"دادی، پارٹیشن کا فیلنگ کیا بہت ہی تکلیف دہ تھا؟ آئی مین، خود ہی تو آپ لوگوں نے کوشش کی الگ ہونے کی. جب الگ ہو گئے تو بٹوارے کا دکھ پال لیا. پھر پوری عمریں پاکستان کے لیے شکرانہ ادا کرتے، اور گرداس پور کو یاد کر کے آہیں بھرتےگزار دی. یہ کیا بات…

Read more

مجھے راحت کے انتظار کا روگ ہے

کہانی شروع معلوم نہیں کہاں سے ہوئی تھی لیکن جب ہماری پہلی ملاقات ہوئی تو میری عمر 23 برس تھی۔ فیضان کو اسکول داخل کرائے ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا تھا، اور ہم دونوں ماں بیٹا اس تجربے سے نڈھال تھے۔ اگر ابا میاں کی ناراضگی کا ڈر نہ ہوتا تو شاید اس پہلے دن…

Read more