ننھی فرشتہ اور پی ٹی ایم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ٹی ایم کے محسن ڈاور اور علی وزیر ننھی فرشتہ کے قتل اور جنسی زیادتی کو لے کر جو سیاست چمکا رہے ہیں وہ ایک بدترین کام ہے۔ فرشتہ پختون نہیں بلکہ ہماری بیٹی ہے اور وہ ہر ایسے والدین کی بیٹی ہے جن کے گھروں میں فرشتہ ایسی بیٹیاں موجود ہیں۔ پی ٹی ایم جس مقصد کے لئے قائم کی گئی اور قبائلی علاقہ جات کے بے بس لوگوں کے لئے جس طرح آواز بلند کر رہی ہے، تمام جمہوریت پسند پاکستانیوں نے اس میں اپنی آواز ملائی۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے پی ٹی ایم کو اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے باوجود اپنی صفوں میں جگہ دی۔ پی ٹی ایم کا قومی میڈیا پر بلیک آوٹ کیا گیا سوشل میڈیا پر پاکستانیوں نے منظور پشتین کو کوریج دی اور پی ٹی ایم کا ساتھ دیا۔

پولی کلینک ہسپتال میں معصوم فرشتہ کے پوسٹ مارٹم کو لے کر جس طرح معاملہ کو پختون قوم پرستی کا رنگ دیا جا رہا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان اور وفاق کے خلاف ہے۔ پاکستانی فوج پنجابیوں یا کسی دوسری قومیت کی فوج نہیں پاکستان کی فوج ہے۔ فوجی جنرلوں کی ناقص حکمت عملیوں پر صرف پختون نہیں تمام محب وطن پاکستانی تنقید کر رہے ہیں۔

پاکستان دباؤ کا شکار ہے اور ملک دشمن قوتیں پاک فوج اور ایٹمی اثاثوں کو ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ پی ٹی ایم کے راہنماؤں کو سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر ووٹ کو عزت دو کی جدوجہد کرنا چاہے نہ کہ ننھی فرشتہ کا نام لے کر پختون قوم پرستی کو ہوا دی جائے۔ پاک فوج میں صرف پنجابی نہیں ہیں۔ کتنے فیصد کمانڈنگ افسر پختون ہیں پی ٹی ایم کو اس کی خبر بھی یقینی طور پر ہو گی۔ پنجاب بھر میں ایک کروڑ کے لگ بھگ پختون اطمینان کے ساتھ اپنے کاروبار کر رہے ہیں۔ پی ٹی ایم کے راہنما اپنا فوکس تبدیل کریں اور جس ایجنڈے کو لے کر پی ٹی ایم قائم کی گئی تھی اس پر قائم رہیں۔

جو ظلم فرشتہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہوا وہ ظلم کے پی کے میں، سندھ میں، پنجاب میں اور ملک کے تمام علاقوں میں ہوتا ہے اور معاشرہ اس پر ردعمل بھی ظاہر کرتا ہے۔ فوج حکمت سازوں کی غلط پالیسوں کو ہدف بنائیں لیکن فوج کو ہدف نہ بنائیں۔ فوج میں صرف سیاسی انجئنرنگ کرنے والے افسر نہیں بلکہ ہمارے نوجوان بھائی اور بیٹے بھی ہیں جو اپنی نقد جانیں اس ملک کے لئے قربان کرتے ہیں۔ یہ نوجوان فوجی پختون بھی ہیں اور پنجابی بھی، سندھی بھی ہیں اور بلوچی بھی۔

اسٹیبلشمنٹ کے حکمت ساز معاشی بحران کی وجہ سے بند گلی میں پھنس چکے ہیں۔ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھا کر سیاسی قوتوں کو حقیقی جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنا چاہے نا کہ فوج کو ہی ہدف بنا لیا جائے۔ شام، عراق اور لیبیا میں جو انسانی المیہ رونما ہو چکا ہے وہ کمزور فوج کی وجہ سے ہے۔ فوج تو ہمیشہ رہے گی پاکستان کی فوج نہیں ہو گی تو بھارت کی ہو گی۔ پی ٹی ایم سیاست کرے لیکن پاکستان کی قیمت پر نہیں اور نہ ہی پختون قوم پرستی کی قیمت پر اور یہی پاکستان اور پختونوں کے مفاد میں ہے۔

جدوجہد غلطیوں کو درست کرنے کے لئے ہونا چاہے، جدوجہد پوری فوج کو ہدف بنانے کے لئے نہیں ہونا چاہے۔ پی ٹی ایم والے اگر ننھی فرشتہ کی آڑ لے کر نفرت پھیلائیں گے تو وہ اپنے سچے اور حقیقی مطالبات پر حاصل ہونے والی قومی حمایت کھو دیں گے اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ بات سچ ثابت کر دیں گے پی ٹی ایم کے بعض لوگوں کا ایجنڈا وہ نہیں جو ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •