عظیم گلوکار مہدی حسن خان صاحب کی داستان ِ حیات
( 18 جولائی 1927 تا 13 جون 2012 )
ابتدائی دور
تقریباً سات دہائیوں سے بھی قبل کا ذکر ہے کہ راجھستان (انڈیا) کے نامور گویوں کے گھرانے کا چھ سالہ کم سن بچہ جو اپنے والد استاد عظیم خاں کا منہ چڑھا تھا بڑے زعم میں اپنے باپ سے مخاطب ہوا۔ اجی آپ کیا گاتے ہیں میں بھی گا سکتا ہوں۔ میں ایک ”خیال“ بنا کر لایا ہوں۔ (موسیقی کی ایک قسم) پوچھنے پہ اس بچہ نے ”پوربی زبان“ میں اپنا تین تال پہ بنایا ہوا خیال سنایا۔
تو جارے بگلا جا
آوت ہے بڈھا تیرا
اڑا۔ وٹ ہے بگلا
اس کا الاپا راگ سن کر کلاسیکی موسیقی کے استاد باپ نے بلاتاخیر اسی دن سے اولاد کو اپنی شاگردی میں لے کر باقاعدہ موسیقی کی تعلیم شروع کر دی۔
اپنے والد استاد عظیم خاں اور چچا اسماعیل خاں کی زیرِ تربیت ”قدرتی طور پر سروں کی بیش بہا دولت سے مالا مال“ یہ بچہ مُسلسل ریاض سے ایک دن اپنے کمال کو پہنچا اور موسیقی کی دنیا میں گائیکی (بالخصوص غزل کا) ”بے تاج شہنشاہ“ قرار پایا۔
اس عظیم فنکار کا نام ”مہدی حسن“ ہے۔ جنہیں ان کی گائیکی کی عظمت کے حوالے سے دنیا ”خان صاحب“ کے نام سے پکارتی ہے۔ ان کی نیم کلاسیکی راگوں میں گندھی غزلوں کی گائیکی کا انداز سب سے منفرد ہے۔ جو انہیں اپنے دور کے تمام فنکاروں سے جدا کرتا ہے۔ ان کی فنی مہارت کی مثال دشتِ غزل میں چابکدستی سے چوکڑیاں بھرنے والے اس غزال کی سی ہے جس کے پیش رو تو بہت سے ہیں مگر ہم سر کوئی نہیں۔ ان کی گائیکی کم از کم پچاس برسوں سے موسیقی کی دنیا میں راج کر رہی ہے۔ ان کے انتقال کی خبر نے موسیقی کی دنیا میں گہری سوگواری پھیلا دی مگر ان کی آواز کے سحر کا جشن رہتی دنیا تک برقرار رہے گا۔ بلاشبہ مہدی حسن جیسے فنکار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔
مہدی حسن کی پیدائش راجھستان (انڈیا) کی ریاست منڈاوا (جے پور) کے ایک چھوٹے سے گاؤں لونا میں 18 جولائی 1927 ء میں ہوئی۔ ان کا تعلق منڈاوا (موجودہ جے پور) کے مہاراجہ کے دربار میں سے وابستہ خاص گویوں سے تھا اور ان کی دادا پردادا ”خاندانی کلاوت“ (کلا کا مطلب فن ہے اور وت استاد کو کہتے ہیں۔ ) جو مہاراجوں کے گھرانوں کو موسیقی کی تعلیم دیا کرتے رہے تھے اور دھرپد گائیکی (جو ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی قدیم ترین صفت سمجھی جاتی ہے ) کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔
مہدی حسن صاحب اسی کلادت گھرانے کی سولہویں پیڑھی ہیں۔ یہ وہ دور تھا کہ جب غیر منقسم برصغیر کی ریاستوں کے مہاراجے اور جاگیردار اپنے علاقوں کے فنکاروں، شاعروں اور گویوں کی سرپرستی کیا کرتے تھے۔ مہدی حسن صاحب کے گھرانے کو راجھستان کے مہاراجہ (جے پور ریاست) کی سرپرستی حاصل تھی۔ ان کے دادا انعام خان صاحب مہاراجہ بان سنگھ کے درباری اور خاص گویے تھے۔ مہاراجہ کی جانب سے اپنی ریاست کے فنکاروں کی دوسری ریاست یا ممالک جانے کی مناہی تھی۔
یہ ان کی راجپوت راٹھور انا کی عزت کے منافی بات تھی کہ کسی اور کی سرپرستی میں ان کی ریاست کے فنکار کی سرپرستی ہو۔ تاہم ان کے دادا نے راجہ سے بروڈا نیپال جانے کی اجازت طلب کی۔ ساتھ ہی ان کو یہ بھی سمجھایا گیا کہ ”یہ تو ان کی عزت کی بات ہے کہ ان کا گویا کسی دوسری ریاست کا استاد بن کر جا رہا ہے۔ “ تو بات مہاراجہ کو سمجھ آ گئی اور یوں علی امام خان نیپال کے راجہ کے استاد کے درجہ پہ فائز ہو کر روانہ ہوئے اورکئی دوسری ریاستوں اندور، بروڈا وغیرہ میں فن کا مظاہرہ کیا۔ ادھر پو پی میں مہدی حسن صاحب کے والد عظیم خان اور چچا اسماعیل خان نے وہاں کی چھوٹی ریاستوں مثلاً منکا پور، میسور، سی پی، جٹاپور اور بجوال وغیرہ میں موسیقی کی استادی اور فن کے مظاہرہ کا بیڑا اٹھایا۔
استاد عظیم خان نے دو شادیاں کیں۔ مہدی حسن ان کی پہلی بیوی کی اولاد ہیں۔ ان کے علاوہ بڑے بھائی پنڈت غلام قادر اور ایک بہن بھی تھیں لیکن ابھی مہدی حسن صرف آٹھ برس کے تھے کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ والد نے دوسری شادی کی جس کے نتیجہ میں دو لڑکیاں اور دو لڑکے اور ہوئے۔ جب موسیقار باپ کو بیٹے کا فن اور رجحان چھ سال کی عمر سے ہی نظر آنے لگا تو انہوں نے سخت تربیت شروع کر دی۔ اور یوں صبح تین چار بجے فجر کی نماز سے قبل ہی سے موسیقی کی تعلیم اور وابستہ عملی سرگرمیاں شروع ہو جاتیں لیکن یہ دلچسپی یک طرفہ نہیں تھی، مہدی حسن کو بھی موسیقی سے دیوانگی کی حد تک عشق تھا۔ 1970 ء میں یاسمین طاہر کو دیے ریڈیو انٹرویو میں کہتے ہیں۔
” بچپن میں ایک دفعہ والد صاحب نے بازار میں سودا سلف لینے کے لیے بھیج دیا کہ جاؤ سگریٹ پان لے آؤ۔ بازار سے گزرتے ہوئے لوگ مجھے حسنِ انداز میں دیکھتے تھے، وہ والد صاحب سے پوچھنے پر مجبور ہو گئے کہ ’خاں صاحب یہ آپ کا چھوٹا بیٹا کہیں پاگل تو نہیں۔ ‘ انہوں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں۔ تو انہیں لوگوں نے بتایا ’جب وہ (مہدی حسن) بازار سے گزرتا ہے۔ اس کاسر ہلتا ہے، چٹکی بجتی رہتی ہے۔ منہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ کسی کی طرف نہیں دیکھتا۔ شکل بنتی رہتی ہے‘ ۔ جس پر والد صاحب نے کہا ’نہیں یہ اپنے کام میں لگا رہتا ہے۔ ہر وقت (ذہن میں ) طرز بناتا رہتا ہے‘ ۔ “
مہدی حسن خان صاحب نے پہلی بار اپنے فن کا مظاہرہ آٹھ سال کی عمر میں اپنے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر کے ساتھ مہاراجہ بروڈا کے دربار میں 1935 میں کیا۔ چالیس منٹ کے اس فنی مظاہرے میں دھرپد خیال گائیکی میں بسنت پچھم راگ پیش کیا گیا۔
یہ ہی وہ دن تھا جب انہیں ”درباری گویوں“ میں شمار کیا جانے لگا۔ ان کی شمولیت اور فن کا اعتراف سونے کے کڑے پہنا کر کیا گیا۔ اس کم عمری کا تقاضا شرارتیں اور چلبلاہٹ تھی جو وہ کرتے تھے لیکن بقول مہدی حسن ”میں آٹھ برس میں ذہنی طور پہ چالیس برس کا تھا۔ “ دس برس کی عمر میں ان کے ”لنگوٹیا یاروں“ کی عمر میں ان سے تگنی بلکہ چگنی ہوتی تھیں۔ کم عمری میں بھی وہ خاں توکل خاں جیسے بزرگ اور سلجھے موسیقاروں کو پسند کرتے تھے۔ بچپنے میں بھی ان کا سارا وقت (ماسوا تین چار گھنٹوں کی نیند کے ) تعلیم و تربیت کے حصول میں صرف ہوتا۔ علی الصبح تین چار بجے صبح سے پہلے شروع ہونے والی تعلیم کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا۔
اس دوران گھر میں استاد ہندی اور سنسکرت کی تعلیم دینے آتے تھے۔ مہاراجوں نے ان کے والد عظیم خان صاحب کو مشورہ بھی دیا کہ ان کو کالج بھیجا جائے تو انہوں نے صاف کہا۔ ”ان کو جو تعلیم ملنی چاہیے وہ ہم دے رہے ہیں، ان کو نہ ہمیں وزیربنانا ہے نہ منشی“ اس طرح اردو غزل کے اس اہم گائیک نے اردو زبان پاکستان میں اپنے شوق سے پڑھی اور ریڈیو پاکستان کی ملازمت کے دوران مسلسل مشق سے زبان اور تلفظ کی ادائیگی کو بہتر سے بہتر کیا۔ مہارت سے گائی مقبول غزلیں ان کی محنت کا ثبوت ہیں۔
دنیائے موسیقی کا شہنشاہ پہلوانی کے اکھاڑے میں
مہدی حسن صاحب کی وابستگی موسیقی ہے۔ جس سے تعلق رکھنے والوں کو بالعموم حساس اور نازک طبع تصور کیا جاتا ہے۔ کُشتی اور اکھاڑہ سے موسیقی کا ملاپ اکثر کو گراں بھی گزرتا ہے، لیکن موسیقی کے سُروں کی تسخیر کرنے والے مہدی حسن کی جوانی کا خاصا بڑا حصہ جسمانی ورزش اور اکھاڑے میں گزرا ہے۔ جس کا اظہار انہوں نے فخریہ اپنے انٹرویوز میں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ”گویا بھی پہلوان ہوتا ہے“
ان کی گفتگو کے مطابق گانا انس کا کام ہے۔ سانس درست ہو گا تو صحیح گایا جاسکے گا۔ ان کے خاندانی طریقہ کے مطابق تنفسی نظام کو بہتر بنا کر دراصل گانے کی بنیاد بنائی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے چچا ہر روز باقاعدہ تین میل کی دوڑ اور دو ہزار بیٹھکیں لگواتے تھے۔ اس کے علاوہ سات آٹھ آدمیوں سے زور آزمائی بھی کرواتے جس میں خود میدی حسن صاحب کا نمبر سات تھا جبکہ بھائی پنڈت غلام قادر کا آٹھواں۔ غذا کا بھی خاص خیال رکھا جاتا تھا۔
مثلا چھ سیر دودھ (جو ایک سانس میں ختم کرناہوتا تھا) تین پاؤ یا سیر اصلی گھی اور اتنا ہی گوشت کے علاوہ تین پاؤ بادام روزانہ کی خوراک تھی۔ اتنی جسمانی مشقت کے بعد کھانا ہضم کرنا کوئی اتنا مشکل نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مہدی حسن صاحب نوجوانی میں چھریرے بدن کے تھے۔ بالعموم دوسرے گویوں کے خاندان میں جسمانی مشقت کے ذریعہ سانس کو صحیح رکھنے کا طریقہ مروج نہیں۔ بقول مہدی حسن صاحب کہ یہی وجہ ہے کہ سب گویے پچاس پچپن سال کی عمر میں اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔
مہدی حسن صاحب نے طویل عمری کے لیے جسمانی مشقت نہیں بلکہ موسیقی کابھی مسلسل ریاض جاری رکھا۔ چاہے انہیں عوامی سطح پر فن کے مظاہرہ کا موقع ملا ہو یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سُروں کے عشق اور مسلسل ریاض نے انہیں دنیائے موسیقی کو مسخر کر نے کی طاقت دی۔ ان کی اگرآواز بیٹھی ہوئی بھی ہو تو وہ کبھی بے سرے نہیں ہوئے۔
دنیا کے مشہور طبلہ نواز عبدالستار خان تاری نے جو مہدی حسن کے سُر کے متوالے ہیں اور ان کے گانے کے ساتھ طبلہ کی سنگت دیتے رہے ہیں کچھ ان الفاظ میں مہدی حسن صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ”ان کے ریاض کی سطح کی وجہ سے چند ہی لوگ اس مقام پر پہنچ پاتے ہیں۔ وہ مشکل دھنیں ترتیب دیتے تھے۔ ان کے ساتھ طبلہ بجانا بہت مشکل تھا (کیونکہ) ان کی موسیقی میں گم ہو کے یہ بھول جانا آسان تھا کہ آپ کیا کر رہے ہیں اور پھر وہ (مہدی حسن) طبلہ کی مہارت کے متقاضی ہوتے تھے اور ان کے ساتھ طبلہ بجانے کے لیے آپ کو ہمت درکار تھی کیونکہ وہ اگر اچھے موڈ میں ہوں تو گھنٹوں گھنٹوں گاتے، ان کے ساتھ طبلہ بجانا جذباتی اور موسیقیت سے بھرپور سفر ہے۔ اکثر ان کے گانے سے میری موسیقی نم ناک ہو جاتی تھی۔ “


