افطار پارٹی: بار بار آزمائے ہوئے کو پھر آزمانے کی بھی کوئی حد ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذیشان حسین نے کالم ’’افطار پارٹی عوام کے ساتھ مذاق تھا‘‘ لکھا۔ تھوڑی بہت رسم و راہ بھائی ذیشان حسین سے ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کے مارکسسٹ‌ اپروچ سے سرسری سہی لیکن واقفیت رکھتا ہے۔ اسی تناظر کو ذہن میں رکھتے، میں نے ٹی وی سیریز کی زبان میں‌ اس کالم کی ’’ون لائن‘‘ کچھ یوں نکالی:
’’یہ وہ جماعتیں ہیں، جنھوں نے ماضی میں جمہوری حقوق کے نام پر غاصبوں کے خلاف نعرہ لگا کے عوام کو متوجہ کیا، بالآخر انھی غاصب قوتوں سے ساز باز، یا غاصب قوتوں کی شرائط پر اقتدار حاصل کیا‘‘۔

اب اس ’’ون لائن‘‘ کو سمجھنے کے لیے یا تو قاری نے گزشتہ تیس سال کی سیاست کا منظر نامہ دیکھ رکھا ہو، یا بھائی وجاہت مسعود کی طرح ہر سانحے (واقعے) کی تاریخ ازبر کر رکھی ہو۔ بھائی وجاہت مسعود اپنا قلم موتیے اور گلاب کے عرق میں بھگو کے لکھتے ہیں۔ ان کے لفظ لفظ سے اُمید کی خوش بو آتی ہے۔ دھیمے لہجے میں قاری سے یوں مخاطب ہوتے ہیں، جیسے سوال کرتے ہوں، در حقیقت جواب دے رہے ہوتے ہیں۔ اس پہ مستزاد کہ اُن کی قوی یاد داشت سے بعض اوقات ہم جیسوں کو حسد محسوس ہوتا ہے، جنھیں کبھی مکتب کا سبق یاد نہ ہوتا تھا۔ اسی یاد داشت کی بنا پر انھوں نے ہم جیسے طالب علموں کو یاد دلایا کہ ماضی میں کب کب غاصبوں نے جمہوری قوتوں کو کیسے کیسے پامال کیا، اور کب کب جمہوری قوتوں نے ٹھوکر کھائی۔ ان کے کالم سے اقتباس نقل نہیں کر رہا، قارئین سے گزارش ہے کہ ان کا یہ جوابی کالم ’’افطار پارٹی عوام کے ساتھ مذاق نہیں تھا‘‘، پڑھ لیجیے۔ اس کالم کے آخر میں انھوں نے بلاول اور مریم پر شک کرنے کے بہ جائے، ان سے آس لگائی ہے۔ کچھ برا نہیں کیا۔ اُمید پرست ہونا اچھی بات ہے، اور پھر جسے جمہور کی حمایت حاصل ہو، آئین و قوانین اجازت دیتے ہوں، راج کرنا اس کا حق ہے۔

میں کہوں کہ ہم سے بزدِل جلد مایوس ہو جاتے ہیں۔ بھائی وجاہت مسعود میں یہ خصوصیت رائے وِنڈ فیم تبلیغی جماعت کے مبلغین کی سی ہے، کہ اُسی طرح اُمید دلاتے ہیں، کہ آنے والا کل جنت نشاں ہو گا۔ آپ لاکھ کسمسائیں، نراش ہوں، وہ لجاجت سے ’’اُمید‘‘ پر اصرار کیے جائیں گے، اور آخر اس پہ تو قائل کر ہی لیں گے، کہ ’’ارادہ تو باندھیے‘‘۔ قاری ’’اُمید‘‘ کا ارادہ باندھ ہی کے اُٹھتا ہے۔ اُمید پرست ہونا نعمت ہے۔ ’’اُمید‘‘ ہی جیے جانے کی وجہ ہے۔ نومیدی کو کفر قرار دیا گیا ہے تو بجا تو طور پہ کہا گیا ہے۔ جینے کا ’’ارادہ‘‘ کرتے رہنا چاہیے، لیکن دوسری طرف ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جانے کی وکالت کرنے والے کے پاس، اس حق میں کوئی دلیل بھی تو ہو!؟

ایسے ہی جیسے تبلیغیوں کی برسوں کی ریاضت کے با وجود کیے گئے ’’ارادوں‘‘ نے قوم کو رتی بھر نہ سدھار کے دیا، بھائی وجاہت مسعود جیسے اُمید پرستوں نے جمہوری قوتوں کے حق میں لکھ لکھ قرطاس روشن کیے، مجال ہے وقت آنے پر ان قائدین نے انھی آمری قوتوں سے ساز باز نہ کی ہو، جن کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بچہ بچہ مقروض، ہر پیر و جوان غلام ہے۔ وہی جنھوں نے ان سیاست دانوں کی نرسریاں لگائیں، انھیں تن آور شجر بنایا، پھر انھیں جڑ سے کاٹنے کی رسم ڈالی۔

ہر بار یہی اُمید کہ اب ان قوتوں کا احتساب ہو گا، جنھوں نے پاکستان کے وسائل پہ قبضہ جمایا ہوا ہے۔ وہ جو اپنے آپ کو عدالتوں، عدالتی فیصلوں، احتساب سے ماورا سمجھتے آئے، سمجھتے ہیں۔ ضیا الحق ہوں، مرزا اسلم بیگ، حمید گل ہوں، اسد دُرانی ہوں، پرویز مشرف ہوں یا دِیگر؛ ہزار بار ببانگ دُہل اپنے گناہ کا اقرار کرتے آئے، مجال ہے کسی ریاستی ادارے نے پکڑ کی ہو، حتا کہ اصغر خان کیس کا فیصلہ بھی عدالت کی بے بسی کا مذاق اڑاتا رہا۔ یہ عدالتی فیصلوں سے بے نیاز ہیں۔

پھر یہ دیکھیے کہ جمہوریت پسند اس بات کو بھی نظر انداز کرتے آئے، کہ کون کون سا سیاست دان کب کب اپنا وزن کس کس غاصب کے پلڑے میں ڈالتا آیا۔ تاریخ و ادب کے طالب علم کے طور پہ دیکھا جائے، تو ’’ہر فرعون را موسیٰ‘‘ کی مثل سامنے آتی ہے۔ بھائی وجاہت مسعود دینیات کے طالب علم نا سہی، پھر بھی جانتے ہی ہوں گے، فرعون کے گھر میں پلنے والے موسیٰ نے جب فرعون سے بغاوت کی، تو کتنی بار اس کے شرائط پر اقتدار کی پیش کش کو قبول کیا!

شاید بھائی وجاہت مسعود اس بے ربط تقریر سے مدعا عنقا پائیں، تو میں ٹی وی سیریز کی زبان میں ’’ون لائن‘‘ پیش کرتا چلوں، تا کہ میرا سوال واضح ہو پائے۔ ’’یہ مریم، یہ بلاول جنھیں آپ جمہوری عمل کا مستقبل بتا رہے ہیں، کیا ضمانت ہے کہ یہ وقت آنے پر انھی قوتوں سے معاہدہ نہیں کر لیں گے، جن قوتوں نے انھیں بند گلی میں دھکیل کے افطار پارٹی پہ یک جا ہونے پہ مجبور کیا ہے؟‘‘

کسی کو جاننے کو لیے اس کے قول و فعل کو دیکھ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ان سیاست دانوں، ان سیاسی جماعتوں کا ماضی بتاتا ہے، یہ جب جب اپنے قول و فعل کے ترازو میں تولے گئے، وزن میں کم نکلے۔ جمہوریت پسند ہونے کے ناتے سے یہ جذبہ بر حق ہے، کہ آمریت کے خلاف جد و جہد جاری رکھنی چاہیے، لیکن آزمائے ہووں کو بار بار بار آزمانے کی بھی تو کوئی حد ہو گی!؟ یہ طالب علم رہنمائی کا طالب ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 268 posts and counting.See all posts by zeffer-imran