پاک لوگوں کی سرزمین پر قصور وار فرشتہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب 15 مئی کی شام گل نبی تھانہ شہزاد ٹاؤن پہنچا تو اور رپورٹ درج کروانے کی کوشش کی کہ اس کا دس سالہ ننھا فرشتہ نہیں مل رہا تو تھانہ شہزاد ٹاون والوں نے اپنے بے پناہ وسیع تجربے کی روشنی میں اسے بتا دیا کہ آپ کی بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی۔ ظاہر ہے کہ پاک لوگوں کی سرزمین پر اسلام آباد جیسے سیف سٹی میں بچوں کے ساتھ جرائم کہاں ہوتے ہیں۔ ویسے بھی فرشتہ دس برس کی تھی۔ پولیس والوں نے سوچا ہو گا کہ اس عمر میں عشق عاشقی کے چکر میں پڑنے کے علاوہ بچے کیا کرتے ہیں۔

خیر گل نبی نے زیادہ غل غپاڑا مچایا کہ اس کی بچی مر گئی تو وہ بھی خودکشی کر لے گا۔ پولیس کو اس طرح ایموشنل بلیک میل کرنا غلط بات ہے۔ گل نبی کو سمجھنا چاہیے تھا کہ پولیس کو اس کی بچی کے بارے میں اس سے زیادہ علم ہے۔ وہ تو اس کی عزت بچانے کے لئے ہی کہہ رہے تھے کہ خواہ مخواہ محلے برادری میں وہ بدنام نہ ہو۔ بہرحال گل نبی نے زیادہ ہی ضد کی تو پولیس نے لاچار ہو کر چار دن بعد مقدمہ درج کر لیا۔ ہم کوئی امریکہ کینیڈا کی طرح بے غیرت تھوڑی ہیں کہ بچے کی گمشدگی کی اطلاع ملتے ہی زمین آسمان ایک کر دیں اور یہ بھی نہ سوچیں کہ ملک کتنا بدنام ہو گا۔

اگلے دن چند راہگیروں کو بچی کی لاش مل گئی۔ اس پر تشدد کے نشانات تھے۔ ریپ کے متعلق تو یہ بات ہمارے معاشرے میں مشہور ہے ہی کہ غلطی لڑکی کی ہوتی ہے۔ ریپ کی خبر ملے تو یہی کہا جاتا ہے کہ لڑکی نے کچھ کیا ہو گا یا ہیجان خیز کپڑے پہنے ہوں گے تو کسی شریف اور پاکباز نوجوان کو اپنے جذبات پر قابو نہیں رہا۔ پولیس نے بھی غالباً یہی سوچا ہو گا کہ اس قبائلی پٹھان کی لڑکی کا لباس ٹھیک نہیں ہو گا اس لئے کسی نے ریپ کر کے قتل کر دیا۔

اسلام آباد کی پولیس نہایت تجربہ کار ہے۔ اسے پتہ ہے کہ یہ بچیاں ہوتی ہی ایسی ہیں۔ ابھی دو ماہ پہلے اسلام آباد ہی کے علاقے بھارہ کہو میں ایک دو سال کی بچی نے ایک معصوم اور شریف ہمسائے کو اسی طرح جنسی ہیجان میں مبتلا کر دیا تھا اور اس نے بچی کو گلی سے اپنے گھر میں لے جا کر اس کا ریپ کر دیا۔ اس کی ماں اسے ڈھونڈنے نکلی تو بچی ہمسائے کے گھر سے روتے ہوئے نکلی اور اس کی شلوار خون میں لت پت تھی۔ ظاہر ہے کہ اس دو سالہ بچی ہی کی غلطی ہو گی۔ ورنہ ہمارے معاشرے میں شریف نوجوان بھلا کہاں اپنی مرضی سے ریپ کرتے ہیں۔

پتہ نہیں کیوں اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے ان تھانیدار صاحب کو معطل کر کے لائن حاضر کر دیا ہے۔ اگر ایسی ہی اندھیر نگری مچانی ہے تو پھر تو آئی جی صاحب سمیت تمام کمان کو بھی معطل کر کے لائن حاضر کر دیا جانا چاہیے جنہیں یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ چار دن سے ایک بچی غائب ہے اور اس کے ورثا کی رپورٹ درج نہیں ہو رہی۔ کیا ان کے پاس لاہور جیسا سسٹم نہیں ہے جو بھلے وقتوں میں وزیر اعلی کے دفتر کے توسط سے پولیس کی مانیٹرنگ کیا کرتا تھا؟

اب جب کہ فرشتے کی لاش مل گئی ہے تو اسے دفن کر کے معاملہ بھی دبا دینا چاہیے۔ ویسے بھی چھے روز پرانی لاش کے جسم کے کئی حصے جنگلی جانور کھا چکے ہیں، اس کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ مرتب کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے، تو شواہد کیا خاک ملیں گے؟ کیا چھے دن بعد ملنے والا ڈی این اے میچ ہو سکے گا؟ دو تین ملزم پکڑے ہیں اگر وہ مجرم بھی ہیں تو کیا ان کو بغیر شواہد کے سزا ہو سکے گی؟ اس لئے بیکار کی پھرتیاں دکھا کر کیا کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ قصور پولیس کا بھی نہیں ہے۔ قصور حکومت کا بھی نہیں ہے۔ قصور پھر فرشتے کا ہی ہے۔ پاک لوگوں کی سرزمین پر قصور وار فرشتہ ہے۔

بہتر یہی ہے کہ وہی کیا جائے جو سمجھدار والا میڈیا کر رہا ہے۔ سب کو بتایا جائے کہ بچی کا والد افغانی ہے اور اس نے جعلی کاغذات بنوائے ہوئے ہیں۔ بلکہ اسے اسرائیلی بتانا شروع کر دیں۔ بات اتنی غلط بھی نہیں ہو گی کیونکہ بعض روایات کے مطابق پشتون، بنی اسرائیل کا ہی ایک کھویا ہوا قبیلہ ہیں۔ اسے اسرائیلی بنانے کے بعد بلاوجہ شور مچانے والوں کی آواز جشن مچانے والوں کے شور میں دب جائے گی۔ پھر کوئی سرپھرا فرشتے کے لئے آواز بلند کرے تو اسے غیر ملکی ایجنٹ قرار دے کر اس کا بندوبست کر دیا جائے۔

ویسے یہ ناسمجھ والا میڈیا ہی فتنہ و فساد کا منبع ہے۔ بی بی سی پر ایک این جی او ساحل کی خبر چھپی تھی جس نے 2017 میں بچوں کے اغوا، ریپ اور قتل کے واقعات کے بارے میں اخبارات سے رپورٹ مرتب کر کے شائع کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر روز 9 سے زیادہ بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں اور 60 فیصد کیسز میں ایسا کرنے والے قریبی لوگ ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2017 میں بچوں کے اغوا کے 1039 واقعات سامنے آئے جبکہ لڑکیوں کے ساتھ ریپ کے 467، لڑکوں کے ساتھ ریپ کے 366، زیادتی کی کوشش کے 206، لڑکوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کے 180 اور لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کے 158 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 72 فیصد کیسز پولیس کے پاس درج کروائے گئے، 99 کیسز ایسے تھے جنھیں پولیس نے درج کرنے سے انکار کیا۔

جب اتنے کیسز کو پولیس درج کرنے سے انکاری ہے اور حکومت بچوں کے تحفظ کے لئے کوئی پالیسی بنانے سے منکر ہے تو ظاہر ہے کہ اس میں کوئی مصلحت ہی ہو گی۔ شاید وہ اقوام عالم میں ہمارے ملک کی عزت رکھنا چاہ رہی ہو گی۔ یہ حکمت ہماری سمجھ میں تو آ رہی ہے۔ لیکن ہمارا دماغ بھی کبھی کبھار بہک جاتا ہے۔

صبح سے یہ سوچے جا رہے ہیں کہ پچھلی مرتبہ سدوم نامی شہر میں جب ایک فرشتے پر وہاں کے لوگوں نے شہوت بھری نظر ڈالی تھی تو وہ شہر اللہ کے عذاب کا شکار ہو گیا تھا۔ اب ارض پاک میں تو گل نبی کے گھر کی ننھی فرشتہ کا رمضان کے مقدس مہینے میں ریپ بھی ہوا ہے اور قتل بھی۔ شاید اس قوم پر حضرت لوط کی قوم کی طرح آگ پتھر نہیں برسیں گے۔ ان پر زیادہ سخت عذاب آئے گا۔ اس قوم کے بچوں کا مقدر فرشتہ جیسا ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1136 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

––>