اسد عمر نجی محفلوں میں کیا کہتے پھرتے ہیں ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پر تماشہ نہ ہوا،اس بات کابہت ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ کر اچی کے قریب سمندر میں تیل اور گیس کا اتنا بڑ اذخیر ہ نکلنے والا ہے جوپاکستان کی آئند ہ پچا س سال کی انرجی کی ضروریا ت سے بھی زیا دہ ہو گا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے یہ خوشخبری مارچ کے چوتھے ہفتے میں ایک انٹرویو میں سنائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آئندہ چند ہفتوں میں تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت کی صورت میں لاٹری نکلنے والی ہے اوراگر ایسا ہوگیا تو پاکستان کے حالات بدل جائیں گے ۔

واضح رہے کہ یہ کام امریکی فرم ایگزون اور بین الاقوامی تیل تلاش کرنے آنے والی اطالوی کمپنی ای این آئی، پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کے ساتھ مل کر جنوری سے کررہی تھیں اور تیل تلاش کرنے کے لیے 280کلومیٹر دورسمندر میں کیکڑاون کے مقام پرڈرلنگ کر رہی تھیں۔ خان صاحب نے تو قدرے احتیاط سے کام لیا لیکن ان کے وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا جو اپنے لاابالی پن کی وجہ سے خاصے مشہور ہیں نے ڈینگ ماردی کے تین ہفتوں میں پاکستان کی قسمت پھرنے والی ہے دولت کی اتنی ریل پیل اور نوکریاں ہونگی کہ لینے والے کم ہونگے اور اگر ایسانہ ہوا تو آپ پانچ ہفتے بعد میری تکہ بوٹی کر دیجیے گا۔

وزیراعظم عمران خا ن کے ہفتہ کو اس بیان کہ تیل اور گیس کے حوالے سے کراچی کے ساحل سے اچھی خبر آنے والی ہے۔ ان کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے ان امیدوں پر یہ کہہ کر پانی پھیردیا ہے کہ کیکڑاون پر آف شور ڈرلنگ بند کر دی گئی ہے کیونکہ وہاں تیل کے ذخا ئر میں مطلوبہ کاربن نہیں ہے ۔وزیراعظم چند ہفتوں کے دوران کئی مر تبہ اپیل کر چکے ہیں کہ عوام خصوصی دعائیں کریں کہ وہاں سے تیل اور گیس کے ذخا ئر مل جائیں ۔

فی الحا ل تو پاکستانی قوم کا تیل نکل رہا ہے ۔آئی ایم ایف کے پروگرام کے حوالے سے ڈالر152روپے کی ریکارڈ سطح کو چھو چکا ہے ۔ ہوشربا مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی وجہ سے عوام سخت نالاں ہیں ۔کا روبارٹھپ ہو چکے ہیں اور سٹاک مارکیٹ بالکل بیٹھ گئی ہے، اس موقع پر تیل کے ذخائر نہ ملنے کی خبر بھی مایوسی میں اضا فہ کرے گی۔

خان صاحب نے اب یہ پھڑ بھی ماری ہے کہ ملک چلانے کے لیے اسی قوم سے پیسہ اکٹھا کرکے دکھا ؤں گا لیکن تحریک انصاف کی حکومت اور اس حوالے سے عوام کے لیے کو ئی اچھی خبر نہیں آ رہی ۔

آئل اینڈگیس ڈویلپمنٹ کمپنی کے سابق سربراہ پرویز اکمل نے انکشا ف کیا ہے یہ سمندر سے تیل نکالنے کی 14ویں ناکام کوشش ہے اور یہ متعلقہ اداروں کے کارپردازوں کی کج فہمی کا شاخسانہ ہے۔ یہ بات انتہائی افسوسنا ک ہے کہ ہم آنکھوں پر پٹی باندھ کر کروڑوں ڈالر ایسے منصوبوں پر خرچ کر رہے ہیں ۔ان کے مطابق اس سوچ کے پیچھے بعض مقامی کمپنیاں اور بیرون ملک سے تیل اور گیس کے معاملات سے جڑے مخصوص اداروں کے مفادات وابستہ ہیں ۔

اس منصوبے میں ڈرلنگ کرنے والے اطالوی ادارے ای این آ ئی اور امریکی فرم ایگزون کے تو وارے نیارے ہو گئے ہیں لیکن او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کو اس کے لیے بھاری قیمت ادا کر نا پڑ رہی ہے۔ واضح رہے کہ کیکڑاون سے تیل نکالنے کا چار کمپنیوں کا مشترکہ منصوبہ تھا اوریہ ڈرلنگ چارماہ کے بعد 15مئی کو مکمل ہوئی تھی اس بیکار منصوبے پر ایک اندازے کے مطابق 14ارب روپے خرچ ہوئے ہیں اور دس کروڑ ڈالر کیکڑاون میں پیچیدگیاں پیدا ہو نے کی بنا پر زیا دہ سیمنٹ اورلوہا استعمال کر نے کے باعث مز ید خر چ ہو ئے ہیں ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان پائی پائی کا محتاج ہے ۔ موجودہ حکومت نے اس بیکار منصو بے کے لیے گرین لائٹ کیونکر دی؟۔ ند یم بابر کا بھلا ہو کہ انھوں نے عوام کو حقیقت بتا دی لیکن کیا اس حوالے سے حکومت پاکستان کے متعلقہ ذمہ دار افسروں کے خلاف کوئی کارروائی ہو گی؟۔

قوم کو دانستہ طور پر لاعلمی میں یہ تاثر دینا کہ تیل نکلے گا اورآپ کے دن پھر جائیں گے۔حالانکہ اگر آف شورڈرلنگ سے تیل نکل بھی آتا تو اس پر نلکالگا کر نہ تو ملک میں ترسیل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی برآمد ۔تیل نکا لنے اور اسے مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے بھی ایک پورا انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے جس میں خاصا وقت لگتا ہے ، مزید برآں تیل کی پیداوار میں خودکفالت بذات خو د خوشحالی کی گارنٹی نہیں ،اگر ایسا ہوتا تو وینزویلا،نائیجیر یا اور لیبیا جیسے تیل سے مالا مال ممالک میں خو شحالی کا دور دورہ ہوتا ۔

تیل کی دولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اکانومی کے بنیادی انڈیکٹر اور نظام ٹھیک کر ناپڑتا ہے ۔ یہ درست ہے کہ ان ممالک میں جہاں کی آبادی پاکستان کے مقابلے میں بہت کم ہے وہاں تیل کی دولت کے ثمرات سمیٹنا عوام کے لیے نسبتاً آسان ہے لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں قرضوں اور پھران پر سود اور دفاعی اخراجات کے بعد کچھ نہ بچتا ہو اور آبادی میں تیزی سے اضا فہ ہی ہو تا جا رہا ہو، جہاں دہشت گردی ،عدم برداشت کے رویئے پنپ رہے ہوں اورسیاسی نظام میں محاذ آرائی انتہا کوپہنچی ہوئی ہو مزید یہ سیا سی حکومتوں کی خود مختاری سلب کر کے رکھی گئی ہو اور جمہو ریت محض نام کی ہو ۔

تیل کو ئی ایسا امرت دھارا نہیں ہے جس سے راتوں رات سب کچھ ٹھیک ہوجا ئے گا ۔ خان صاحب انتہا ئی مخلص لیکن سا دہ منش ہیں۔ انھیں غالبا ً اب یہ احساس ہو گا کہ پاکستان جیسے گنجلک مسائل کے شکا ر ملک کو چلانا خالہ جی کا گھر نہیں ہے ۔ انھیں یہ بھی احساس ہو گیا ہو گا کہ کرپشن کا ناسور ایک بنیادی مسئلہ ہے جو جڑیں کا ٹ رہا ہے لیکن اس سے بھی بڑامسئلہ نااہلی اور نالائقی ہے ۔پاکستان کو شوکت خانم ہسپتال یا نمل یونیورسٹی کی طرح چلانا ممکن نہیں اور نہ ہی یہ کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے کی دوڑ ہے لہٰذا انھیں زمینی حقا ئق کا ادراک کرکے اپنی حکمت عملی بنانی چا ہیے ۔

جو معاملا ت سرجری مانگتے ہیں اسپرین کی گولی دینے سے حل نہیں ہونگے، شا ید اسی بنا پر خان صاحب نے اسد عمر جو ان کے سالہا سال سے دست راست تھے سمیت پوری اقتصادی ٹیم کو عین آئی ایم ایف کے سا تھ مذاکرات کے دوران فارغ کردیا تھا ۔ اب انگلیاں اٹھ رہی ہیںکہ انھوں نے آ ئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سابق کار پردازوں کو لا کر 6ارب ڈالر کے عوض ملک کو گروی رکھ دیا ہے ۔ اسد عمر نجی محفلوں میں کہتے پھرتے ہیں کہ انھیں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط قابل قبول نہ تھیں اور وہ ان نام نہاد اقتصادی ماہرین میں سے نہیں ہیں جو پاکستان میں صرف اقتدار کے مزے کے لیے آتے ہیں اور بُلے لوٹ کر پھر واپس اپنے کاروبار چلانے بیرون ملک چلے جاتے ہیں ۔

غا لبا ً ان کا اشارہ عبد الحفیظ شیخ کی طرف ہے جو تقریباً تین سال تک آصف زرداری کے دور حکومت میں وزیر خزانہ رہے اور پھر منظر سے غائب ہوکر دبئی بیٹھ گئے وہاں ایک نجی ایکویٹی کے مدارالمہام ہیں جس میں کچھ بھا رتی سرمایہ کاروں کی بھی شراکت ہے ۔ یہ بات دیکھنے کی ہے ڈاکٹر حفیظ شیخ کے پچھلے دور وزارت خزانہ میں شرح نمو تقریباً 3.6فیصد تھی اب کیا تیر مار لیں گے ۔خان صاحب نے درست کہا کہ نظام بہتر کرنے کے لیے خا صی محنت اور قر بانی دینا پڑ ے گی لیکن ایسا کرنے کے لیے اس بات کا تو خیال رکھنا چاہیے کہ غریب آدمی کا کچومر نہ نکل جا ئے نیز یہ کہ نظام اور ٹیم سٹنٹ بازی کے بجائے میرٹ پر استوار کیے جائیں ۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •