حنا کے رنگ میں پھیل چکا لہو
کیا افغانی کا ریپ اور قتل جائز ہے؟ درندوں کے بیچ جب زندگی دم توڑتی نظر آئے۔ جب ہوس کے پجاری ننھی کلیوں کو مسلتے ہوئے شیطانی کارندے بن جائیں۔ جب زندگیوں اور عزتوں کے محافظ جرم کو قانون کا جامہ پہنائیں۔ جب شیطان کے سامنے انسانی شیطانوں کا جادو سر چڑھ کر بولے۔ جب زندگی کے حسیں رنگوں میں خون کے رنگت کی امیزش لازمی ٹھرے۔ جب انسان درندہ بن کے انسانیت کا خون کرے۔ جب ظلم مصلحت اور منافقت کے دبیز چادر تلے دب جائے۔ جب ظلم کی درجہ بندی قومیت کی آڑ میں ہو۔ جب انسانوں کی بستی سے انسانیت روٹھ جائے۔ تب ایسی بستی میں ایسے سوال لا معنی ہیں۔
پھر پنجوں میں ہے معصوم کلیان
ہنس رہا ہے ہوس کا خبیث شیطان
ٹپکے پھر منہ سے وہی رال حیوان
خون حوا سے بجھے پیاس انسان
تم عظمتوں کی بات کرتے ہو
جہاں والدین کے لئے بیٹی پیدا کرنا امتحان بن جائے۔ جس بستی میں نفس شیطان کا آلہ کار بنے۔ جہاں پردے کے اندر بھی ہوس کی نگاہیں جمیں۔ جہاں پہ حوا کی بیٹی ہوس کا سامان بنے۔ جہاں پہ حیا کی چادر تار تار ہو۔ جہاں بچیوں کے معصوم بچپنے ہوس کے کھیل بن جائیں۔ جہاں انسان درندوں کی شکل میں راج کرے۔ جہاں کا قانون جنگل کے قانون سے بدتر ہو جائے۔ جہاں انسانیت تعصب اور حیوانیت کی بھینٹ چڑھے اور سسک سسک کے مریے۔ جہاں لوگ مذہب کی آڑ میں اپنے مذموم عزائم پورے کریں۔ جہاں پہ ظلم کے خلاف بولنا غداری ٹھرے۔ جہاں منافقت اور ظلم راج کریں۔ جس بستی کے باشندے مظلوم کی بجائے ظالم کا ساتھ دیں۔ وہاں واعظ کی منبر پر بیٹھ کے ثوابوں کی بات بے معنی لگتی ہے۔
ہر نکڑ پہ چھپا ہوس کا درندہ
شکاری تاک میں، جال میں پرندہ
رگوں میں سرایت کرتا زہر خزندہ
کہ مذہب بھی بن چکا جو دھندہ
تم ثوابوں کی بات کرتے ہو
جب مقدس مہینے میں حوا کی بیٹی کا تقدس حیوانیت کی بھینٹ چڑھے۔ جب ننھے ننھے ہاتھ حنا کی بجائے خون سے رنگ جائیں۔ جب ظلم کی بستی میں فرعونیت راج کرے۔ جب مہکتے پھولوں کی خوشبو کی بجائے تعفن خون پھیل جائے۔ جب اشکوں کی برسات میں بارش کی رم جھم دھندلی لگے۔ جب حوا کی بیٹی اپنے عصمت کی چادر انسانوں سے چھپاتی پھرے۔ جب انسانوں کی حیوانیت کا جادو سر چڑھ کر بولے۔ جب بستی کے باشندے ظلم پہ چپ کا دائمی روزہ رکھیں۔ جب حوا کی بیٹی کا گھر سے نکلنا جرم ٹھرے۔ جب محافظوں کے ہاتھ خون کے چھینٹوں سے الودہ ہو جائیں۔ جہاں سچ بولنا جرم ٹھرے۔ جہاں ظلم کے خلاف آواز اٹھانا غداری ہو۔ حہاں ظالم کے بڑھتے ہاتھ روکنا قانون سے کھیلواڑ ہو۔ جہاں خاموشی زندگی کی ضمانت ہو۔ جہاں مر مر کے جینا جینے کا نام ہو۔ جہاں گھٹ گھٹ کے مرنا زندہ رہنے کا نام ہو۔ وہاں پہ ایک گیارہ سالہ بچی کا درندگی کے ساتھ ریپ اور قتل صرف اک بریکنگ نیوز ہے۔ وہاں پہ صرف مذمت کافی ہے۔ مجرم کا پھانسی چڑھنا ضروری نہیں۔ وہاں پہ ایسے سوال اٹھانا لا معنی ہیں۔
حنا کے رنگ میں پھیل چکا لہو
رچ بس گئی فرعونیت کی ہر خو
پھیل رہی ہے تعفن خون ہر سو
حوا کی چادر ہے تار تار کو بہ کو
تم تلخیوں کی بات کرتے ہو


