ایک تھی ایم کیو ایم۔۔۔


\"usmanاگست کی آٹھ تاریخ کو 1986 میں الطاف حسین نے جو سفر شروع کیا تھا، وہ 30سال بعد 22 اگست 2016 کی شام کو خود اپنے ہاتھوں سے تمام کیا۔ پاکستان کو ناسورکہا، اپنے ملک کودنیا پر عذاب قراردیا ، دہشت گردوں کی پناہ گاہ  کہہ کرپاکستان مردہ باد تک کے نعرے لگا دیئے، اس کے بعد کہنے کو شاید کچھ نہیں رہ جاتا۔

شام سواچار بجے سما ٹی وی کے آفس میں ہمیں علم ہوا کہ ایم کیوایم نے ہمارے دفتر کے گھیراؤ کا اعلان کردیا ہےاور پھر سما ٹی وی کے دفتر آتے آتے ایم کیو ایم ختم ہو گئی۔  ایم کیوایم کے مرکزی دفتر کو سیل کردیا گیاہے، 30سالوں میں پہلی بار نائن زیروبند ہو گیا، کراچی میں تمام سیکٹرز اور یونٹس کے دفاتر کو تالے لگانے کے سلسلے کا آغازہوگیا، مرکزی رہنما عامرخان گرفتار ہوئے، عامر لیاقت حسین کو بھی رینجرز لے گئی، ارم عظیم فاروقی نے استعفیٰ دیدیا، ویب سائٹ بند کردی گئی، کارکنان اور رہنما منحرف ہونے لگے، دہشت گردی اور غداری کے مقدمات قائم ہوئے اور ایم کیوایم آناًفاناً 30 سال پیچھے چلی گئی

ایک محل مسمار ہوگیا، ایک ایک کرکے ستون گر رہے تھے اور یہ بلڈوزر خود اس محل کے معمار الطاف حسین نے چلایا، سارے سیاست دان  سر پٹک کر رہ گئے، تجزیہ کاروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، ایم کیوایم نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری

متحدہ قومی موومنٹ کو پرتشدداحتجاج کی ضرورت ہی نہیں تھی، میڈیا ایم کیوایم کو مکمل کوریج دے رہا تھا، چھ دن کی بھوک ہڑتال ہوئی، ایک ایک لمحہ سما ء ٹی وی نے دکھایا ، میڈیا پر حملے کا حکم دینے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں تھی، ایم کیوایم کے حکومت سے بھی معاملات طے پاچکے تھے، فاروق ستار سے پرویزرشید کی حتمی بات چیت ہوچکی تھی، وزیراعلیٰ سندھ سے بھی ایم کیوایم کا وفد مل کر اپنی تسلی کرچکا تھا، اگلے ہفتے وزیراعظم سے ایم کیوایم رہنماؤں کی ملاقات طے تھی اور پھر اچانک پاکستان مخالف نعرے لگواکر میڈیا کے دفاتر پر حملے کا حکم دیدیا گیا

ایم کیوایم کے کارکنان اے آروائے نیوزکے دفترمیں گھس گئے، کراچی پریس کلب پر موٹرسائیکل جلادی گئی، گورنر ہاؤس پر پولیس وین کو نذرآتش کردیا گیا، سما ٹی وی کی ڈی ایس این جی کو جلانے کی کوشش ہوئی، کیمرہ مین سفیر احمد پر بدترین تشدد کیا گیا، پرتشدد احتجاج کے دوران ایک شخص جاں بحق ہوگیا، ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ نےکراچی کے ریڈزون کو میدان جنگ بنادیا، یہ دوسراسانحہ 12مئی تھا

بھوک ہڑتالی کیمپ کے آخری روز الطاف حسین نے تین بار قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا، فاروق ستار آدھے گھنٹے تک ایم کیوایم کے قائد رہے ، کارکنوں کے اصرار پر فیصلہ واپس لیا تو جس شخص کو قائد بنایا تھا، اسی شخص کو مائنس الطاف فارمولے کا حامی قرار دے کر زبردست تنقید کی اورایک ایسے وقت میں جب ایم کیوایم کے لیے کوئی سامنے آنے کو تیار نہ تھا، یہی فاروق ستار کراچی پریس کلب آئے اور خواجہ اظہار کے ساتھ گرفتار ہوئےجنہیں بعدازاں رہا کردیا گیا

واقعے کے بعد سندھ کے وزیراعلیٰ اپنے عوامی انداز میں سما ٹی وی کے دفتر آئے، ٹیم سما سے فرداًفرداً ہاتھ ملایا، زخمی کیمرہ مین کی عیادت کی، سندھ رینجرز کے ڈی جی بھی ان کے ہمراہ تھے، اظہار یکجہتی کے بعد مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجودہ صورت حال پر اہم اجلاس کی صدارت کی جس کے بعد مسلسل چھاپوں اور گرفتاریوں کے سلسلے کاباقاعدہ آغاز ہوا

ایم کیوایم کے زوال نما خاتمےمیں مراد علی شاہ کے کردار کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا، متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف آپریشن ان کے والد سابق وزیراعلیٰ عبداللہ شاہ کے دور میں شروع ہوا، ان کے چچا ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کے ردعمل میں قتل کیے گئے، سندھ رینجرز کے ڈی جی بلال اکبر اور مراد علی شاہ کے درمیان کیمسٹری بہت اچھی دکھائی دے رہی ہے

لوگ کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اور ان کے نظریات کبھی ختم نہیں ہوتےمگر کیا یہ لوگ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ایم کیوایم کو سیاسی جماعت کہہ سکتے ہیں!!

ایم کیوایم کو شاید سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کے خوف سے جنرل ضیاالحق نے بنایا تھااور ستم ظریفی دیکھیں کہ جن لوگوں نے جن لوگوں کے خاتمے کے لیے ایم کیوایم کو بنایا تھا، ان لوگوں نے آپس میں مل کر ایم کیوایم کوختم کردیا، سیاسی جماعتوں کو واقعی ختم نہیں کیا جاسکتا مگر پیراشوٹرز شاید کبھی نہ کبھی ختم ہوجاتے ہیں، اگر ایم کیوایم پیراشوٹرنہیں ہے تو پھر یہ زندہ ہے الطاف زندہ ہے کا نعرہ جلد سننے کو ملے گا

کیا پاک سرزمین پارٹی ایم کیوایم کا متبادل ہے تو بس میں اتنا کہوں گا کہ دودھ کا جلاچاچھ بھی پھونک پھونک پیتاہے، اردوبولنےوالے کسی بھی ایسی جماعت پر جو لسانی بنیادوں پر قائم ہوئی ہو، بھروسہ نہیں کریں گے، جماعت اسلامی کبھی بھی اردوبولنےوالوں کی خواہش نہیں رہی، اس کو ایم کیوایم کا متبادل قرار دیا جاتا رہا ہے مگر یہ تنہا بھی الیکشن لڑلے تو اکثریتی ووٹ اسے نہیں ملیں گے

ایم کیوایم کا متبادل کراچی میں اب کوئی نہیں ہوگا، کراچی میں منقسم سیاست ہوگی، شہرقائد کے پانچ اضلاع ہیں، ابھی بلدیاتی انتخابات میں دو اضلاع پیپلزپارٹی سخت مقابلے کے بعد جیتے ہے، اگر پی پی کو گراؤنڈ پر فئیر چانس دیا جائے تو یہ ایک ضلع اور لے سکتی ہے، تحریک انصاف کے لیے کراچی میں بہت گنجائش ہے، اردو بولنےوالوں میں عمران خان بہت مقبول ہیں، اگر وہ درست فیصلے کریں تو کراچی سے پانچ سے سات سیٹیں بھی نکال سکتے ہیں، کراچی میں وفاقی سیاسی جماعتوں کے علاوہ کوئی دوسرا سیٹ اپ اب نہیں آسکتا اور یہ اس شہر کا فطری انتخاب ہوگا کیونکہ کراچی ایک وفاقی شہر ہے، یہاں چاروں صوبوں کی مکمل نمائندگی موجود ہے۔

Facebook Comments HS