وقت سے پہلے وکٹیں اکھاڑنے کی عادت ابھی گئی نہیں شاید


کرکٹ میچ کے دوران اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ آخری کھلاڑی کے آوٹ ہو نے پر امپائر کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی مخالف ٹیم کے کھلاڑی اپنی فتح کے یقین اور جذبات کے ہاتھوں مجبور ہوکر وکٹیں نکال لیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ عمل امپائر کو دباؤ میں لانے کے لیے بھی کیا جاتا ہے لیکن منظر تب بدلتا ہے، جب امپائر ناٹ آوٹ کا اشارہ دے دیتا ہے اور مجبوراَ وکٹیں دوبارہ لگانی پڑتی ہیں۔ خان صاحب بھی ماضی میں کرکٹ کے کھلاڑی رہے ہیں، ہو سکتا ہے میچ کے دوران انھوں نے بھی فیصلہ آنے سے پہلے وکٹیں اکھاڑی ہوں۔ خیر سے وہ اب ایک بڑے منصب پر پہنچ چکے ہیں لیکن حتمی فیصلے سے پہلے ہی وکٹیں اکھاڑنے کی عادت، ابھی اُن میں اور ان کی حکومت میں موجود ہے۔

حکومت میں آنے کے بعد خان صاحب نے اعلان کیا ایک غیر ملکی کمپنی کراچی کے قریب گہرے سمندر میں تیل کی تلاش کے لیے کھدائی کرے گی۔ اس اعلان کے بعد ہی نا صرف حکومتی نمایندوں بلکہ فیس بکی تجزیہ کاروں کی جانب سے وکٹیں اکھاڑنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک وقت تو ایسے لگنے لگا جیسے بس اب تیل نکلے گا اور ملک تیز رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرنے لگے گا۔ کچھ نے تو یہ دعویٰ بھی کردیا کہ اس جگہ دنیا میں موجود تیل کے بڑے ذخائر میں سے ایک ذخیرہ دریافت ہو سکتا ہے۔

حکومتی نمایندے بھی عوام کو اُمید دلاتے رہے۔ کبھی اگلے دس روز کو اہم کہا گیا تو کبھی 48 گھنٹوں کو۔ خود خان صاحب بھی قوم کو خوشخبری سنانے کے لیے بے تاب نظر آئے۔ بالآخر ہفتے کے روز وزارت پیٹرولیم نے اعلان کیا کہ تیل کی تلاش ناکام رہی اور وکٹوں کو دوبارہ لگانے (کھدائی سے بننے والے سوراخ کو بھرنے) کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

اس طرح کے شوشے چھوڑنے اور وقت سے پہلے وکٹیں اکھاڑنے کی یہ کوئی پہلی مثال نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ ایک وفاقی وزیر نے بھی چند ہفتوں میں ملک میں نوکریوں کی بارش ہونے کا اعلان کیا تھا۔ آنے والے دنوں میں بارش تو ہوئی لیکن نوکریوں کی نہیں۔

شاید خان صاحب اور ان کے رفقا کو اب تک اپنے حکومت میں آنے کا یقین نہیں ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک خود کو کرکٹ ٹیم کا کپتان تصور کر رہے ہیں اور حکومت کو بھی اسی طرز پر چلا رہے ہیں۔ لیکن انھیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ حکومت محض شوشے چھوڑنے سے نہیں چلتی۔ عوام ایک حد تک ہی جھوٹے دلاسے برداشت کریں گے۔ خا ن صاحب اور ان کی ٹیم کو چاہیے کہ وقت سے پہلے وکٹیں اکھاڑنے سے پرہیز کریں۔ ضروری نہیں ہے کہ امپائر کا فیصلہ ہر بار ان کے حق میں آئے۔

Facebook Comments HS