پندرہ رمضان المبارک، عالمی یوم یتامی، ہمارے بچے، ہماری ذمہ داری
پاکستان سمیت مسلم دنیا میں 15 رمضان المبارک کو یوم یتامیٰ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی سینیٹ اور مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کی قراردادیں منظور کی ہوئی ہیں۔ وطن عزیز سمیت دنیا بھر میں ناگہانی آفات، بے امنی، صحت کی سہولیات کی کمی، حادثات، مسلم ممالک میں دہشت گردی کے باعث جہاں ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، وہیں لاکھوں بچے بھی یتیم ہو گئے۔ یہ بچے تعلیم و تربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی، سماجی محرومیوں اور بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی، حادثات، قدرتی آفات سے متاثر ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے 2017ء میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے، صرف پاکستان میں مذکورہ وجوہ کی بنا پر سترہ برس کی عمر تک کے 42 لاکھ بچے اپنے والد سے محروم ہو چکے ہیں۔
اس گمبھیر صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں غیر سرکاری سطح پر یتیم بچوں کی خدمت کرنے والی این جی اوز نے "پاکستان آرفن کیئر فورم” تشکیل دیا ہے۔ اس فورم میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان، قطر چیرٹی، صراط الجنۃ ٹرسٹ، خبیب فاؤنڈیشن، سویٹ ہومز’ فاؤنڈیشن آف دی فیتھ فل، ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ، مسلم ایڈ، اسلامک ریلیف پاکستان، ہیومن اپیل، ریڈ فاؤنڈیشن، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ، تعمیر ملت فاؤنڈیشن، ایدھی ہومز اورانجمن فیض الاسلام شامل ہیں، جو اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے یتیم بچوں کی خدمت کررہے ہیں۔
اس نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے متفقہ قرارداد منظور کیں کہ 15 رمضان المبارک کو یتامیٰ کا عالمی دن منایا جائے۔ اس سے قبل اسلامی ممالک کی تنظیم اور آئی سی نے بھی اپنی قرارداد نمبر 1/40 ICHAD آرٹیکل نمبر 21 میں تمام اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ 15 رمضان المبارک کو یتامیٰ کے دن کے طورپر منائیں۔
بحیثیت مسلمان ہمارا کامل یقین ہے کہ یتیم کی کفالت، اللہ کی شکر گزاری اور روز قیامت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی رفاقت کے لیے بہترین عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔ نبی صلی للہ علیہ وسلم کے اقوال اور فرمودات قرآن سے کفالت یتامیٰ کی ترغیب ملتی ہے۔ صحابہ ؓ اس سنت کی پیروی کی خاطر یتامیٰ کوتلاش کیا کرتے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا نظام اور کسی معاشرے کا امتحان ہے کہ ان بچوں سے معاشرہ کیا سلوک کرتاہے۔ ان کو قومی و ملی سرمایہ خیال کرتا ہے یا کوئی محکوم اور محتاج سمجھتا ہے۔
شریعت کی اصطلاح میں "یتیم” ان بچّوں کو کہا جاتا ہے، جن کے والد بہ رضائے الٰہی دُنیا سے رُخصت ہو چکے ہوں۔ عموماً یتیم بچّہ، شفقتِ پدری سے محروم ہو کر رشتے داروں اور معاشرے کے رحم و کرم کا محتاج ہو جاتا ہے۔ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، جس میں یتیموں کی بہتر طریقے سے پرورش اور تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنی سگی اولاد کی طرح یتیم بچّوں کے بھی تعلیمی اخراجات اپنی استطاعت کے مطابق برداشت کریں اور ان کی بہترین تعلیم و تربیت کریں۔ یتیم کی کفالت اور پرورش کرنا، انہیں تحفظ دینا، ان کی نگرانی کرنا اور ان کے ساتھ بہترین سلوک کرنا ایسا صدقہ جاریہ ہے کہ جس کے اَجر و ثواب کا اللہ نے خود وعدہ کر رکھا ہے۔ جبکہ یتیموں کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں کوسخت ترین عذاب کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’بہترین گھر وہ ہے، جہاں یتیم ہو اور اس کے ساتھ نیکی کی جاتی ہو اور بد ترین گھر وہ ہے، جہاں یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو۔‘‘
یتیم بچّے، بچیّوں کے سرپرستوں کی ذمّے داری ہے کہ وہ پرورش و کفالت کے بعد ان کی بہتر اور مناسب جگہ شادی کا اہتمام کریں، خصوصاً یتیم بچیّوں کی شادی کرنا یا ان کی شادی کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنا بڑے، اَجر و ثواب کا کام ہے۔ یاد رکھیے! یتیم کی آہیں اور بد دُعائیں عرش بھی ہلا دیتی ہیں۔ روزِ قیامت ہم سب کو اللہ کے حضور ڈھائے گئے ظلم و جبر کا حساب دینا ہو گا۔ اخلاقیات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جو درجہ ہم اپنی اولاد کو دیتے ہیں، وہی حیثیت یتیم کو بھی دیں۔ ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمے داری ہے کہ ہم آگے بڑ ھ کر اپنی زبان، عمل اور رویوں سے معاشرے کو یتیم دوست بنائیں۔ ان کی زندگی میں امید کو روشن کریں، ہم ان کا حق ادا کریں گے تو یہ کاوش یقیناً ہمارے لیے اجر عظیم کی بھی ضمانت ہو گی۔ معاشرے کے ارباب اختیار سے والدین جیسی شفقت کی امید لگائے، یہ بچے ہماری توجہ اور پیار کے متقاضی ہیں۔ سرکاری، سماجی اور انفرادی سطح پر ان کی کفالت حوالے منظم منصوبہ بندی اور مربوط قانون سازی ہونی چاہیے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یتامیٰ کے دن پر پروگرام اور میڈیا میں مہم چلائی جائے۔ تمام بڑے شہروں میں یتیم بچوں کی تعلیم، صحت و دیگر ضروریات کے لیے مختلف منصوبے ترتیب دیے جائیں۔ ذرائع ابلاغ کو پابند کیا جائے کہ وہ یتیم بچوں کی کفالت کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور روزانہ کم از کم 10 منٹ کفالت یتیم کے لیے وقف کرے۔ سیاسی رہنماؤں پر زرد دیا جائے کہ وہ یتیم بچوں کی وراثت کے تحفظ کے لیے قانون سازی کریں، ان کی حفاظت، بہتر پرورش نیز ان کو بے راہ روی، نشہ اوردیگر خطرات سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور دیگر اداروں میں یتیم بچوں کے لیے رعایت مقرر کی جائے۔ مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کو پابند کیا جائے کہ ہر این جی او اپنے ہاں یتیم بچوں کا شعبہ قائم کرے گی اور اپنے وسائل کا ایک حصہ اس شعبے کے لیے وقف کرے گی۔ کفالت یتیم کو نصاب تعلیم میں شامل کیا جائے۔ جو افراد یتیم بچوں کی کفالت کررہے ہوں انہیں ٹیکس میں چھوٹ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
پاکستان میں کئی فلاحی تنظیموں نے یتیم بچوں کی کفالت کا بیڑا اٹھایا ہواہے۔ انہیں ایک تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن کفالت یتامیٰ کے حوالے سے ملک و بیرون ملک شہرت رکھتی ہے۔ اس ادارے کے تحت کراچی اوراندرون سندھ سمیت تمام صوبوں میں گیارہ ہزار437 سے زاید بچوں کی ان کے گھروں پرکفالت ہو رہی ہے۔ بچوں کی تعلیم، صحت، خوراک اور ہم نصابی سرگرمیوں پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ بچوں کی تعلیمی کارکردی کی رپورٹ بچوں کی کفالت کرنے والے مخیر حضرات کو ارسال کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ والدین سے محروم بچوں کی پرورش و تربیت، قیام و طعام، تعلیم و صحت اور ذہنی و جسمانی نشو و نما کے لیے ساز گار ماحول فراہم کرنے کے لیے اٹک، راولپنڈی، راولا کوٹ، باغ، پشاور مانسہرہ، اسلام آباد، شیخو پورہ، راولپنڈی اور مری میں الخدمت آغوش سینٹرز قائم ہیں، جہاں 788 بچے قیام پذیر ہیں۔ جبکہ کراچی، لوئر دیر، گوجرانوالہ اور اندرون سندھ کے ضلع مٹیاری میں آغوش کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔
ہالا ضلع مٹیاری میں 2 ایکڑ رقبے پر زیر تعمیر الخدمت آغوش کا تعمیراتی کام 2020 تک مکمل ہو گا۔ تعمیر کے بعد سندھ بھر سے مستحق اور تعلیمی معیار پر پوار اترنے والے 200 بچوں کے لئے رہائش، خوراک، تعلیم و دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اِس ماں جیسی آغوش عمارت میں تعلیم یافتہ انتظامی عملہ موجود ہے، جو بچوں کے لیے نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لئے صحت مند ماحول کا اہتمام کرتاہے۔ آغوش کے قریب ہی بچوں کے لییا سکول کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ آغوش الخدمت میں کمپیوٹر لیب، لائبریری، اسپورٹس گراؤنڈ، ان ڈور گیمز اوربچوں کی نفسیاتی نشو و نما کے لیے مختلف لیکچرز اور تعلیمی ٹورز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
الخدمت فاؤنڈیشن نے آغوش میں جس بات کو خاص اہمیت دی وہ یہ ہے کہ بچوں کو یہ احساس نہ ہو کہ یتیم ہونا خدا نخواستہ کوئی بری بات یا عیب ہے۔ ہمارے پیارے نبیﷺ بھی یتیم تھے۔اور یہ وجہ ہے کہ الخدمت کے زیرِ کفالت بچے احساس کمتری کے بجائے پُر اعتماد رہتے ہیں۔
رمضان المبارک میں ہر عمل کا اجر بڑھ جاتا ہے، زکوٰۃ سال کے کسی بھی مہینے یا دن ادا کی جا سکتی ہے لیکن ہر وہ شخص جس پر زکوٰۃ فرض ہے کوشش کرتاہے کہ ماہ مبارک میں زکوٰۃ ادا کرے، اہل خیر حضرات اس ماہ روزہ داروں کو افطار و سحری کرواتے ہیں،غریب گھرانوں میں راشن ڈلواتے ہیں، والدین، اہل خانہ اور رشتے داروں کو تحائف پیش کرتے ہیں، اس ماہ مبارک میں یتامیٰ کی کفالت کا ذمہ اٹھانے کا اجر اور بھی بڑھ جاتا ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے کام کا شخص وہی ہے جو بھلائی کے کام کرتا ہے۔ یتیم، مسکین اور محکوم و مجبور لوگوں کے کام آتا ہے۔


