کامریڈ حیدر بخش جتوئی:سندھ کی کسان جدوجہد کا ہیرو
سندھ دھرتی ہمیشہ سے دلیر، بہادر، نڈر، با صلاحیت اور آدرشی انسانوں کو جنم دیتی رہی ہے، جنہوں نے اپنی عقل و دانش، جہد و مزاحمت سے دھرتی کے باسیوں کی عزت، آزادی اور خوش حالی کے لئے دن رات ایک کر دیے۔ ایسے ہی مہان اور متحرک انسانوں میں کامریڈ حیدر بخش جتوئی کا شمار بھی ہوتا ہے۔ حیدر بخش جتوئی ”جئے سندھ“ نعرے کے خالق، انقلابی ادیب، مصنف، قانون دان اور سیاستدان تھے۔
کامریڈ حیدر بخش جتوئی موہنجو داڑو کی اسی مٹی کے انسان تھے، جس مٹی کے لوگ جب دنیا تہذیب کے تصور سے کوسوں دور تھی، وہاں کے لوگ اعلیٰ تہذیب و تمدن کے مالک تھے، موہنجو داڑو سے چند کلومیٹر دور تاریخی شہر بکو دیرو میں 7 اکتوبر 1901 کو پیدا ہوئے۔ کامریڈ غالبا دو سال کے تھے، جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا۔ پھر انہیں والد، دادا اور پھوپھی نے انہیں پالا، انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈوکری اور لاڑکانہ سے حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے بمبئی یونیورسٹی سے بی اے کیا، بی اے کرنے کے بعد سال 1927 میں محکمہ ریونیو میں ہیڈ منشی مقرر ہوئے، جبکہ بعد میں امتحان پاس کرکے مختیار اور پھر کلیکٹر بنے۔
سندھ کے کسانوں کی ابتر حالت اور مظلومیت دیکھ کر کلیکٹر کی نوکری سے مستعفی ہو کر 1945 میں سندھ ہاری کمیٹی میں شامل ہوئے، شیخ عبدالمجید سندھی، جی ایم سید، جمشید مہتا اور دیگر کی کوششوں سے بننے والی تحریک جو کہ خاصے عرصے سے غیر فعال ہوچکی تھی، وہ پھر سال 1945 میں حیدر بخش جتوئی کی شمولیت سے نئے رنگ اور جذبے میں آ گئی تھی۔ جتوئی صاحب نے اپنے خیالات اور نظریات کو عملی شکل میں پیش کرنے کے لئے ہفتہ وار اخبار ہاری حقدار جاری کرکے سندھ کے کسان انقلاب کے راستے اور منزل کو آسان بنایا، جاگیرداروں اور وڈیروں کی طرف سے کسانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کے علاوہ کسانوں کے مسائل کو اٹھانے کے لئے جدوجہد شروع کی۔
کامریڈ حیدر بخش کی رہنمائی میں کسانوں میں شعور پیدا ہوا اور کسان سندھ ہاری کمیٹی کے پلیٹ فارم سے صدیوں سے قابض وڈیروں، سرداروں اور جاگریداروں کے سامنے ڈٹ گئے اور انتخابات میں حصہ لیا، اور پہلے مرتبہ وڈیرے اپنے بنگلوں سے نکل کر لوگوں کے دروازوں تک ووٹ مانگنے گئے۔
سندھ ہاری کمیٹی انگریزوں ہندوستان خالی کرو تحریک میں کانگریس اور بھارت کسان سبھا کی اتحادی بنی، اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر سندھ کے بے زمین کسانوں کو ووٹ کا حق دلانے کے لئے بھی کامریڈ نے زبردست جدوجہد کی، جبکہ سندھ ٹئننسی ایکٹ کے لئے بھی بھرپور مزاحمت کی، سندھ ہاری کمیٹی کا صدر منتخب ہونے کے فوراََ بعد انہوں نے بڑے پیمانے پر کسان جدوجہد تیز کی اور 1950 میں سندھ کی تخت گاہ کراچی میں ہزاروں کسانوں کے ساتھ سندھ اسمبلی کا گھیراؤ کیا، جس کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ یوسف ہارون نے سندھ ٹئننسی ایکٹ اسمبلی سے منظور کروایا۔ سندھ کے کسانوں کی آزادی اور خوشحالی کے لئے اپنی زندگی قربان کرنے والے کامریڈ حیدر بخش نے 1955 میں ون یونٹ کے خلاف سخت جدوجہد کی، انہوں نے جی ایم سید کے ساتھ مل کر ون یونٹ کے خلاف قرارداد منظور کروائیں۔
کامریڈ حید بخش جتوئی وہی شخص تھے، جنھوں نے جئے سندھ جئے سندھ۔ جام محبت پیئے سندھ کا نعرہ لگایا، ان کی شاعری کے یہ اشعار آج بھی کروڑوں محنت کشوں کو یاد ہیں، ان کی شاعری کا محور ہمیشہ سندھ رہا، ان کی جدوجہد، مزاحمت، خیالات، نظریہ آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، آج یعنی 21 مئی ان کی وفات کا دن ہے۔ ہم آج سندھ کی کسان جدوجہد کے ہیرو کامریڈ حیدر بخش جتوئی کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔


