لیاقت علی: جھوٹے آدمی کے اعترافات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بعض دوست، مجھے کتب بینی کا قاعدہ سکھاتے ہیں، کہ کتاب کا شروع سے آخر تک، باقاعدہ مطالعہ مفید ہے، لیکن میں اس راسخ العقیدگی کی پیروی کبھی نہیں کر سکی۔ اکثر میرے ساتھ یہی ہوتا ہے کہ کتاب ملی، کہیں سے بھی کھولی اور مطالعہ شروع کردیا۔

یہی سلوک میں نے لیاقت علی کے افسانوی مجموعے ”جھوٹے آدمی کے اعترافات“ کے ساتھ بھی کیا۔ کتاب کھولنے پہ صفحہ 92 کی آٹھویں لائن کے ایک شعر پہ نگاہ ٹھہر گئی:

میرا ذکر پڑھنے والے میرا راستہ نہ چن لیں
سرورق یہ بھی لکھنا مجھے مات ہو گئی ہے

پھر کیا تھا، اسی بے ترتیبی سے مطالعہ جاری رہا لیکن کتاب کے اختتام پہ ان کہانیوں کا متن میرے ذہن و قلب پہ مکمل ترتیب سے منعکس تھا۔ ”جھوٹے آدمی کے اعترافات“ اس کتاب کا گیارہواں افسانہ ہے، اور یہی اس مجموعے کا نام بھی ہے۔ اماں ابا فری اور پروفیسر شفیق کے کرداروں پہ مشتمل یہ افسانہ، جھوٹ اور سچ کے درمیان لٹکتے سماج کے المیوں کا عکس ہے۔

اپنی اماں کے پڑھائے اس سبق کہ جن کی نیت ٹھیک نہیں، وہ کبھی بڑے نہیں ہوتے، کے حصار میں پروان چڑھتا اس کہانی کا مرکزی کردار غلام اصغر زندگی بھر تضادات کے حصار میں جیتا ہے۔ وہ اپنی نیت اور عمل میں مطابقت پیدا نہیں کر پاتا۔ ریٹائرڈ زندگی کی اُکتاہٹ اسے کچھ لکھنے پہ مجبور کرتی ہے لیکن وہ اس اعتراف پہ خود کو مجبور پاتا ہے کہ جھوٹ اس دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ اگر کسی افسانے کا قاری کو متاثر کرنا اس افسانے کی کریڈیبلٹی میں شمار ہوتا ہے تو اس افسانے نے مجھے شدید طور پہ متاثر کیا ہے۔

اس مطالعے نے ایک سوال میرے سامنے لا رکھا۔ کیا جسے لوگ سچا کہیں وہ واقعی سچا ہے اور خود کو سچا سمجھتا ہے۔ اور کیا ہمارا معاشرہ اس سچ کی تلخی کسی زمانے میں گوارا کرنے کا اہل ہو سکتا ہے؟ جو حقیقت میں جھوٹ کے لبادے میں ملبوس ہو۔

انسان کے اندر کی اتھل پتھل کو سماج تو نہیں دیکھتا لیکن ایک تخلیق کار دیکھ لیتا ہے، کیونکہ تخلیق کار انسانی جذبات و احساسات کی باریکیوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ یہی آگہی اور کشمکش کسی فن پارے، افسانے ناول یا آرٹ کے کسی اور نمونے کی شکل میں ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

جیسے لیاقت علی کے اعترافات کی یہ کہانیاں، جو افراد ہی نہیں سماج کی کیفیت کا بھی عکس ہیں، اور خود کو ہی نہیں اس معاشرے کو بھی سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ کہانی خاص طور سے ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ہم بچوں کی تربیت کرتے ہوئے کتنی خطرناک غلطیاں کر جاتے ہیں۔ ان کے ننھے ذہنوں میں اُٹھنے والے سوالات کا جواب اپنی عمر، دانش اور سماج کے تقاضوں کے مطابق دے کر کچی عمر میں کئی نفسیاتی خرابیاں پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

اس کہانی کا ہم موڑ، جب فری سے محبت کا سچ اصغر کو مہنگا پڑ گیا، ابا جیسے، بننے اور پہلی پوزیشن کی خواہش پالنے اور پھر تسلسل سے محرومی گلے لگانے کی نفسیات، جو اس کی شخصیت میں کئی عوارض و تضادات کا باعث بنی، شاید ہم کئی موضوعات سے نگاہ چرا لیتے ہیں۔ منافقت یا بزدلی جو بھی کہیں، میرے پاس بھی بس ایک جملے کا سہارا ہے کہ کئی سچ بولنے کے لیے نہیں ہوتے۔ اس مجموعے میں بس یہی افسانہ نہیں لیکن مجھے کتاب پڑھنے پہ مجبور کرنے والا یہی افسانہ ہے۔

’’رول نمبر 10‘‘ ہماری جامعات کے آس پاس گھومتی اور جھانکتی کہانی ہے ’’رول نمبر 10‘‘ بظاہر خلوص کی بنیاد پر بنا خلوص سے عاری پر خلوص تعلق ہے۔ میرے خدا کیا ہم ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے بے رحمی کی حد تک تضاد اور فساد والے۔ اپنی خواہشوں کے آگے سجدہ ریز پارسائی کے خول چڑھائے لیکن اندر کے درندوں کی خوراک کے لیے ہر دسترخوان پہ منہ مارتے، شناخت، اپنا وجود منوانے کے لیے پرانی شناخت سے جان چھڑوانا ایک اور مصیبت بن کر سامنے آیا۔

افسانہ ”شناخت“ کا کردار اسی دہری مشکل میں گرفتار نظر آتا ہے۔ مکوڑے کی علامت بقول قاضی عابد جب پہاڑوں کی اور سے آنے والے ان مکوڑوں سے جب بڑے بڑے تخلیق کار ڈر رہے تھے لیاقت علی یہ کہانی لکھ رہا تھا۔ مکوڑوں کی بظاہر اس بے ضرر سی مخلوق نے کیسے جنت نما گھر کو کھنڈر اور سرائے بنا کر رکھ دیا۔ مکوڑا ایک کمزور لیکن تخریب کی خوفناک علامت ہے۔

اس مجموعہ کا پہلا افسانہ فتح کے خمار سے لگاتار شکست کی طرف بڑھتی قوم کی نفسیاتی اور ذہنی بد حالی کی علامت ہے، جس کا گھوڑے بدلنے کی علامت سے حل تلاش کر کے کسی حد تک ذہنی آسودگی کا سامان کیا گیا۔ مجموعی طور پہ یہ سب افسانے ہماری انفرادی نفسیات جو تضادات کی بنیاد پہ پروان چڑھی کا عکس ہیں۔ ان کہانیوں میں ہم جا بجا خود اور اپنے سماج کو حقیقی اور علامتی سطح پر دیکھ سکتے ہیں۔

’’نقاط‘‘، میں ضیغم رضا لیاقت علی کے افسانوی مجموعہ ”جھوٹے آدمی کے اعترافات“ پہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”موجودہ عہد میں دنیوی کامیابی کے جو پیمانے ہیں ان کے برعکس نیت کا ٹھیک ہونا بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے اور ظاہر ہے اس کا نفسیاتی ردِ عمل حد درجہ مایوسی کی صورت میں سامنے آتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اگر ہمارے پیش نظر ہمارے عہد کی کی ملکی صورت حال رہے، تو یہ جھوٹ بھی سچ لگے گا۔ ذرا ایک نظر، پرچھائیاں، گمشدہ لوگ، گنبدِ بے در، اور مہیب سائے کو دیکھیے کیا ایسی صورت حال میں بے اعتباری اور بے یقینی کی فضا با معنی نہیں؟

’’گم شدہ لوگ‘‘، رمز و کنایہ سے مملو یہ کہانی ہمارے ملک کے گم شدہ لوگوں کو موضوع بناتی ہے مگر اس طرح کہ پسینہ افسانہ نگار کے ماتھے سے بہ رہا ہے۔ اس کرب کو ”پرچھائیاں“ اور ”گنبدِ بے در“ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ پھر ”بلڈی سویلینز، کی اصطلاح استعمال کرنے والے ’’مہیب سائے‘‘ بھی ہیں، جو اپنے پیاروں کو خونم خون کر رہے ہیں۔ ایسے میں ’’مکوڑے‘‘ ہیں کہ دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں اور ان کا سدِ باب ہم سے ہونے میں نہیں آتا۔ ’’مکوڑوں‘‘ کے ساتھ رہنے کی عادت بھی ہماری ’’شناخت‘‘ کو مسخ کر رہی ہے۔ سو حیلہ یہی ہے کہ اپنی عصبیت بدلی جائے؛ ایک سچ اگر جھوٹ ثابت ہو جائے تو ایک اور سچ تشکیل دے لیا جائے اور یہی رویہ گھوڑے میں سامنے آتا ہے جو قدرے متوازن ہے۔

” جنریشن گیپ“ کے مشترکہ جنوں کا حاصل افسانے میں شیگی سے کہلوایا گیا یہ جملہ ہے:
”یار شیگی اللہ محنت کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“
مذکورہ بالا تمام افسانوں میں رمز و علامت کا برتاؤ اس سلیقے سے کیا گیا ہے کہ کہانی ذرا بھی متاثر نہیں ہوتی۔ باقی افسانوں کی بات کی جائے تو مذکورہ بالا افسانوں کے بر عکس ایک تو ان میں علائم سے کنارہ کشی اختیار کی گی ہے۔ دوسرا یہ کہ اجتماعی صورت حال کے بر عکس ذاتی و نفسی رویوں کو زیادہ موضوع بنایا گیا ہے۔ اگر چہ موضوعات یہاں بھی سماج سے چنیدہ ہیں مگر ان سب کا مرکز ومحور فرد اور بالخصوص عورت ہے۔ زن، زر، اور زمین میں سے افسانہ نگار کے نزدیک زن وہ مرکز ہے کہ ذات و کائنات ہے جس کے گرد کائنات کی جنت گھومتی ہے، مگر یہ ہمارے خطے کی بد نصیبی ہے کہ جہاں عورت خود بھلے رنگینی کا سامان ہو مگر اس کی قسمت میں سنگینی لکھ دی گئی ہے۔ یہی سنگینی درحقیقت لیاقت علی کا کا اصل موضوع ہے، جسے انھوں نے اس مجموعے کے بیش تر افسانوں میں برتا۔ ’’جنتِ گم گشتہ، فصیلِ ذات، ادھوری کہانی، بلیک ہول‘‘ میں ہچکچاہٹ اور اپنی خواہشات کو بالجبر دبانے والے نسائی کرداروں سے ہمیں واسطہ پڑتا ہے۔

ضیغم رضا نے اس بحث کو کچھ یوں سمیٹا ہے:
عورت کے حقوق پہ بات ضرور کرنی چاہیے مگر اس سے پہلے خود عورت کی نفسیات، جبلت اور بنیادی تقاضوں سے آشنائی بھی یقیناً اہم ہے کہ جس کو سمجھنے کے لیے ان افسانوں میں لیاقت علی نے مقدور بھی کوشش کی ہے۔“
(’’نقاط‘‘ کتاب نمبر۔ شمارہ دسمبر 2018)

لیاقت علی اپنی کہانیوں کے پاؤں اپنی مٹی میں پیوست قرار دیتے ہیں۔ ان افسانوں پہ اپنا اظہار کتاب کے پہلے صفحات پہ وہ کچھ یوں بیاں کرتے ہیں:
”مجھے اس وقت سخت کوفت ہوتی ہے جب افسانے کو جھوٹ کا مترادف تصور کر لیا جاتا ہے۔‘‘

افسانے کو سماجی حقیقتوں سے کاٹنے کی کوشش کا ایک سبب اس کی مدرسانہ تفہیم بھی ہے، جب استاد لفظوں کو چبا چبا کر بتاتا ہے افسانے کا مطلب ہے من گھڑت کہانی، وہ کہانی کو افسانے کا ناگزیر حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی کہانیاں اسی سماج کے دکھ، المیے اور تضادات ہیں، قاضی عابد اسے دہشت میں دہشت کی کتھا اور وقت پہ بولا گیا سچ قرار دیتے ہیں۔
”یہ کہانیاں حقیقت پسندی اور علامت کا بہترین امتزاج پیش کرتی ہیں‘‘۔
حمید شاہد کے بقول:
”جھوٹے آدمی کے اعترافات ایسے افسانوں کا مجموعہ ہے جو سچے تخلیق کار کے خلوص بھرے قلم کی عطا ہو کر بہت اہم ہو گیا ہے۔“

شہرزاد کے نام معنون یہ مجموعہ، بیکن بک ہاوس ملتان نے، بہترین کاغذ پر مناسب قیمت اور خوبصورت سرورق کے ساتھ شایع کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •